پاکستان

پاکستانی بحریہ نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کی کمان سنبھال لی

خلیج عمان، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ

پاکستانی بحریہ نے مشترکہ بحری افواج (Combined Maritime Forces – CMF) کی کثیر القومی ٹاسک فورس کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 (CTF-150) کی کمان سنبھال لی ہے، جو خلیج عمان، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اسلحے کی غیر قانونی منتقلی، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہے۔

مشترکہ بحری افواج کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، پاکستانی بحریہ نے یہ کمان سعودی رائل نیوی سے حاصل کی ہے۔ اس حوالے سے تبدیلیِ کمان کی باقاعدہ تقریب 28 جنوری 2026 کو بحرین میں واقع نیول سپورٹ یونٹ کے ایک بحری جہاز پر منعقد ہوئی۔


تبدیلیِ کمان کی تقریب، اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت

بیان کے مطابق، سعودی رائل نیوی کے کموڈور فہد الجعید نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کی کمان پاکستانی بحریہ کے کموڈور محمد یاسر طاہر کے سپرد کی۔ اس موقع پر مشترکہ بحری افواج کے کمانڈر، امریکی بحریہ کے وائس ایڈمرل کرٹ رینشا بھی موجود تھے، جنہوں نے دونوں ممالک کی بحری افواج کے کردار کو سراہا۔

تقریب میں کثیر القومی بحری دستوں کے نمائندوں، عسکری حکام اور سفارتی شخصیات نے بھی شرکت کی، جس سے فورس کی بین الاقوامی اہمیت اور تعاون کی عکاسی ہوتی ہے۔


سعودی قیادت کے دوران نمایاں کامیابیاں

مشترکہ بحری افواج کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے اگست 2025 میں کمان سنبھالنے کے بعد کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس عرصے کے دوران فورس نے 34 سے زائد بحری تلاشی کی کارروائیاں کامیابی سے انجام دیں۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں 16 ٹن سے زائد منشیات ضبط کی گئیں، جن کی عالمی منڈی میں مالیت تقریباً دو ارب امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ کارروائیاں بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہیں۔


پاکستانی کمانڈر کا عزم: علاقائی و عالمی تعاون میں اضافہ

نومنتخب کمانڈر کموڈور محمد یاسر طاہر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

"کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 سمندر میں امن، استحکام اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ بطور کمانڈر میری اولین ترجیح علاقائی ممالک، شراکت دار ریاستوں اور بین الاقوامی بحری تنظیموں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگی۔”

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی بحریہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے سمندری سلامتی کے اہداف کے حصول میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔


کمبائنڈ ٹاسک فورس 150: پس منظر اور مشن

کمبائنڈ ٹاسک فورس 150، مشترکہ بحری افواج کے پانچ ورکنگ گروپس میں سے ایک ہے، جو فروری 2002 میں قائم کی گئی تھی۔ اس فورس کا بنیادی مشن خلیج عمان، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں:

  • منشیات کی اسمگلنگ

  • غیر قانونی اسلحے کی منتقلی

  • دیگر ممنوعہ مواد کی ترسیل

کو روکنا اور ان سرگرمیوں میں خلل ڈالنا ہے۔


قزاقی کے خلاف نئی مرکوز کارروائیاں

مشترکہ بحری افواج کے مطابق، گزشتہ نومبر میں کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 نے مغربی بحر ہند، خلیج عدن اور باب المندب کے علاقے میں قزاقی کے خلاف ایک نئی مرکوز کارروائی کا آغاز بھی کیا تھا۔ یہ علاقے عالمی تجارت اور بین الاقوامی سمندری راستوں کے لیے نہایت اہم تصور کیے جاتے ہیں۔

ان کارروائیوں کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور عالمی سپلائی چین کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔


پاکستانی بحریہ کا بڑھتا ہوا عالمی کردار

دفاعی ماہرین کے مطابق، کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کی کمان سنبھالنا پاکستانی بحریہ کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار، پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

یہ پیش رفت خطے میں سمندری سلامتی کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button