
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
خطے کے مختلف ممالک میں ریاستی دہشت گردی اور مداخلت کے ذریعے امن و امان کو تباہ کرنا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا مشینری مودی کی ایما پر خطے میں بدامنی پھیلانے کی مذموم سازشوں میں مسلسل مصروف ہے۔ نئی رپورٹوں کے مطابق، افغان اور بھارتی حکومتیں سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک منظم اور عالمی سطح پر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے میں ملوث ہیں، جس کا مقصد خطے میں انتشار اور انتہا پسندی کو بڑھانا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان عناصر کی سازش
ذرائع کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان شرپسند عناصر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک مرتب اور coordinated منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران میں جاری عوامی مظاہروں کو ایک مخصوص زاویہ سے پیش کرنے کے لیے افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایران میں پرامن عوامی مظاہروں کو ایک ‘عوامی تحریک’ کا رنگ دینے کے لیے جھوٹے بیانیے، جعلی ویڈیوز اور منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔
جعلی بیانیے اور جھوٹے مواد کا پھیلاؤ
رپورٹ کے مطابق، افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایران میں عوامی مطالبات کو ایک سنجیدہ تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت میں، یہ مظاہرے اور بدامنی کے واقعات بھارتی اور افغان عناصر کی سازشوں کا نتیجہ ہیں جو خطے میں ایران کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان جعلی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں کا مقصد ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اور عالمی سطح پر ایران کو بدنام کرنا ہے۔
ایران میں بدامنی کے لیے بھارتی کردار کا انکشاف
گھوسٹ اکاؤنٹس اور جعلی پروپیگنڈا کی معاونت بھارتی عناصر کر رہے ہیں، جنہوں نے ایران کے اندر بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک منظم انفارمیشن وارفئیر مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کی ان کوششوں کو دنیا کے مختلف ماہرین نے سراہا ہے اور عالمی برادری کو ان سازشوں کا حصہ ہونے سے خبردار کیا ہے۔ اس پروپیگنڈا کی حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے جب ان عناصر کے پیچھے بھارتی شرپسند عناصر کا ہاتھ ثابت ہوا ہے۔
عالمی ماہرین کا بھارت اور افغانستان کے کردار پر تنقید
عالمی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے اصل انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کو پہچانے اور اس کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے سازشی کردار کو سمجھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی پروپیگنڈا مشینری نے خطے میں بدامنی اور تشویش پیدا کرنے کے لیے افغانستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ ایران جیسے طاقتور ملک میں بحران پیدا کریں، تاکہ علاقائی استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پھیلایا جانے والا مواد ایک منصوبہ بند اور خطرناک انفارمیشن وار کی علامت ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت نے خطے میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے، جس کا مقصد پاکستانی سرحدوں کے قریب دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے۔
بنگلہ دیش اور افغان سرزمین پر دہشت گردی کی معاونت
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے حوالے سے ماہرین نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش سے لے کر افغان سرزمین کے استعمال تک کے شواہد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں بھارت کے انتہا پسند عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے کئی مواقع پر افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان کے اثر و رسوخ کے ذریعے افغانستان کو ایک سازش کا مرکز بنا دیا ہے۔
پاکستان کی پوزیشن اور ایران کی حمایت
پاکستان نے ہمیشہ ایران کی خودمختاری، امن اور استحکام کی حمایت کی ہے اور پاکستان نے عالمی سطح پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ایران کا ساتھ دے گا۔
پاکستانی حکام نے اس معاملے میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے کو نظر انداز کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے حقیقت پسندانہ اور تعمیری اقدامات کرے۔
بھارت کے انتہا پسند ایجنڈے کا مقابلہ
پاکستان نے بھارت کے ہندوتوا ایجنڈے اور اس کے خطے میں جاری سازشوں کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کے انتہا پسند عزائم کا مکمل طور پر علم ہونا چاہیے، تاکہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے موثر اقدامات کر سکے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت اور افغانستان کے تعاون سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈا اور جھوٹے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
نتیجہ
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارتی اور افغان پروپیگنڈا مشینری خطے میں انتشار اور انتہا پسندی کو ہوا دینے میں سرگرم ہیں۔ ان کی سازشیں اور جھوٹے بیانیے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ عالمی برادری کو ان پروپیگنڈا مشینریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحد اور موثر حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے اور عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔



