بین الاقوامیتازہ ترین

ایران ایک اور بادشاہت کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟

ایران جو اس وقت ایک بار پھر مظاہروں اور احتجاج کی زد میں ہے۔ پہلوی کی جانب سے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

اے پی

ایران میں جاری مظاہرے، احتجاج اور جلا وطن ایرانی کراؤن پرنس رضا پہلوی کی اپیل نے دوبارہ یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا واقعی ایران ایک بار پھر بادشاہی نظام رائج کرنے کی طرف گامزن ہے؟

ایران جو اس وقت ایک بار پھر مظاہروں اور احتجاج کی زد میں ہے۔ پہلوی کی جانب سے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

ایران میں یہ مظاہرے ابتدا میں اس اسلامی جمہوریہ کی کمزور معیشت کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن اب یہ حکومت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ تہران کو مسلسل عوامی مظاہروں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی کئی مسائل کا سامنا بھی ہے۔ گزشتہ سال اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 12 روزہ جنگ اور پھر امریکہ کی جانب سے جوہری تنصیبات پر حملہ ان مسائل میں سر فہرست ہیں۔

تاہم اب پہلوی کا ایک بار پھر منظر عام پر آنا اور ایران کی فضاؤں میں پہلوی کے نام کی گونج ایران کو اندرونی مسائل کا شکار بھی کر سکتی ہے۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے 65 سالہ رضا پہلوی  کو اپنے وطن میں کتنی حقیقی حمایت حاصل ہے۔ کیا مظاہرین واقعی ایران میں بادشاہی نظام رائج ہونے کے حق میں ہیں؟  یا وہ بس ایران کی سخت گیر شیعہ تھیوکریسی سے اکتا چکے؟

اس تصویر میں ایرانی دارالحکومت تہران میں رات کے وقت ہونے والے احتجاج دکھایا گیا ہے۔
ایران میں جاری احتجاج کے مناظرتصویر: UGC/DW

پہلوی کی جانب سے ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل روان ہفتے کی گئی۔ اس اپیل کو بیرونِ ملک فارسی زبان کے سیٹلائٹ نیوز چینلز اور ویب سائٹس نے نشر کیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تہران کے عوام نے ان کی بات پر عمل بھی کیا۔

واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ ایرانی امور کے ماہر بہنام بن طالب لو نے کہا، ”گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایران کی احتجاجی تحریک اور اختلافی برادری کے لہجے میں قوم پرستی کا عنصر بڑھتا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”جتنا زیادہ اسلامی جمہوریہ ناکام ہوئی ہے اتنا ہی اس کے متضاد نظریے کو تقویت ملی ہے۔ ولی عہد اور ان کی ٹیم کی کامیابی اس وجہ سے ممکن ہو سکتی ہے کہ انہوں نے ماضی کی معمول کی زندگی اور ممکنہ مستقبل کے وعدے کو اس خوفناک خواب اور موجودہ بدحالی کے مقابل کھڑا کیا ہے، جو آج بہت سے ایرانیوں کی حقیقت ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے حوالے سے  پہلوی کا نام دوبارہ سامنے آیا تھا تاہم ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنما انہیں قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔

برسوں سے پہلوی کو حالات سے نابلد اور بدعنوان قرار دینے والے ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعرات کی شب ہونے والے مظاہروں کا الزام ‘بادشاہت پسند دہشت گرد عناصر‘ پر عائد کیا۔ ان مظاہروں میں کئی گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں اور پولیس چوکیوں پر حملے کیے گئے۔

رضا پہلوی کون ہیں؟

رضا پہلوی 31 اکتوبر 1960ء کو پیدا ہوئے اور شاہ محمد رضا پہلوی کے ولی عہد کی حیثیت سے انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ شاہ محمد رضا کو یہ تخت اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد ایک فوجی افسر تھے اور انہیں اقتدار برطانوی حمایت سے حاصل ہوا تھا۔ محمد رضا کی حکومت 1953 میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ بغاوت کے ذریعے مستحکم ہوئی اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون قائم کیا۔

اس تعاون میں اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت اور ایران سے سوویت یونین کی جاسوسی شامل تھیں۔

کیا رضا پہلوی واقعی ایران کے اندر مقبول ہو رہے ہیں؟

نوجوان پہلوی نے شمالی تہران کے نیاوران محل کی دیواروں کے اندر قائم رضا پہلوی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد کے، ایک سوانح نگار کے مطابق، ولی عہد نے ایک مرتبہ تہران میں اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کے نئے سال کے موقع پر دورے کے دوران محل میں راک موسیقی کا اہتمام کیا تھا۔

70 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کے باوجود شاہ کے دور میں شدید معاشی عدم مساوات پیدا ہو گئی۔ اس کے علاوہ ان کی خفیہ ایجنسی ساواک مسائل کے خلاف آواز بلند کرنے والوں پر تشدد کے الزامات کے سبب بدنام ہوئی۔ اس وقت لاکھوں ایرانیوں نے شاہ کے خلاف احتجاجات میں حصہ لیا۔ ان میں ایران کے سیکولر بائیں بازو کے کارکن، مزدور یونینز، پیشہ ور افراد، طلبہ اور مسلم علما بھی شامل تھے۔ یہ بحران شدت اختیار کر گیا اور شاہ کی فیصلہ سازی میں ناکامی اور لاحق جان لیوا کینسر کے باعث ان کے مستقبل کا فیصلہ ہو گیا۔

سن 1978 میں ولی عہد رضا نے تعلیم اور تربیت کی غرض سے ملک چھوڑا اور ٹھیک ایک سال بعد ان کے والد اسلامی انقلاب کے آغاز کے دوران ایران سے فرار ہو گئے۔ شیعہ علما نے دیگر شاہ مخالف دھڑوں کو کنارے لگا کر ایک نئی تھیوکریٹک حکومت قائم کی۔ اس نئی حکومت نے انقلاب کے بعد ہزاروں افراد کو سزائے موت دی۔

اپنے والد کی وفات کے بعد جلاوطنی میں قائم شاہی دربار نے اعلان کیا کہ رضا پہلوی نے 31 اکتوبر سن 1980 کو اپنی 20ویں سالگرہ کے موقع پر شاہ کا عہدہ سنبھال لیا۔ تاہم وہ وطن واپس نہیں آئے۔

ایران، احتجاج میں شریک ایک شخص سڑک پر اشیا کو آگ لگاتے ہوئے۔
ایران، احتجاج میں شریک ایک شخص سڑک پر اشیا کو آگ لگاتے ہوئے۔تصویر: UGC/DW

پہلوی تقریباً پانچ دہائیوں تک جلاوطنی میں رہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور فارسی زبان کے نیوز چینلز کے ذریعے اپنی آواز بلند کی اور مظاہروں کی اپیلیں کیں۔

تاہم پہلوی کے جذباتی بیانات ایک طرف لیکن انہیں مسلسل تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ جون میں ہونے والی جنگ کے باوجود ان کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

سن 2023 میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے موقع پر پہلوی نے کہا، ”میری توجہ ایران کو آزاد کرانے پر ہے اور میں قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ کیے بغیر ہر اس ذریعے کو استعمال کروں گا، جو ہماری مدد کے لیے تیار ہو، چاہے وہ امریکہ ہو، سعودی عرب ہو، اسرائیل ہو یا کوئی اور ہو۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button