
یہ سزائیں نو مئی 2023ء کے پرتشدد احتجاج کے بعد درج کیے گئے مقدمات سے تعلق رکھتی ہیں، جب عمران خان کی مختصر گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے پاکستان کی موجودہ حکومت اور فوج نے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔
اس وقت سینکڑوں افراد کو اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں پر حملوں کے الزامات میں مقدمات کا سامنا ہے، جبکہ انہیں سزائیں دینے کے لیے انسداد دہشت گردی قوانین اور فوجی عدالتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اسلام آباد میں اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کے اقدامات پاکستانی قانون کے تحت ”دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں‘‘ اور ان کے آن لائن مواد نے معاشرے میں ”خوف کے ساتھ ساتھ بے چینی کو فروغ دیا۔‘‘

پراسیکیوشن کے مطابق ان سات افراد نے، جو عمران خان کی عوامی حمایت کے لیے مشہور ہیں، نو مئی 2023ء کے واقعات کے دوران لوگوں کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے اکسایا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق سزا پانے والوں کی اکثریت پاکستان سے باہر ہے اور وہ کارروائی کے دوران حاضر نہیں تھے۔ سزا یافتہ افراد میں سابق فوجی افسران سے یوٹیوبر بننے والے عادل راجہ اور سید اکبر حسین، صحافی وجاہت سعید خان، صابر شاکر اور شاہین صہبائی، تبصرہ نگار حیدر رضا مہدی اور تجزیہ کار معید پیرزادہ شامل ہیں۔
سابقہ مقبول ٹیلی وژن پروگرام کے میزبان صابر شاکر، جو پاکستان چھوڑنے سے پہلے اے آر وائی ٹی وی پر کام کرتے تھے، نے جمعے کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں پاکستان میں اپنے خلاف سزا کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فسادات کے وقت وہ ملک میں موجود نہیں تھے، ”میرے اور دوسروں کے خلاف یہ فیصلہ محض سیاسی انتقام ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ نو مئی کے فسادات سے پہلے حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے اور بعد میں برطانیہ چلے گئے، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی کیونکہ واپسی پر انہیں ”من گھڑت مقدمات‘‘ کا سامنا کرنے کا خدشہ تھا۔
شاکر نے مزید کہا کہ عدالت نے ان کے اور دوسروں کے خلاف مقدمہ ان کے وکیل کے دلائل سنے بغیر چلایا اور غیر حاضری میں سزا سنائی۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے 2023ء میں کہا تھا کہ ایسے مقدمات تنقیدی رپورٹنگ کا بدلہ ہیں۔ سی پی جے کی ایشیا پروگرام کوآرڈینیٹر بہہ لیہ ژی نے کہا، ”حکام کو فوری طور پر ایسے مقدمات ختم کرنا چاہییں اور میڈیا کو مسلسل دھمکیوں کا سلسلہ اور سنسرشپ بند کرنا چاہیے۔‘‘
عدالتی فیصلے میں عمر قید کے ساتھ ساتھ اضافی جرمانے بھی عائد کیے گیے ہیں اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ان تمام سزاؤں کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے توثیق لازمی ہے۔ عدالتی حکم کے تحت ان سات افراد کو سات دنوں کے اندر اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اگر یہ افراد پاکستان واپس آئیں، تو انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا جائے۔


