
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے تحت سینٹر فار افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ (CAMEA) نے 21 جنوری 2026 کو ایک اہم گول میز مباحثے کا اہتمام کیا، جس کا عنوان تھا “ایران کی صورتحال: علاقائی نتائج اور پاکستان کا پالیسی اپروچ”۔ اس مباحثے میں سفارت کاروں، ممتاز ماہرین تعلیم، تھنک ٹینکس سے وابستہ سینئر تجزیہ کاروں اور علاقائی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔
ایران کی داخلی و خارجی صورتحال پر جامع جائزہ
مباحثے کے دوران شرکاء نے ایران کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ماہرین نے کہا کہ ایران اس وقت اندرونی چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے امتزاج سے گزر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
شرکاء کے مطابق ایران کی صورتحال کو یک رخی انداز میں دیکھنے کے بجائے ایک متحرک اور پیچیدہ (Dynamic and Complex) تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ داخلی عوامل، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں نے صورتِ حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
علاقائی مضمرات: مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک اثرات
مباحثے میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ایران میں عدم استحکام کی صورت میں اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ شرکاء نے نشاندہی کی کہ خلیج، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افغانستان کی صورتحال براہِ راست ایران سے جڑی ہوئی ہے، اور کسی بھی کشیدگی کا اثر توانائی کی ترسیل، تجارت، سمندری راستوں اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی بلاکس میں تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جس سے سفارتی حل کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا پالیسی اپروچ: توازن، تحمل اور سفارت کاری
پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایک متوازن، محتاط اور اصولی خارجہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ مباحثے میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔
شرکاء کے مطابق پاکستان کو:
ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دینا چاہیے،
کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی یا تصادم کی مخالفت کرنی چاہیے،
بات چیت، تحمل اور تناؤ میں کمی کو ترجیح دینی چاہیے،
اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
سلامتی اور خارجہ پالیسی مفادات کا تحفظ
گفتگو کے دوران اس نکتے پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی پالیسی کا بنیادی مقصد اپنی قومی سلامتی، سرحدی استحکام اور خارجہ پالیسی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ شرکاء نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو لچکدار سفارت کاری کے ذریعے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے چاہئیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
چیتھم ہاؤس رول کے تحت کھلا اور بے لاگ مکالمہ
یہ گول میز مباحثہ چیتھم ہاؤس رول کے تحت منعقد کیا گیا، جس کی بدولت شرکاء نے آزادانہ، کھلے اور بے لاگ انداز میں اپنی آرا کا اظہار کیا۔ اس ماحول نے حساس موضوعات پر گہرے اور حقیقت پسندانہ مکالمے کو ممکن بنایا۔
نتیجہ: سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ
مباحثے کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کی موجودہ صورتحال نہایت حساس اور کثیرالجہتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔
شرکاء کے مطابق پاکستان کو ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کے طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی پالیسی جاری رکھنی چاہیے، تاکہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو بلکہ پاکستان کے طویل المدتی قومی مفادات بھی محفوظ رہیں۔



