
کرسمس 2025 کی منفرد روایت: ایک مسلمان مصنف انور خان کو خصوصی اعزاز
قائداعظم محمد علی جناح کو خون سے نذرانۂ عقیدت پیش کرنے والی کتاب نے بین المذاہب ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کر دی
رپورٹ مدثر احمد-امریکا،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
کرسمس 2025 اس لحاظ سے ایک منفرد اور تاریخی موقع بن گیا کہ اس سال ایک مسلمان مصنف انور خان کو بھی کرسمس کی تقریبات میں خصوصی طور پر شامل کیا گیا۔ اس غیر معمولی اقدام کی وجہ ان کی وہ کتاب بنی جس میں انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو اپنے خون سے تحریر کردہ نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور پاکستان میں اقلیتوں کو ایک عظیم قومی اثاثہ قرار دیا۔
خون سے لکھی گئی کتاب، محبت اور احترام کی علامت
انور خان کی کتاب کو نہ صرف اس کے منفرد اسلوب بلکہ اس کے پیغام کی وجہ سے بھی غیر معمولی پذیرائی ملی۔ کتاب میں قائداعظم محمد علی جناح کے افکار، جدوجہد اور پاکستان کے قیام کے فلسفے کو اس انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے جو محبت، قربانی اور نظریاتی وابستگی کی اعلیٰ مثال ہے۔
اپنے خون سے تحریر کی گئی تحریر کو شرکاء نے قائداعظم سے بے مثال عقیدت اور پاکستان سے گہری وابستگی کی علامت قرار دیا۔
اقلیتوں کو پاکستان کا عظیم اثاثہ قرار دینے کا پیغام
کتاب کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو ملک کی طاقت، حسن اور شناخت کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ انور خان نے قائداعظم کے 11 اگست 1947 کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا قیام ایک ایسی ریاست کے طور پر ہوا تھا جہاں تمام مذاہب کے ماننے والے برابر کے شہری ہوں گے۔
اسی پیغام نے کرسمس 2025 کی تقریبات میں بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور احترام کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
کرسمس تقریبات میں خصوصی شمولیت
کرسمس کے موقع پر منعقدہ مختلف تقریبات میں انور خان کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، جہاں مسیحی برادری کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور سماجی کارکنوں نے ان کی کاوش کو سراہا۔
شرکاء نے کہا کہ ایک مسلمان مصنف کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق اور احترام پر مبنی ایسی کتاب پاکستان کے اصل نظریے کی عکاسی کرتی ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کی زندہ مثال
مسیحی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انور خان کی کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے احترام اور اتحاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرسمس 2025 میں ایک مسلمان مصنف کی شمولیت دراصل قائداعظم کے اُس وژن کی عملی تصویر ہے جس میں مذہب کو ذاتی معاملہ اور ریاست کو سب کے لیے مساوی قرار دیا گیا تھا۔
انور خان کا مؤقف
اس موقع پر انور خان نے کہا کہ ان کی کتاب کا مقصد کسی ایک مذہب یا طبقے کی نمائندگی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے اجتماعی شعور کو اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا:
“قائداعظم محمد علی جناح صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پوری قوم کے قائد تھے۔ اقلیتیں پاکستان کا بوجھ نہیں بلکہ اس کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور میرا پیغام بھی یہی ہے۔”
ایک علامتی مگر طاقتور پیغام
کرسمس 2025 میں انور خان کی شمولیت کو پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک علامتی مگر نہایت طاقتور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور پیغام محبت پر مبنی ہو تو مذہبی سرحدیں خود بخود مٹ جاتی ہیں۔
کرسمس 2025 یوں تاریخ میں اس وجہ سے یاد رکھا جائے گا کہ اس نے قائداعظم کے پاکستان کے اُس خواب کو تازہ کر دیا جہاں محبت، احترام اور اتحاد ہی اصل شناخت ہیں۔



