انٹرٹینمینٹتازہ ترین

پاکستان کے 2026 کے لیے ترقی کی پیشگوئی، ماہر علمِ نجوم سامعہ خان کی اہم باتیں

پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں، معاشی ترقی اور نئے نظام کے امکانات کی پیشگوئی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان کی معروف ماہر علمِ نجوم، سامعہ خان، نے 2026 کے لیے پاکستان کی ترقی کے حوالے سے اہم پیشگوئیاں کی ہیں، جنہوں نے ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر دلچسپ روشنی ڈالی۔ جیو پاکستان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سامعہ خان نے پاکستان کے آئندہ سالوں میں ہونے والی ترقی اور سیاسی تبدیلیوں کی تفصیل بیان کی، جس میں انہوں نے نیا پاکستان اور نئے نظام کے قیام کی بات کی۔

15 مئی 2025 سے تبدیلی کا آغاز

سامعہ خان کے مطابق، 15 مئی 2025 کا دن پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، کیونکہ اس دن سے ملک کا نقشہ بدلنا شروع ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ پاکستان میں ترقی کے سفر کا آغاز ثابت ہو گی، اور 2026 تک یہ تبدیلیاں مزید واضح ہو جائیں گی۔ سامعہ خان نے کہا کہ 2026 میں پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور ملک ایک نیا اقتصادی اور سیاسی منظرنامہ اختیار کرے گا۔

2026 میں نئے نظام کا قیام

ماہر علمِ نجوم نے پیشگوئی کی کہ 2026 میں ایک نیا نظام قائم ہو سکتا ہے، جس کی بنیاد 2025 کے اواخر میں رکھی جا سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں جو تبدیلیاں آئیں گی، ان کے اثرات حکومت، معیشت اور سماج کے ہر شعبے میں محسوس ہوں گے۔ سامعہ خان نے کہا کہ یہ نظام ایک جدید، بہتر اور مستحکم پاکستان کے قیام کی طرف گامزن ہو گا۔

سیاسی شخصیات اور ان کے ستارے

پاکستان کی سیاسی شخصیات کے حوالے سے سامعہ خان نے مختلف تجزیے پیش کیے۔ ان کے مطابق، تین اہم سیاسی شخصیات—شہباز شریف، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری—کا سیاسی ستارہ 2026 میں مضبوط نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی سیاسی قوت کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے اور ان کے لیے اقتدار میں مزید طاقتور کردار ادا کرنے کے امکانات روشن ہیں۔ اگر ان کے ساتھ باہمی مفاہمت ہو جاتی ہے تو پاکستان میں سیاسی تبدیلی ممکن ہے۔

بلاول بھٹو کی سیاست اور اس کی طوالت

سامعہ خان نے بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی گہرائی اور اس کی ترقی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی سیاست کی گہرائی اور دانشمندی کی تعریف کی، لیکن ان کا خیال تھا کہ ان کی سیاست میں طوالت ممکن نہیں۔ سامعہ خان کے مطابق، بلاول کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ان کی سیاسی زندگی کو جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

آصفہ بھٹو زرداری کی قیادت میں تبدیلی

سامعہ خان نے آصفہ بھٹو زرداری کو ایک نئی لیڈرشپ کے طور پر دیکھا، جنہیں بے نظیر بھٹو کی لیگیسی کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ملے گی۔ ان کے مطابق، آصفہ کا سیاسی مستقبل روشن ہے اور وہ اپنی والدہ کی طرح پاکستان کی عوام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ آصفہ کی سیاست میں ایک نئی سمت اور جدت کی گنجائش موجود ہے، اور ان کے آنے سے پیپلز پارٹی کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے۔

عمران خان کے سیاسی امکانات

سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے سامعہ خان نے کہا کہ جنوری اور فروری 2026 کے دوسرے ہفتے تک عمران خان کے لیے کچھ سیاسی امکانات موجود ہیں، تاہم ان کے بعد سیاسی مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، عمران خان کی سیاسی صورتحال میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے اور ان کے لیے حکومت میں واپسی کا راستہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

2026 کے حوالے سے مختصر تجزیہ

آخرکار، سامعہ خان نے 2026 کو پاکستان کے لیے ایک اہم سال قرار دیا، جس میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی سطح پر مختلف تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2026 پاکستان کے مستقبل کی ترقی کی بنیاد رکھنے والا سال ثابت ہو گا، جس میں ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہو گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس دوران پاکستان کے عوام کو ایک مضبوط حکومتی نظام، معاشی استحکام، اور سیاسی سکونت کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کی پیشگوئیاں پاکستان کے عوام کے لیے امید کی کرن ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ تمام سیاسی جماعتیں باہمی مفاہمت اور تعاون کے اصولوں پر عمل کریں۔

نتیجہ

سامعہ خان کی پیشگوئیاں پاکستانی سیاست اور معیشت کی سمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، اور ان کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 کے دوران پاکستان میں نئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ تاہم، سیاسی حالات کی نوعیت اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کا انحصار پاکستان کی سیاسی قیادت کی حکمت عملی پر ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button