بین الاقوامیاہم خبریںتازہ ترین

امریکہ اور چین کے درمیان گرینڈ سودے بازی کا معاملہ: ٹرمپ اور ژی کس طرح تعلقات کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں؟

امریکہ نے چین کی معاشی ترقی اور جدید کاری کی حمایت کرنا شروع کی، اور چین کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے

واو زینبو چائنہ-وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
WU XINBO انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین اور فوڈان یونیورسٹی میں سینٹر فار امریکن اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

بیجنگ: امریکہ اور چین کے تعلقات ایک پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود کہ یہ دونوں ممالک عالمی سطح پر بڑی طاقتیں ہیں، ان کے درمیان تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی اور تعاون کا ایک متوازن کھیل چلتا رہا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کی قیادت ایک نئے "گرینڈ سودے” کی تیاری میں ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تنازعات کو حل کرنے اور تجارتی تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پچھلی نصف صدی میں تعلقات کی تبدیلیاں:

امریکہ اور چین کے تعلقات کی تاریخ میں دو اہم موڑ آئے ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیادوں کو نئے سرے سے متعین کیا۔ پہلا موڑ 1972 میں آیا، جب امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے چین کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران امریکہ نے اپنی روایتی "روک تھام کی پالیسی” کو ترک کر دیا اور چین کے ساتھ ہم آہنگی کی کوشش کی۔ اس وقت سوویت یونین کی طاقت میں اضافے کو روکنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ دورہ عالمی سیاست میں ایک سنگ میل ثابت ہوا، کیونکہ اس کے ذریعے چین اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔

دوسرا اہم موڑ 1990 کی دہائی کے وسط میں آیا، جب امریکہ کی کلنٹن انتظامیہ نے چین کو عالمی معیشت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے چین کی معاشی ترقی اور جدید کاری کی حمایت کرنا شروع کی، اور چین کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ اس وقت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اقتصادی مفادات کو سمجھا اور باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ یہ تعلقات عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوئے۔

ٹرمپ اور ژی: ایک نیا باب؟

موجودہ دور میں، امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی سیاست اور قیادت میں کئی اختلافات ہیں، لیکن ان دونوں کے لیے ایک نیا سمجھوتہ کرنا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ عالمی معیشت میں امریکہ اور چین کے کردار کو مضبوط کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے اپنی قیادت کے دوران چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں سخت موقف اپنایا اور تجارتی جنگ کا آغاز کیا۔ ان کے دور میں امریکہ نے چین پر تجارتی پابندیاں عائد کیں اور چینی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیے۔ ٹرمپ نے اپنے اقدامات کو چین کے غیر منصفانہ تجارتی رویے اور ٹیکنالوجی کی چوری کے خلاف ایک ردعمل قرار دیا۔ تاہم، ٹرمپ کی قیادت میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان کچھ سطحوں پر مذاکرات ہوئے، اور دونوں ممالک نے ایک تجارتی معاہدے کی کوشش کی، جو 2020 میں "پہلا مرحلہ تجارتی معاہدہ” کے طور پر سامنے آیا۔

دوسری طرف، چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی قیادت میں چین کی اقتصادی طاقت کو عالمی سطح پر بڑھایا۔ شی کی قیادت میں چین نے عالمی تجارت میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا، اور "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر میں چین کا اثر و رسوخ بڑھایا۔ شی جن پنگ نے امریکہ کی قیادت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، اور چین کو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھارنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔

تعلقات کی دوبارہ ترتیب کی ضرورت:

امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ برسوں میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ تجارتی اختلافات، ٹیکنالوجی کی چوری، اور جغرافیائی سیاست کے مسائل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا، اور دونوں طرف سے کئی اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے علاوہ، چین کی عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور امریکہ کی اس پر شدید ردعمل نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

لیکن امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو مشکلات کے باوجود دوبارہ ترتیب دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے نئے معاہدوں اور تعاون کی ضرورت ہے؟ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے "گرینڈ سودے” کے امکانات ہیں، جو عالمی اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

"گرینڈ سودے” کی توقعات:

ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان اس "گرینڈ سودے” میں دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات، ٹیکنالوجی کے تبادلے، اور عالمی سیاست میں تعاون شامل ہو سکتا ہے۔ امریکہ چین کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا خواہاں ہو سکتا ہے، جبکہ چین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اپنے بازار تک رسائی کو مزید آسان بنانے پر بات چیت کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے درمیان عالمی سطح پر جغرافیائی سیاست کے مسائل پر بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں، جیسے کہ بحر چین جنوبی، تائیوان، اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مسائل۔ دونوں رہنماؤں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو کم کریں اور ایک ایسی بنیاد پر اتفاق کریں جس سے دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

WU XINBO کا تجزیہ:

چین کی فوڈان یونیورسٹی کے سینٹر فار امریکن اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، WU XINBO نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات کی تاریخ میں دو بار ایسے موڑ آئے ہیں جس نے ان کے تعلقات کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔ 1972 میں نکسن کے دورے اور 1990 کی دہائی میں کلنٹن انتظامیہ کی پالیسیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تبدیلی آئی، اور اب دونوں ممالک کے لیے ایک نیا باب لکھنے کا وقت آ چکا ہے۔ WU XINBO کے مطابق، امریکہ اور چین کے درمیان اس وقت جو حالات ہیں، وہ دونوں ممالک کے لیے ایک نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں، جو نہ صرف تجارتی تعلقات بلکہ عالمی سیاست میں بھی استحکام کا باعث بنے۔

نتیجہ:

امریکہ اور چین کے تعلقات کی دوبارہ ترتیب دینے کا عمل نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کو اس وقت ایک ایسا معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ان کے تجارتی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ ہو، بلکہ عالمی سیاسی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے لیے یہ ایک چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو یہ ایک نئے دور کی شروعات ہو سکتی ہے، جو عالمی سطح پر امن، ترقی، اور تعاون کا باعث بنے۔

خلاصہ:
امریکہ اور چین کے تعلقات کی تاریخ میں دو بار ایسے موڑ آئے ہیں جنہوں نے ان کے تعلقات کی شرائط کو نئے سرے سے متعین کیا۔ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک "گرینڈ سودے” کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، جس میں تجارتی تعلقات، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور عالمی سیاسی مسائل پر تعاون شامل ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے رہنما ٹرمپ اور شی جن پنگ کو تعلقات کی دوبارہ ترتیب دینے کے لیے ایک نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button