پاکستاناہم خبریں

پاکستان کا یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

اکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امید ظاہر کی کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں باہمی تعاون کے ذریعے دیرپا حل کی جانب بڑھیں گی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد: پاکستان نے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت اور خودمختاری کے عزم کا بھرپور اعادہ کرتا ہے اور کسی بھی ایک یمنی فریق کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امید ظاہر کی کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں باہمی تعاون کے ذریعے دیرپا حل کی جانب بڑھیں گی۔

سعودی عرب سے یکجہتی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں

پاکستان نے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کی حمایت کی تصدیق کی ہے، خاص طور پر اُس وقت جب سعودی قیادت میں اتحاد نے 30 دسمبر 2025 کو ایک "محدود” فضائی حملے میں سمگل کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی دو شپمنٹس کو نشانہ بنایا۔ یہ ہتھیار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے جنوبی یمن کے شہر مکلا بھیجے گئے تھے۔ اس حملے کی نوعیت اور اس کے پس منظر پر پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کا موقف واضح ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کے حل پر بات چیت کی۔ اسی دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور یمن کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس ہفتے متحدہ عرب امارات کی قیادت بھی پاکستان کے حکومتی رہنماؤں سے رابطے میں رہی، اور وزیراعظم نے ابو ظہبی کے حکمران شیخ زاید بن النہیان سے اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ملاقاتیں کیں۔

اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا: پاکستان کی مذمت

پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری کے عزم کا پختہ حامی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس مسئلے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ہمراہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کی مذمت کی گئی۔ اس اعلامیہ میں صومالیہ کی خودمختاری کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو واضح کیا گیا اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ صومالیہ کے داخلی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کرے۔

اس حوالے سے صومالیہ کے وزیر خارجہ نے بھی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ٹیلیفون کیا اور ان کی جانب سے صومالی لینڈ کے تسلیم کیے جانے کے معاملے پر کی جانے والی مذمت پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر صومالیہ کی خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عالمی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے پاکستان کی پختہ حمایت کا یقین دلایا۔

پاکستان کی سفارتکاری کی اہمیت

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری کی حمایت ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سفارتکاری کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مزید استحکام آیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کا موقف خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کی کوششیں عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

مستقبل کی توقعات

پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے گا اور یمن کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دے گا۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ سفارتکاری اور امن کے ذریعے یمن کے مسئلے کا حل ممکن ہے، اور اس حل کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔

پاکستان کی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یمن کے بحران کا حل علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ یمن کی بحران زدہ صورتحال میں مثبت کردار ادا کرے اور اس مسئلے کا سیاسی اور امن پسندانہ حل نکالنے میں مدد فراہم کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button