
سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
بیجنگ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ پبلک سکیورٹی کے پاسپورٹ بیورو کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل سن یو نے ان کی آمد پر خوش آمدید کہا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ایگزٹ انٹری ایڈمنسٹریشن بیورو کے مختلف سیکشنز کا مشاہدہ کیا اور چین کے پاسپورٹ بنانے اور امیگریشن سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو امیگریشن پالیسی، پاسپورٹ کی درخواست جمع کرانے سے لے کر پرنٹنگ تک کے تمام مراحل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں چین آنے والے غیر ملکیوں کی آمد، قیام اور واپسی کے نظام سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ "ون ونڈو” سہولت کے تحت پاسپورٹ اور امیگریشن کے تیز رفتار پراسیس کے بارے میں بریف کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے ایگزٹ انٹری ایڈمنسٹریشن بیورو کے برق رفتار اور مؤثر نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ چینی انٹری ایگزٹ نظام کی افادیت، مؤثریت اور تیزی قابلِ تعریف ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں بھی پاسپورٹ اور امیگریشن نظام کو تیز رفتار اور فول پروف بنایا گیا ہے اور جعلسازی کی روک تھام کے لیے پاسپورٹ میں جدید سکیورٹی فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جدید انٹری ایگزٹ کنٹرول سسٹم بیجنگ ماڈل کی طرز پر جدید خطوط پر استوار ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آن لائن درخواست کے بعد پاسپورٹ 24 گھنٹے کے اندر شہری کو فراہم کر دیا جاتا ہے، جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے بیورو سات روز، چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ملٹی لینگویج اور رہنمائی کے نظام نے غیر ملکی شہریوں کے لیے پیچیدہ دستاویزی عمل کو آسان اور شفاف بنا دیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ریئل ٹائم اپڈیٹس کے ذریعے درخواست گزاروں کو پیش رفت سے بروقت آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، ڈی جی نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی سید خرم علی، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی موجود تھے۔



