
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں مجوزہ اضافے کو روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منظور کیا تھا، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے پر نظرِ ثانی کر دی گئی۔
باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو فوری طور پر نافذ کرنے کے بجائے اس شرط سے منسلک کر دیا ہے کہ پیٹرولیم انڈسٹری، بالخصوص ریٹیل بزنس، اپنی پوری سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنائے۔
ای سی سی کا فیصلہ کیا تھا؟
یاد رہے کہ 9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس اضافے کا مقصد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانا بتایا گیا تھا، جو مہنگائی اور بڑھتے آپریٹنگ اخراجات کے باعث دباؤ کا شکار تھے۔
ای سی سی نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ:
او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا
یہ اضافہ مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق ہوگا
مارجن میں اضافہ دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا
اضافہ کیسے تقسیم ہونا تھا؟
ای سی سی کے فیصلے کے مطابق:
او ایم سیز کے لیے مجموعی اضافہ 1.22 روپے فی لیٹر
پیٹرولیم ڈیلرز کے لیے مجموعی اضافہ 1.34 روپے فی لیٹر
پہلا مرحلہ:
او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر
ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر
یہ اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں کے تعین کے ساتھ نافذ ہونا تھا
اس اضافے کے بعد:
او ایم سیز کا مارجن 7.87 روپے سے بڑھ کر 8.48 روپے فی لیٹر
ڈیلرز کا مارجن 8.64 روپے سے بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا
دوسرا مرحلہ:
یکم جون 2026 سے نافذ ہونا تھا
یہ اضافہ مکمل ڈیجیٹائزیشن، لائیو ڈیٹا شیئرنگ اور ریگولیٹری اداروں سے آن لائن رابطے سے مشروط تھا
دوسرے مرحلے کے بعد:
او ایم سیز کو 9.10 روپے فی لیٹر
ڈیلرز کو تقریباً 9.98 روپے فی لیٹر مارجن ملنا تھا
کابینہ نے کیوں روکا؟
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ای سی سی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک پیٹرولیم سیکٹر میں پیداوار سے لے کر کھپت تک مکمل ڈیجیٹائزیشن نہیں ہوتی، تب تک منافع میں کسی بھی قسم کا اضافہ عوام پر منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق:
"وزیر اعظم ڈیجیٹل پاکستان انیشی ایٹو کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بغیر ڈیجیٹل نگرانی کے مارجن میں اضافہ اسمگلنگ، ملاوٹ اور ٹیکس چوری کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔”
اسی وجہ سے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ:
ای سی سی کے منظور کردہ اضافے پر فوری عمل درآمد نہیں ہوگا
مارجن میں اضافہ 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے مشروط ہوگا
اس کا اطلاق ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے پہلے نہیں ہوگا
قیمتیں کم ہوئیں، مگر مارجن نہیں بڑھا
دلچسپ امر یہ ہے کہ 15 اور 31 دسمبر کو ہونے والی دو سہ ماہی قیمتوں کی نظرثانی کے دوران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی، تاہم:
او ایم سیز
پیٹرولیم ڈیلرز
کے مارجن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، حالانکہ ای سی سی کا فیصلہ موجود تھا۔
ڈیجیٹائزیشن کیوں ضروری سمجھی جا رہی ہے؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم سیکٹر میں:
اسمگلنگ
ملاوٹ
غیر قانونی نقل و حمل
بغیر دستاویز فروخت
کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 300 سے 500 ارب روپے تک کا نقصان ہو رہا ہے۔
یہ نقصان نہ صرف ریونیو میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ:
ماحولیاتی آلودگی
گاڑیوں کے انجن کو نقصان
معیاری ایندھن کی قلت
جیسے مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔
پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025
اسی پس منظر میں حکومت نے گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 منظور کروایا، جس میں:
پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی بیسڈ ٹریکنگ
درآمد، پیداوار، اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل سیلز کی نگرانی
اسمگلنگ اور غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت سزائیں
شامل کی گئی ہیں۔
اس قانون کے تحت:
اوگرا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)
پیٹرولیم ڈویژن
کو لائیو ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی تاکہ پورے سیکٹر کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔
صنعت کا مؤقف
تمام بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور مقامی ریفائنریز اس بات پر متفق ہیں کہ:
سرحدوں پر اسمگلنگ
ایل پی جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت
ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
ان کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ:
"جب تک اسمگل شدہ ایندھن مارکیٹ میں دستیاب رہے گا، قانونی کاروبار دباؤ میں رہے گا اور حکومتی ریونیو متاثر ہوتا رہے گا۔”
نتیجہ
وفاقی کابینہ کا حالیہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اب پیٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات کو منافع سے پہلے ترجیح دینا چاہتی ہے۔ اگرچہ اس فیصلے سے او ایم سیز اور ڈیلرز کو فوری مالی ریلیف نہیں مل سکا، تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر ڈیجیٹائزیشن نہ صرف اسمگلنگ اور ملاوٹ کا خاتمہ کرے گی بلکہ شفافیت، بہتر ریونیو اور صارفین کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ پیٹرولیم سیکٹر مقررہ مدت میں مکمل ڈیجیٹائزیشن کے اہداف حاصل کر پاتا ہے یا نہیں، اور آیا 2026 میں یہ مؤخر شدہ اضافہ واقعی نافذ ہو سکے گا یا نہیں۔



