
خوشاب میں احمدی شہری پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب وہ اپنے فارم ہاؤس سے واپس آ رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد ابھی تک ملزمان کی گرفتاری نہ ہو سکی ہے
منصور چٹھہ.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
چناب نگر/خوشاب:ضلع خوشاب میں ایک احمدی شہری، مبشر احمد ورک، پر قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے کے بعد اس واقعے کی تحقیقات میں پیشرفت نہ ہونے پر انسانی حقوق کے حلقوں اور جماعت احمدیہ پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبشر احمد ورک، جو ایک شریف النفس اور باعزت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، پر یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب وہ اپنے فارم ہاؤس سے واپس آ رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد ابھی تک ملزمان کی گرفتاری نہ ہو سکی ہے، جس پر مختلف حقوق کی تنظیموں نے پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کی اپیل کی ہے۔
واقعہ کی تفصیلات:
واقعہ 29 دسمبر 2025 کی شام، تقریباً پونے چھ بجے پیش آیا، جب مبشر احمد ورک اپنے فارم ہاؤس سے موٹر سائیکل پر واپس آ رہے تھے۔ اس دوران ایک نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ گولی ان کے پیٹ میں لگی اور آرپار ہو گئی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوراً ڈی ایچ کیو ہسپتال خوشاب منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ان کی حالت میں بہتری نہ آئی اور انہیں مزید علاج کے لیے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس وقت وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مبشر احمد ورک کی عمر 55 سال ہے اور وہ ایک معتبر اور باعزت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی یا تنازعہ نہیں تھا، اور وہ ایک امن پسند شخص ہیں۔ ان کے حملے کی نوعیت اور پس منظر میں ایک خاص مذہبی و سماجی تنازعہ موجود ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماضی کے واقعات:
مبشر احمد ورک کی فیملی اور جماعت احمدیہ پاکستان کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ خوشاب میں احمدی کمیونٹی کو ایک عرصے سے مختلف اقلیتی گروہ اور انتہا پسند عناصر کی جانب سے مخالفت، دباؤ اور تشدد کا سامنا رہا ہے۔ مبشر احمد ورک کا خاندان ماضی میں بھی ان حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی 2025 میں جوہرآباد خوشاب میں ان کے خاندانی گھر کا انتہا پسند عناصر کی جانب سے گھیراؤ کیا گیا تھا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھیں۔ ان کے کاروبار ’’ورک کریانہ اسٹور‘‘ کے خلاف بھی بائیکاٹ مہم چلائی جا رہی تھی، جس سے ان کے روزمرہ کے معاملات متاثر ہو رہے تھے۔
اس کے علاوہ، مئی 2025 میں ضلع خوشاب کے علاقے روڈہ میں 90 احمدی مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، جس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ یہ سب واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خوشاب میں احمدی کمیونٹی کو ایک منظم اور مسلسل حملوں کا سامنا ہے، اور یہ حملہ ان حملوں کی کڑی میں ایک اور اضافہ ہے۔
جماعت احمدیہ پاکستان کی طرف سے ردعمل:
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان، عامر محمود نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’خوشاب میں احمدی کمیونٹی کے افراد پر بار بار حملے، بائیکاٹ اور نفرت آمیز کارروائیاں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ ان واقعات کا مقصد صرف احمدیوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں اپنی مذہبی آزادی کے اظہار سے روکنا ہے۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا کہ خوشاب میں احمدیوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت، انتہا پسندی اور تشدد کی کارروائیاں ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔ اس قسم کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ان کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ جماعت احمدیہ پاکستان نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبشر احمد ورک پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف شفاف اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ’’ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور جو افراد اور گروہ اس قسم کے حملوں کی ترغیب دے رہے ہیں، ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے۔‘‘ جماعت احمدیہ پاکستان نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور احمدی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل:
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی گروہ، خاص طور پر احمدی کمیونٹی، کو مسلسل مذہبی جبر اور تشدد کا سامنا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکام کو اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اقلیتی گروپوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مذہب، عقیدہ یا فرقے کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو تشدد کا نشانہ بنانا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس پر عالمی سطح پر آواز اٹھانی چاہیے۔
حکومتی ردعمل اور عوامی رائے:
حکومت پاکستان کی طرف سے اس حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ملک بھر میں اس واقعے کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف افراد اور تنظیمیں اس حملے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائے اور ملزمان کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
یاد رہے کہ احمدی کمیونٹی کو پاکستان میں 1974 میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے انہیں مختلف قسم کے مذہبی و سماجی امتیاز کا سامنا ہے۔ ان پر کئے جانے والے حملے اور ان کے خلاف نفرت پر مبنی کارروائیاں پاکستان میں اقلیتی حقوق کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
خلاصہ:
خوشاب میں احمدی شہری مبشر احمد ورک پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور جماعت احمدیہ پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس نوعیت کے حملوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور اقلیتی گروہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔



