بین الاقوامیاہم خبریں

ملکی کرنسی لیو کو الوداع، بلغاریہ یورو زون میں شامل

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین نے بدھ کے روز کہا، ''  اور مجموعی طور پر یورپی یونین کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔‘‘

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، اے پی کے ساتھ

بلغاریہ جمعرات کو نئے سال کے آغاز کے ساتھ یورو کو اپنانے والا یورپی یونین کا رکن 21 واں ملک بن جائے گا۔ یہ تاریخی قدم ایسے وقت پر اٹھایا جا رہا ہے، جب ملک میں مہنگائی بڑھنے اور سیاسی عدم استحکام کے خدشات موجود ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین نے بدھ کے روز کہا، ”  اور مجموعی طور پر یورپی یونین کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔‘‘ ان کے مطابق یورو بلغاریہ کے شہریوں اور کاروبار کے لیے عملی فوائد لائے گا، سفر اور بیرون ملک رہائش کو آسان بنائے گا، تجارتی منڈیوں میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ دے گا اور تجارت کو سہل بنانے میں مدد دے گا۔

بلغاریہ 2007 میں یورپی یونین میں شامل ہوا تھا، لیکن اس وقت   اس ملک کو منفرد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے، جس کے سبب حال ہی میں ایک قدامت پسند حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ اس صورتحال نے ملک کو پانچ سال میں آٹھویں بار انتخابات کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

تاہم سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم روسن یلیازکوف نے منگل کے روز کہا کہ ان کی کابینہ نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق، ”بلغاریہ سال کا اختتام 113 ارب یورو (تقریباً 132.75 ارب ڈالر) کے مجموعی قومی پیداوار اور تین فیصد سے زائد معاشی ترقی کے ساتھ کر رہا ہے، جس سے یہ ملک یورپی یونین کے پانچ  سرفہرست  ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا، ”ملک میں افراط زر، جو تقریباً 3.6 فیصد ہے، بڑھتی ہوئی قوت خرید اور کم بدعنوان معیشت سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ یورو کی طرف تبدیلی سے۔‘‘

کووڈ کے دور میں بلغاریہ میں جگہ جگہ امدادی اشیاء عوام تک پہنچانے کی مہم کے دوران کچھ نوجوان خواتین امدادی اشیاء اکٹھا کر رہی ہیں
بلغاریہ میں یورو کے اجرا پر ملا جلا عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہےتصویر: Hristo Rusev/NurPhoto/picture alliance

بلغاریہ میں یورو کی آمد: خوشی ، خدشات اور لمبی قطاریں

بلغاریہ میں یورو کے اجرا پر ملا جلا عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ لوگ خوش ہیں  کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ بلغاریہ کے انضمام کو مضبوط کرے گا، جبکہ دیگر کو خدشہ ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

یہ خدشات اس سال شروع ہونے والی ایک احتجاجی مہم سے مزید بڑھ گئے، جس کا مقصدبلغارین کرنسی ‘لیو‘ کو برقرار رکھنا تھا۔ اس مہم نے اس حقیقت  کو اجاگر کیا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ یورو کے بارے میں منفی رائے رکھتا ہے۔ قومی شماریاتی ادارے کے مطابق نومبر میں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر پانچ فیصد اضافہ ہوا، جو یورو زون میں گرانی کی اوسط سے دوگنا ہے۔

صوفیہ میں ایک پیسٹری شاپ کے مالک، 33 سالہ ترگت اسماعیل نے کہا، ”بدقسمتی سے قیمتیں اب لیو کے حساب سے نہیں رہیں۔ کچھ مصنوعات کے لیے 40 لیو اب 20 نہیں بلکہ 30 یورو کے برابر ہیں۔‘‘

ان کے مطابق قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

10 دسمبر 2025: بلغاریہ میں پارلیمان کے سامنے حکومت مخالف بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا منظر
سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم روسن یلیازکوف نے منگل کے روز کہا کہ ان کی کابینہ نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہےتصویر: Spasiyana Sergieva/REUTERS

کچھ کاروباری افراد نے شکایت کی کہ یورو حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے، جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں وہ ابتدائی یورو پیکیجز نہیں ملے جو انہوں نے آرڈر کیے تھے۔ بینکوں نے خبردار کیا کہ کرنسی کی تبدیلی سے قبل بینکوں کی کیش مشینوں کے نظام میں کچھ خلل پڑ سکتا ہے۔ منگل کو لوگ صوفیہ میں بلغارین نیشنل بینک اور کرنسی ایکسچینج دفاتر کے باہر یورو حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔

بلغاریہ کے مسلمانوں میں شادی کی قدیمی رسومات

37 سالہ ایلینا شیمٹوا، جو صوفیہ میں ایک چھوٹی آرٹ گیلری اور جیولری شاپ چلاتی ہیں خوش امیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”ابتدا میں مشکلات آئیں گی، ریزگاری کی ادائیگی میں مسئلہ ہوگا، لیکن ایک ماہ کے اندر انسدر ہم عادی ہو جائیں گے۔‘‘

یورو بیرومیٹر کے تازہ سروے کے مطابق 49 فیصد بلغارین عوام یورپی مشترکہ کرنسی کے خلاف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کے دوران یورو کے اجرا کے عمل میں کسی بھی مسئلے کو یورپی یونین مخالف سیاستدان فوراً ہوا دے  سکتے ہیں ۔ روسن یلیازکوف نے زور دیا کہ یورو کو اپنانا ”بلغارین معیشت اور ملک کے ترقیاتی ماحول پر مثبت طویل المدتی اثرات ڈالے گا۔‘‘

ڈیجیٹل کرنسی، فائدے زیادہ یا نقصانات

یورپی مشترکہ کرنسی کے طور پر یورو پہلی بار یکم جنوری 2002 کو 12 یورپی ممالک میں متعارف کرایا گیا تھا، جبکہ کروشیا نے جنوری 2023 میں اس یورپی کرنسی بلاک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بلغاریہ کی شمولیت کے بعد یورو استعمال کرنے والے یورپی یونین کے باشندوں کی تعداد 35 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button