
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور ان کی طبی حالت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات گمراہ کن ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں کی تجویز پر پہلے عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد ماہرین امراضِ چشم نے ایک معمولی طبی عمل کے لیے انہیں اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کرنے کی سفارش کی۔ عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ عمران خان کی تحریری رضامندی کے بعد پمز میں تقریباً بیس منٹ پر مشتمل طبی عمل کیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی عمل کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے تمام حیاتیاتی اشاریے (وائٹل سائنز) مکمل طور پر معمول کے مطابق تھے اور ڈاکٹروں نے ان کی مجموعی صحت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق عمران خان کو ڈاکٹروں کی جانب سے ضروری ہدایات دی گئیں اور ان کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی ایمرجنسی یا سنگین صورتحال موجود نہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان مسلسل عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں منگل کے روز شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال نے بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ گزشتہ رات سے ایسی متعدد خبریں زیر گردش ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان آنکھوں کے ایک سنگین مرض ’’سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن‘‘ میں مبتلا ہیں۔
شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان خبروں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات تشویش ناک ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چونکہ عمران خان اس ادارے کے بانی ہیں، اس لیے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل ٹیم کو فوری طور پر ان تک رسائی دی جائے تاکہ وہ ان کے علاج میں شامل ہو سکے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما زلفی بخاری نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ’’سنگین اور تشویشناک‘‘ ہے اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے شفافیت ضروری ہے۔
تاہم سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ماہرین امراضِ چشم کی سفارش پر عمران خان کو گزشتہ ہفتے رات گئے پمز منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ طبی عمل عمران خان کی تحریری اجازت سے انجام دیا گیا اور مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر مزید کہا کہ جیل قوانین کے تحت جب بھی کسی قیدی کو صحت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو، اسے فوری طور پر ڈاکٹروں تک رسائی فراہم کی جاتی ہے اور عمران خان کے معاملے میں بھی تمام طبی اقدامات قواعد و ضوابط کے مطابق کیے گئے۔
واضح رہے کہ عمران خان اس وقت مختلف مقدمات کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت سے متعلق خبریں نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے بیانات کے باعث اس معاملے پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر بحث بدستور جاری ہے۔



