
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے بعد کا بیان، تیل کی صنعت میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی شمولیت
امریکہ کے پاس ’’دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین آئل کمپنیاں ہیں، اور ہم اس شعبے میں بڑی شمولیت کے لیے جا رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کرنے کے بعد واشنگٹن نہ صرف ملک کے مستقبل میں بلکہ تیل سے مالا مال وینزویلا کی آئل انڈسٹری میں بھی ’’بہت مضبوط‘‘ انداز میں شامل ہوگا۔
فوکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، ’’ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ کوئی اور آ کر سب کچھ سنبھال لے جو وہ (مادورو) چھوڑ گیا ہے یا جہاں اس نے کام چھوڑا تھا۔‘‘

انہوں نے وینزویلا کے تیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس ’’دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین آئل کمپنیاں ہیں، اور ہم اس شعبے میں بڑی شمولیت کے لیے جا رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کے مطابق مادورو کو ایک انتہائی سخت حفاظتی حصار میں قائم ’’قلعہ نما‘‘ مقام سے گرفتار کیا گیا اور اس کارروائی میں امریکی جانب کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
’’یہ حیران کن تھا کہ ہمارا کوئی آدمی نہیں مارا گیا،‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’چند افراد زخمی ہوئے مگر وہ واپس آ گئے اور ان کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔‘‘
دوسری جانب وینزویلا کی حکمران جماعت کے رہنما نہوم فرنانڈیز نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوجی تنصیب فورٹ تیونا کے اندر واقع اپنی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہی وہ جگہ ہے جہاں بمباری کی گئی، اور وہیں صدر اور خاتونِ اول کو اغوا کیا گیا۔‘‘
ٹرمپ نے بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جائے گا جہاں ان پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔
’’وہ اس وقت ایک جہاز پر ہیں اور نیویارک کی طرف جا رہے ہیں، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انہیں وہاں سے نکالا گیا۔‘‘
مادورو نے ٹرمپ کے الفاظ کی حقیقت جان لی، نائب امریکی صدر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وینزویلا نے کسی تصفیے تک پہنچنے کی امریکی پیشکشوں کو نظرانداز کیا اور گرفتار کیے گئے، وینزویلا کے رہنما نکولاس مادورو اب یہ جان چکے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے کہے پر عمل کرتے ہیں۔
وینس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’صدر نے کئی بار راستہ نکالنے کی پیشکش کی، لیکن اس پورے عمل کے دوران ایک بات بالکل واضح تھی: منشیات کی اسمگلنگ بند ہونی چاہیے اور چوری شدہ تیل امریکہ کو واپس کیا جانا چاہیے۔‘‘
امریکی نائب صدر نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ مادورو امریکی قانون سے مفرور تھے۔ ان کا کہنا تھا، “صرف اس لیے کہ آپ کراکس کے ایک محل میں رہتے ہیں، آپ کو امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ پر انصاف سے بچنے کا حق نہیں مل جاتا۔‘‘
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کون؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکی افواج نے ویینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر لیا ہے، اس لاطینی امریکی ملک کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز وہ شخصیت ہیں، جو ممکنہ طور پر مادور کے بعد حکومتی باگ ڈور سنبھال سکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ان کی نقل و حرکت سے آگاہ چار ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ روڈریگزاس وقت روس میں موجود ہیں۔ تاہم روسی نیوز ایجنسی تاس نے ملکی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں۔

مادورو نے اپنی سوشلسٹ حکومت کے بھرپور دفاع پر روڈریگز کو ’’ٹائیگرس‘‘ قرار دیا۔ وہ اپنے بھائی خورخے روڈریگز کے قریبی تعاون سے کام کرتی ہیں، جو قومی اسمبلی کے سربراہ ہیں۔
56 سالہ ڈیلسی روڈریگز 18 مئی 1969ء کو کراکس میں پیدا ہوئیں۔ وہ بائیں بازو کے گوریلا رہنما خورخے انتونیو روڈریگز کی بیٹی ہیں، جنہوں نے 1970ء کی دہائی میں انقلابی لیگا سوشلسٹا پارٹی کی بنیاد رکھی۔
نائب صدر کے عہدے کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ اور وزیر تیل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے باعث وہ وینزویلا کی معیشت کے انتظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں اور ملک کے کمزور ہو چکے نجی شعبے میں بھی ان کا خاص اثر و رسوخ ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے انہوں نے نسبتاً روایتی معاشی پالیسیوں پر عمل کیا۔
ہفتے کے روز ریاستی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک آڈیو پیغام میں ڈیلسی روڈریگز نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرے، تاہم ان کی اپنی موجودگی کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
انہوں نے یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور گزشتہ دہائی میں تیزی سے سیاسی صفوں میں ابھریں۔ 2013ء سے 2014ء کے درمیان وہ وزیر اطلاعات و ابلاغ رہیں۔

ڈیزائنر ملبوسات کی شوقین سمجھی جانے والی روڈریگز 2014ء سے 2017ء تک وزیر خارجہ رہیں، اس دوران انہوں نے وینزویلا کی مرکوسور تجارتی بلاک سے معطلی کے بعد بیونس آئرس میں تنظیم کے اجلاس میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔
2017ء میں وہ حکومت نواز آئینی اسمبلی کی سربراہ بنیں، جس کے ذریعے مادورو کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ جون 2018 میں انہیں نائب صدر مقرر کیا گیا، جس کا اعلان مادورو نے ایکس پر کرتے ہوئے انہیں ’’نوجوان، بہادر، تجربہ کار، شہید کی بیٹی، انقلابی اور ہزاروں معرکوں میں آزمودہ‘‘ قرار دیا۔
اگست 2024 میں مادورو نے وزارت تیل بھی ڈیلسی روڈریگز کے حوالے کی، جہاں انہیں ملک کی سب سے اہم صنعت پر بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
مادورو اور ان کی اہلیہ ’امریکی انصاف کے پورے غضب‘ کا سامنا کریں گے، امریکی اٹارنی جنرل

امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے ہفتے کے روز کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات سے متعلق الزامات کا سامنا ہے اور وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر ’’امریکی انصاف کے پورے غضب‘‘ کا سامنا کریں گے۔
بونڈی کے مطابق امریکی افواج نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو اس وقت ’’گرفتار‘‘ کیا، جب وینزویلا میں متعدد اہداف پر اچانک فضائی حملے کیے گئے۔
امریکہ کی جانب سے یہ غیر معمولی اقدام وینزویلا کی قیادت کو ہٹانے کی ایک غیرمعمولی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو مادورو کی آمرانہ حکومت پر واشنگٹن کے کئی ماہ سے بڑھتے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔
پام بونڈی نے ایکس پر لکھا کہ مادورو پر منشیات پر مبنی دہشت گردی کی سازش، کوکین درآمد کرنے کی سازش، اور امریکہ کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فردِ جرم نیویارک میں عائد کی گئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایکس پر لکھا، ’’مادورو وینزویلا کے صدر نہیں ہیں اور ان کی حکومت جائز حکومت نہیں ہے۔‘‘
روبیو نے الزام عائد کیا کہ مادورو’کارٹیل ڈی لوس سولیس‘ کے سربراہ ہیں، جسے انہوں نے منشیات کا دھندہ کرنے والی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مادورو امریکہ میں منشیات اسمگل کرنے کے الزامات کے تحت پہلے ہی فردِ جرم کا سامنا کر رہے ہیں۔



