
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی۔III کا اہم اجلاس: جنوبی پنجاب کی ہیلتھ اتھارٹیز، آڈٹ نظام اور لیب سروسز میں بے ضابطگیوں پر سخت سوالات
آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی ناقص تیاری پر برہمی، 369 ملین روپے کے غیر قانونی کنٹریکٹ کی 30 روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی۔III (PAC-III) کا ایک اہم اجلاس جناب احمد اقبال چوہدری کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں جنوبی پنجاب کی 17 ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز سے متعلق آڈٹ سال 2018–19 کی آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صحت کے شعبے میں مالی بے ضابطگیوں، انتظامی کمزوریوں اور آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔
آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی ناقص تیاری پر سخت برہمی
اجلاس کے دوران PAC-III نے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ آڈٹ پیراز کی کلبنگ درست طریقے سے نہیں کی گئی، جس کے باعث معاملات کو سمجھنے اور ان پر فیصلہ کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ کمیٹی ارکان نے واضح کیا کہ اس طرح کی ناقص تیاری نہ صرف کمیٹی کے وقت کا ضیاع ہے بلکہ شفاف احتساب کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔
انکوائری طریقۂ کار پر عملدرآمد کی ہدایت
کمیٹی نے انکوائریوں کے حوالے سے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ PAC-III کی جانب سے طے شدہ انکوائری طریقۂ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ SDAC (سپیشل ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی) اور پری۔PAC کے فورمز کو سنجیدگی سے لیا جائے تاکہ معاملات کمیٹی تک آنے سے پہلے ہی مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
پنجاب میں لیب سروسز کے غیر قانونی کنٹریکٹ کا نوٹس
PAC-III نے پنجاب میں لیب سروسز کے کنٹریکٹ کے غیر قانونی اجرا کا بھی سخت نوٹس لیا، جس کی مجموعی مالیت 369 ملین روپے بتائی گئی۔ کمیٹی نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے انتظامی محکمے کو ہدایت کی کہ 30 دن کے اندر مکمل انکوائری کر کے اپنی تفصیلی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔ کمیٹی ارکان نے واضح کیا کہ عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بہاولنگر ڈی ایچ کیو میں شفافیت کے فقدان پر سماعت
اجلاس میں بہاولنگر ڈی ایچ کیو ہسپتال میں شفافیت کی کمی سے متعلق معاملات پر بھی سماعت کی گئی۔ یہ سماعت متعلقہ مدت کے دوران بہاولنگر میں تعینات افسران کو جاری کیے گئے طلبی نوٹسز کے تسلسل میں کی گئی۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیاں عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
غیر جانبدارانہ انکوائری اور ٹیسٹ کیس بنانے کی ہدایت
PAC-III نے انتظامی محکمے کو ہدایت کی کہ بہاولنگر ڈی ایچ کیو کے معاملے پر غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کی جائے۔ کمیٹی نے اس کیس کو پورے پنجاب کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد پر صوبے بھر میں صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
احتساب اور شفافیت پر زور
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ آڈٹ اعتراضات کا مقصد محض نشاندہی نہیں بلکہ اصلاح اور بہتری ہے، اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خلاصہ
PAC-III کے اجلاس میں جنوبی پنجاب کی ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی، لیب سروسز کے غیر قانونی کنٹریکٹس اور بہاولنگر ڈی ایچ کیو میں شفافیت کے فقدان جیسے اہم معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح پیغام دیا کہ عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔





