مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران: معاشی بحران، سیاسی عدم اطمینان حکومت کے لیے خطرہ

احتجاج اکثر معاشی خدشات سے شروع ہوتا ہے اور پھر وسیع تر سیاسی مطالبات میں بدل جاتا ہے۔

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی گرتی قدر کی وجہ سے شروع ہونے والے مظاہرے اب سیاسی عدم استحکام کا سبب بننے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مسائل حکومت کی اتھارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال کے ساتھ شروع ہوئے اور طلباء کی اس تحریک میں شامل ہونے کے بعد سے بڑھتے گئے۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک کی معاشی پریشانیوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے، 2022 کی "خواتین، زندگی اور آزادی” کی تحریک کے بعد اسلامی حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج ہیں، جو حکومت کے خلاف وسیع تر بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔

حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایرانی پولیس فورسز کو مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ کی خارجہ پالیسی سے ناراض مظاہرین اپنا غصہ ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر نکال رہے ہیں۔ آن لائن فوٹیج میں لوگوں کو "ڈکٹیٹر مردہ باد” اور "نہ غزہ اور نہ ہی لبنان، ایران کے لیے میری زندگی” جیسے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

امریکہ کی سینٹرل فلوریڈا یونیورسٹی میں سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی طالبہ، کسرہ قریداغی نے کہا کہ احتجاج اکثر معاشی خدشات سے شروع ہوتا ہے اور پھر وسیع تر سیاسی مطالبات میں بدل جاتا ہے۔

قریداغی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "اس طرح کے ماحول میں جب زندگی گزارنے کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، لیکن آمدن اور ملازمت کی حفاظت کی رفتار برقرار نہیں رہتی ہے، تو روزی روٹی کی شکایات تیزی سے عدم اطمینان میں بدل جاتی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا، "یہ معاشی بحران ایک ایسے تناظر میں سامنے آ رہا ہے جہاں مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور استحکام پیدا کرنے کی حکومت کی صلاحیت پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔”

ایران کی حکومت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام لگایا گیا ہے، جب کہ مظاہرین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ حکام گھریلو بہبود کے ساتھ آزادیوں کو دبانے کے لیے، فلسطینی عسکریت پسند حماس اور لبنانی گروپ حزب اللہ جیسی بیرون ملک پراکسیوں کی حمایت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ایران میں مظاہرے
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایرانی پولیس فورسز کو مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہےتصویر: UGC

احتجاج کن وجوہات کے سبب جاری ہے؟

اقتصادی بحران کے دوران ایران کی کرنسی، ریال، 1.4 ملین ریال فی امریکی ڈالر کی اب تک کی کم ترین سطح پر گر گئی۔ دوسری جانب مہنگائی کی شرح 42 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور بنیادی خوراک کی فراہمی ہی پورے مہینے کی تنخواہ آسانی سے کھا سکتی ہے۔

پیرس میں مقیم سابق قیدی اور ایک ایرانی-کرد صحافی عدنان حسن پور نے وضاحت کی کہ سخت معاشی حالات اور لوگوں کی روزی روٹی پر بڑھتا ہوا دباؤ مظاہروں کا بنیادی محرک رہا ہے۔

حسن پور نے کہا، "اس اضافے نے، جمود کے ساتھ مل کر، لوگوں کے لیے زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے اور موجودہ بدامنی کو جنم دیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے خلاف عدم اطمینان تمام شعبوں میں عروج پر پہنچ گیا ہے۔ "ایک سروے کی بنیاد پر عدم اطمینان 92 فیصد لوگوں میں پایا جاتا ہے۔”

حکومت کا رد عمل؟

ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے مرکزی بینک کے لیے ایک نئے سربراہ کی تقرری کی ہے اور مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کا وعدہ کیا ہے۔

صدر کے ایگزیکٹو نائب، محمد جعفر ضیغم پناہ نے بھی مہنگائی میں اضافے کے لیے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ یہ بحران مغربی پابندیوں اور ایران کے خلاف "معاشی جنگ” کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

حکومت نے سرکاری حمایت یافتہ میڈیا کے ذریعے عوام کے عدم اطمینان کو بھی تسلیم کیا ہے، لیکن اسے "غیر سیاسی” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ یہ محض "روزی روٹی سے متعلق ہے۔”

حسن پور نے کہا کہ گرچہ معاشی اصلاحات مختصر مدت میں مظاہروں کو روکنے میں مدد کر سکتی ہیں تاہم، "اس طرح کے اقدامات سے عوامی عدم اطمینان بالکل بھی کم نہیں ہو گا کیونکہ ان سے لوگوں کی زندگیوں میں بامعنی اور ٹھوس تبدیلیاں نہیں آئیں گی۔”

حکومت نے مظاہروں کو تسلیم کیا ہے اور بحران سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ملک کے پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہروں کو "ہنگاموں” میں تبدیل کرنے کے خلاف کریک ڈاؤن سے خبردار بھی کیا ہے۔

2022 میں "خواتین، زندگی، آزادی”  پر مبنی تحریک کے لیے ہونے والے مظاہرے حکومت کی اتھارٹی کے لیے آخری اہم چیلنج تھے، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو قید کیا گیا۔ تاہم انسانی حقوق کے مختلف گروپوں کے مطابق انہیں ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن کے ذریعے دبا دیا گیا تھا۔

ایران میں مظاہرے
نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نے انسٹاگرام پر ایک پیغام میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے آخری ایام میں ہےتصویر: UGC

کیا اسلامی جمہوریہ تباہی کے دہانے پر ہے؟

جلاوطنی میں موجود حزب اختلاف کی شخصیات کا کہنا ہے کہ تازہ ترین بدامنی اس حکومت کے لیے راستے کا خاتمہ بھی کر سکتی ہے، جو 1979 کے انقلاب اور ایران کے شاہ کی معزولی کے بعد سے اقتدار میں ہے۔

نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نے منگل کو انسٹاگرام پر ایک پیغام میں لکھا کہ”اسلامی جمہوریہ اپنے آخری ایام میں ہے۔” انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ "ظالم کی چادر” کو پھاڑنے کے لیے اپنا غصہ نکالیں۔

ادھر ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اس ہفتے انسٹاگرام پر کہا، "میں معاشرے کے تمام شعبوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور اس حکومت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔

پہلوی نے ایران کی سکیورٹی فورسز سے بھی عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "یہ نظام ٹوٹ رہا ہے، عوام کے خلاف مت کھڑے ہوں۔”

ایک قید سیاسی کارکن مصطفیٰ تاج زادہ نے ایون جیل سے ایک بیان میں خبردار کیا کہ بحران سے نکلنے کے لیے ہموار راستے کی کمی ایران کو تیزی سے "انتشار اور افراتفری” کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

قریداغی نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر معاشی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، تو تحریک "روزی روٹی کی شکایات سے آگے بڑھ کر وسیع تر سماجی اور سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔”

انہوں نے کہا، "طلبہ کی حالیہ نقل و حرکت، ‘آمر کو موت’ جیسے کھلے عام سیاسی نعروں کے ساتھ، مزید سماجی طبقے میں پھیلاؤ اور انتشار کے بڑھتے ہوئے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، "اگرچہ حکومت ان مظاہرین کے غصے کو دبانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، بغیر گہری سیاسی تبدیلیوں اور مغرب، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ ایک ایسے جامع معاہدے کے جو کہ پابندیاں ہٹانے اور ایران کو عالمی اقتصادی مساوات میں دوبارہ ضم کرنے کا باعث بنتا ہے، عوامی احتجاج بلاشبہ سڑکوں پر لوٹ آئے گا۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button