یورپاہم خبریں

سوئس اسکی ریزورٹ کی پرہجوم بار میں سال نو کی پارٹی میں آگ: درجنوں افراد ہلاک، سو کے قریب زخمی

مقامی حکام نے بتایا کہ وہ ابھی تک اس آتشزدگی کی وجوہات کے تعین کی کوششیں کر رہے ہیں، جو مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے لگی

جمعرات کو علی الصبح آتشزدگی کا شکار ہونے والی بار کے باہر کھڑے چند پولیس اہلکار اس جگہ کے قریب، جہاں سے آگ شروع ہوئی تھی

جمعرات کو علی الصبح آتشزدگی کا شکار ہونے والی بار کے باہر کھڑے چند پولیس اہلکار اس جگہ کے قریب، جہاں سے آگ شروع ہوئی تھیتصویر: Alessandro della Valle/KEYSTONE/picture alliance

سوئٹزرلینڈ میں ایلپس کے پہاڑی سلسلے کی ایک اسکی ریزورٹ کی ایک پرہجوم بار میں سال نو کی پارٹی میں آگ لگنے سے درجنوں افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہو گئے۔کئی رپورٹوں میں  ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زائد بتائی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں کرانز مونٹانا نامی معروف اسکی ریزورٹ کی یہ بار مہمانوں سے بھری ہوئی تھی اور وہاں سال نو کی ایک پارٹی جاری تھی کہ اچانک لگنے والی آگ کے نتیجے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ۔

مقامی پولیس نے بتایا کہ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات، نصف شب کے بعد لگنے والی اور بہت تیزی سے پھیلنے والی اس ہولناک آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے کارکن اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئے تھے۔

اس سانحے کے وقت بار میں نیو ایئر پارٹی منائی جا رہی تھی
اس سانحے کے وقت بار میں نیو ایئر پارٹی منائی جا رہی تھیتصویر: Police Cantonale Valaisanne/AP Photo/picture alliance

سوئٹزرلینڈ کی اسی اسکی ریزورٹ میں 30 جنوری سے اسکیئنگ کے ورلڈ کپ مقابلے بھی شروع ہونا ہیں۔

مقامی حکام نے بتایا کہ وہ ابھی تک اس آتشزدگی کی وجوہات کے تعین کی کوششیں کر رہے ہیں، جو مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے لگی۔ ساتھ ہی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی رائے میں یہ سانحہ کسی ’’حملے‘‘ کا نتیجہ نہیں ہے۔

مختلف رپورٹوں میں کم ازکم 40 ہلاکتوں کی تصدیق

جمعرات کی دوپہر تک ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس آتشزدگی کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی، جن کا تعلق مختلف ممالک سے بتایا گیا ہے۔

آتشزدگی کا شکار ہو جانے والی بار کی باہر سے لی گئی ایک تصویر
حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہےتصویر: Maxime Schmid/AFP/Getty Images

اس بارے میں جنوب مغربی سوئٹزرلینڈ میں والس کے کینٹن، جہاں کرانز مونٹانا نامی یہ ریزورٹ واقع ہے، کے پولیس کمانڈر فریڈرک گیزلر نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’خدشہ ہے کہ اس سانحے میں انسانی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کئی درجن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس آتشزدگی کے نتیجے میں 100 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔‘‘

نئے سال 2026ء کی پہلے ہی دن علی الصبح پیش آنے والے اس المناک واقعے کے بعد والس کے سوئس کینٹن کی انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس خطے کے مرکزی ہسپتال کا ایمرجنسی یونٹ زخمیوں سے بھر گیا تھا، جس کے بعد ریسکیو کیے گئے باقی ماندہ زخمیوں کو سوئٹزرلینڈ کے دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں پہنچانا شروع کر دیا گیا۔

کرانز مونٹانا نامی ریزورٹ کی فضا سے لی گئی ایک تصویر
سوئٹزرلینڈ کی اسی اسکی ریزورٹ میں 30 جنوری سے اسکیئنگ کے ورلڈ کپ مقابلے بھی شروع ہونا ہیںتصویر: Jean-Christophe Bott/KEYSTONE/dpa/picture alliance

یہ سانحہ ایک ’خوفناک المیہ‘ ہے، سوئس صدر

سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی پارمیلن نے، جنہوں نے آج یکم جنوری سے ہی اپنا منصب سنبھالا ہے، اس سانحے اور اتنی بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کو ’’ایک خوفناک المیہ‘‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ایک ایسا لمحہ، جسے ہر کسی کے لیے بہت زیادہ خوشی کا باعث بننا تھا، اس نے کرانز مونٹانا میں سال 2026ء کے پہلے ہی دن کو ایک ایسے بہت افسردہ کر دینے والے دن میں بدل دیا، جو پورے ملک اور سوئٹزرلینڈ کی قومی سرحدوں سے باہر بھی بہت سے انسانوں کو متاثر کر رہا ہے۔‘‘

اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے سوئس حکام کوئی حتمی اعداد بتانے سے گریزاں ہیں اور انہوں نے صرف یہی کہا ہے کہ اموات کی تعداد ’’کئی درجنو‌ں‌ تک‘‘ ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button