
جیل میں قید عمر خالد کے نام ممدانی کا خط
"پیارے عمر، میں تلخی سے متعلق آپ کی باتوں اور کسی پر اس کے حاوی ہو کر متاثر نہ ہونے دینے کی اہمیت کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں فکر مند ہیں۔"
مدثر احمد-امریکا،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اس خط میں کیا لکھا ہے؟
عمر خالد کی ایک دوست بانوجیوتسنا لہری نے جو خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا ہے، وہ ممدانی نے اپنے ہاتھ سے ایک کاغذ پر لکھا ہے۔ اس پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے، تاہم اسے شیئر کرتے وقت عمر خالد کی رہائی کی اپیل کی گئی ہے۔
34 سالہ ممدانی نے اپنے مختصر سے خط میں لکھا، "پیارے عمر، میں تلخی سے متعلق آپ کی باتوں اور کسی پر اس کے حاوی ہو کر متاثر نہ ہونے دینے کی اہمیت کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں فکر مند ہیں۔”
خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس نے دسمبر کے آوائل میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے امریکہ کا دورہ کیا تھا اور اطلاعات ہیں کہ اسی دوران ان کی ملاقات ممدانی سے ہوئی تھی۔
مشہور فلمساز میرا نائر اور ماہر تعلیم محمود ممدانی کے بیٹے ظہران ممدانی نے ایک "جمہوری سوشلسٹ” کے طور پر نظام چلانے کے پختہ وعدے کے ساتھ یکم جنوری کو نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھالا ہے۔

عمر خلد کی قید و بند
عمر خالد کو ستمبر 2020 میں دہلی کی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور انہیں دہلی میں مذہبی نوعیت کے فسادات بھڑکانے کی مبینہ سازش کرنے کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیوں کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت جیل میں بند کر دیا گیا۔
تب سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ حال ہی میں، دہلی کی ایک عدالت نے انہیں 27 دسمبر کو اپنی بہن عائشہ فاطمہ سیدہ کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی تھی، جس کے بعد 29 دسمبر کو انہیں پھر جیل بھیج دیا گیا۔
بھارت کی موجودہ ہندو قوم پرست حکومت نے شہریت سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا تھا اس کے خلاف ہونے والے احتجاج میں عمر خالد بھی پیش پیش تھے۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کے علاوہ پڑوسی ممالک کے تمام دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو شہریت دینے کی بات کی گئی تھی۔
لیکن دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ عمر خالد شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی سازش میں ملوث ہیں۔ ان مسلم کش فسادات میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں بیشتر مسلمان تھے۔ دہلی پولیس نے ان مسلم کش فسادات کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
بہت سی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے وکلا ان کی ضمانت کی کوششیں کرتے رہے ہیں تاہم، پہلے عدالت اس کی سماعت میں تاخیر کرتی رہی اور پھر گزشتہ کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
دہلی ہائی کورٹ بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے اور سپریم کورٹ میں ان کی اپیل چل رہی ہے۔



