
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کا نام ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر لیا جاتا ہے جو غیرمعمولی سیاسی دباؤ، شدید عدم استحکام اور طاقت کے بے شمار مواقع کے باوجود فوج کو براہِ راست سیاست میں لانے سے گریزاں رہے۔ وہ ضیاء الحق کے طویل فوجی دور کے بعد پہلے ایسے آرمی چیف تھے جن کا انتخاب ایک سویلین حکومت نے کیا، اور یہی بات ان کی تقرری کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ تاہم ان کی اچانک وفات، اس کے بعد سامنے آنے والے دعوے، امریکی فرانزک رپورٹس، عدالتی کمیشن اور سرکاری خاموشی نے اس موت کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے پُراسرار اموات میں شامل کر دیا۔
یہ مضمون جنرل آصف نواز جنجوعہ کی زندگی، عسکری کیریئر، سیاسی ماحول، سول ملٹری تعلقات، ان کے اصولی مؤقف، اور بالآخر ان کی موت کے گرد موجود شکوک و شبہات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد شجاع نواز کی کتاب Crossed Swords، اسد درانی، عابدہ حسین، اور ملکی و غیر ملکی صحافتی رپورٹس پر ہے۔
ابتدائی زندگی اور فوجی سفر کا آغاز
شجاع نواز کی کتاب کراسڈ سورڈز کے مطابق جنرل آصف نواز جنجوعہ تین جنوری 1937 کو ضلع جہلم کے علاقے چکری راجگان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک فوجی پس منظر رکھنے والے پنجابی خاندان سے تھا جہاں نظم و ضبط، دیانت اور ریاستی خدمت کو بنیادی اقدار سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے 1957 میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی فوج نوآزاد ریاست کی تعمیر، داخلی استحکام اور بیرونی خطرات کے تناظر میں اپنی پیشہ ورانہ شناخت قائم کر رہی تھی۔ آصف نواز نے ابتدا ہی سے ایک پروفیشنل، خاموش طبع اور نظم و ضبط کے پابند افسر کے طور پر شہرت حاصل کی۔
سینڈ ہرسٹ سے کاکول تک: ایک پیشہ ور سپاہی
جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان آرمی کے آخری سینڈ ہرسٹ گریجویٹ آرمی چیف تھے۔ برطانوی فوجی اکیڈمی سینڈ ہرسٹ سے تعلیم پانے والے افسران کو پیشہ ورانہ مہارت، غیرسیاسی سوچ اور ادارہ جاتی وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بعد ازاں وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈر بھی رہے، جہاں مستقبل کے فوجی افسران کی تربیت ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری اس بات کی غماز تھی کہ فوجی قیادت ان کی پیشہ ورانہ اہلیت اور کردار پر مکمل اعتماد رکھتی تھی۔
آرمی چیف کی تقرری: ایک نازک فیصلہ
1991 میں جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری ایک نہایت حساس معاملہ تھا۔ اس وقت پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، صدر غلام اسحاق خان غیر معمولی اختیارات رکھتے تھے، اور وزیر اعظم نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور ہو رہی تھی۔
سینیارٹی کے اعتبار سے جنرل آصف نواز، جنرل شمیم عالم خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ جنرل شمیم عالم خان کو چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا گیا، جس کے بعد آرمی چیف کے لیے تین جرنیلوں کی فہرست میں سے آصف نواز جنجوعہ کا انتخاب کیا گیا۔ اس فہرست میں جنرل حمید گل کا نام بھی شامل تھا۔
یہ تقرری اس لحاظ سے تاریخی تھی کہ جنرل آصف نواز ضیاء الحق کے بعد پہلے آرمی چیف تھے جنہیں ایک منتخب سویلین حکومت نے تعینات کیا۔
پہلا دن، پہلا پیغام: سیاست سے دوری کا اعلان
16 اگست 1991 کو بطور آرمی چیف اپنے پہلے دن جنرل آصف نواز جنجوعہ نے جو فرمان جاری کیا، وہ پاکستان کی سول ملٹری تاریخ میں ایک واضح اور غیرمعمولی بیان تھا:
"ملک میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے اور مسلح افواج کا سیاسی معاملات سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب فوج ماضی میں بارہا براہِ راست اقتدار سنبھال چکی تھی۔ تاہم عملی سیاست، جیسا کہ بعد کے واقعات سے ظاہر ہوا، خود فوج کے دروازے تک پہنچ چکی تھی۔
شخصیت: کم گو، اصول پسند اور غیر لالچی
معروف مصنف اور صحافی احمد رشید نے جنرل آصف نواز کی موت کے بعد انڈیپینڈنٹ میں لکھا کہ وہ کم گو تھے اور سوالوں کے جواب ایک ہی جملے میں دیا کرتے تھے۔ احمد رشید کے مطابق آصف نواز اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد آرام کرنا چاہتے ہیں، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اقتدار یا طولِ اقتدار کے خواہاں نہیں تھے۔
یہی تاثر ان واقعات سے بھی ملتا ہے جن میں شریف خاندان کی جانب سے دی گئی مہنگی بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کو انہوں نے بار بار شکریے کے ساتھ واپس کر دیا۔
شریف خاندان سے تعلقات: احترام، مگر حد بندی
سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے اپنی کتاب پاکستان ایڈرفٹ میں لکھا ہے کہ جنرل آصف نواز اور ان کی اہلیہ کو لاہور میں شریف خاندان کے گھر مدعو کیا گیا، جہاں انہیں بی ایم ڈبلیو گاڑی تحفے میں دینے کی کوشش کی گئی، جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
شجاع نواز کے مطابق میاں محمد شریف نے پنجابی میں کہا:
"یہ دونوں (نواز اور شہباز) آپ کے چھوٹے بھائی ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا، میں ان کو ٹھیک کر دوں گا۔”
یہ جملہ اگرچہ خاندانی شفقت کے انداز میں کہا گیا، مگر آصف نواز جنجوعہ جیسے پیشہ ور فوجی کے لیے یہ سیاسی مداخلت کی سرحد کے قریب محسوس ہوا۔
ترقیوں اور تقرریوں پر اختلاف
نواز شریف اور جنرل آصف نواز کے تعلقات میں خرابی کی ایک بڑی وجہ فوج کے اندر ترقیوں اور تقرریوں پر اختلاف تھا۔ خاص طور پر آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری پر تنازع کھل کر سامنے آیا جب وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر کو آئی ایس آئی چیف بنانے کا فیصلہ خود سنا دیا، بغیر آرمی چیف سے روایتی مشاورت کے۔
یہ طریقہ جنرل آصف نواز کو ناگوار گزرا، کیونکہ یہ فوج کے اندرونی نظم و ضبط اور کمانڈ اسٹرکچر کے منافی تھا۔
حمید گل کا معاملہ: اختیار کا عملی مظاہرہ
جنرل آصف نواز کو خدشہ تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل ان کی بیرونِ ملک موجودگی میں عبوری چیف کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حمید گل کو ٹیکسلا میں ایک دفاعی ادارے میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب حمید گل نے نئے عہدے پر جانے سے انکار کیا تو امریکہ میں موجود آصف نواز نے واضح حکم دیا:
"اگر وہ نہیں جانا چاہتے تو انہیں ریٹائر تصور کیا جائے۔”
یہ فیصلہ ان کی فیصلہ سازی، ادارہ جاتی نظم اور ذاتی خدشات سے بالاتر ہونے کی مثال تھا۔
امریکہ، ڈک چینی اور اقتدار کی پیشکش
سیدہ عابدہ حسین اپنی خودنوشت میں لکھتی ہیں کہ واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع ڈک چینی نے ایک خفیہ ملاقات میں جنرل آصف نواز کو یہ اشارہ دیا کہ اگر وہ پاکستان میں اقتدار سنبھالنا چاہیں تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
عابدہ حسین کے مطابق جنرل آصف نواز نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کے حق میں نہیں۔
اندرونی سیاست کا دباؤ
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ کئی وزرا آرمی ہاؤس آ کر نواز شریف کو ہٹانے کے لیے آرمی چیف سے مدد مانگتے تھے۔ جنرل آصف نواز کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا:
"اگر خوش نہیں تو سیاسی نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی لائیں۔”
یہ رویہ ان کے جمہوری عمل پر یقین کی واضح علامت تھا۔
کراچی آپریشن اور جناح پور تنازع
1992 میں کراچی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کلین اپ نے سول ملٹری تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا۔ 18 جولائی 1992 کی پریس کانفرنس میں جناح پور کے نقشوں کا انکشاف ایک سیاسی طوفان بن گیا۔
نواز شریف کو محسوس ہوا کہ یہ کارروائیاں ان کے سیاسی اتحاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں، جبکہ جنرل آصف نواز اسے ریاستی رِٹ کا معاملہ سمجھتے تھے۔
اچانک موت: لمحہ جس نے تاریخ بدل دی
8 جنوری 1993 کی دوپہر جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی ہاؤس میں ٹریڈ مل پر ورزش کر رہے تھے جب انہیں دل کا دورہ پڑا۔ فوری طبی امداد دی گئی مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
یہ خبر بجلی بن کر پھیلی، اور فوراً ہی قیاس آرائیوں کا آغاز ہو گیا۔
زہر کا الزام اور فرانزک رپورٹ
چند ماہ بعد نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بیوہ نزہت آصف نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر کو آہستہ آہستہ زہر دیا گیا۔
امریکی فرانزک لیبارٹری NMS کی رپورٹ میں بالوں کے نمونوں میں آرسینک کی مقدار معمول سے کئی گنا زیادہ پائی گئی، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔
عدالتی کمیشن اور سرکاری مؤقف
وزیراعظم نواز شریف نے جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں کمیشن بنایا، جس نے موت کو طبعی قرار دیا۔ نیویارک ٹائمز اور لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق غیر ملکی ڈاکٹروں نے بھی ہارٹ اٹیک کو وجہ قرار دیا۔
تاہم رپورٹ مکمل طور پر کبھی منظر عام پر نہ آ سکی۔
سوالات جو آج بھی زندہ ہیں
شجاع نواز آج بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر امریکی رپورٹ میں آرسینک زیادہ تھا تو سرکاری رپورٹ اس سے کیوں مختلف ہے؟ چین آف کسٹڈی کیوں واضح نہیں؟ تحقیقات میں تیزی اور شفافیت کیوں نہ دکھائی گئی؟
نتیجہ: ایک باب جو بند نہ ہو سکا
جنرل آصف نواز جنجوعہ کی زندگی ایک ایسے سپاہی کی کہانی ہے جس نے اقتدار کو ٹھکرایا، سیاست سے فاصلہ رکھا اور ادارے کو شخصیات پر فوقیت دی۔ ان کی موت اگرچہ سرکاری طور پر طبعی قرار دی گئی، مگر حالات، دعوے اور تضادات اسے تاریخ کا ایک حل طلب سوال بنائے ہوئے ہیں۔
یہ وہ سوال ہے جو شاید کبھی مکمل طور پر حل نہ ہو سکے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ نے طاقت کے عروج پر بھی انکار کو ترجیح دی—اور یہی چیز انہیں پاکستان کی تاریخ میں منفرد بناتی ہے۔











