
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ پر سخت اظہار برہمی،انتظامیہ،ایل ڈی اے اورواسا سمیت ذمہ داراداروں کی کارکردگی پر سخت سرزنش،چار افسر برخاست،گرفتاری کا حکم
بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ میں کنٹریکٹر،سپروائز،کنسلٹنٹ،کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور،اسسٹنٹ کمشنر،ایل ڈی اے اوروا سا بھی برابر کے قصور وار ہیں،پنجاب ایسی جگہ نہیں جہاں خدانخواستہ گرکر مرجائے تو کسی کو پروا نہیں،یہاں میں بھی جواب دہ ہوں اور آپ کو بھی جواب دینا ہوگا
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ پر سخت اظہار برہمی کیا اورانتظامیہ،ایل ڈی اے،واسا سمیت ذمہ داراداروں کی کارکردگی پر سخت سرزنش کی گئی۔پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہد حسین،اصغر سندھو،سیفٹی انچار ج دانیال اورپراجیکٹ مینجر احمد نوازکو عہدے سے ہٹانے اورگرفتارکرنے کا حکم دے دیا۔کنٹریکٹر کو سانحہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر کو کنٹریکٹر کی طرف سے ایک کروڑ روپے زرتلافی اور حکومت کی طرف سیروزگار کے لئے ٹیکسی مہیا کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا صوبہ بھر میں جاری پراجیکٹ میں گڑھے اورمین ہول وغیرہ پوری طرح کورکر کے رات کو لائٹس جلانے کی ہدایت بھی کی گئی۔بھکر کے دورہ سے واپسی کے فورا ًبعد لاہور ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ہنگامی اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ کی رپورٹ پیش کی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتمادکا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھاٹی گیٹ صوبے کا دوردراز علاقہ نہیں ہے بلکہ لاہور کا ایک معروف علاقہ ہے۔جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔اس علاقے میں کنسٹرکشن سائیٹ پر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیاگیا۔کام بند ہونے کے بعد کنٹریکٹر اورور کرز مین ہول کھلا چھوڑ کرچلے گئے۔دنیا بھر میں ہر کنسٹرکشن سائیٹ پر حفاظتی اقدامات کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنرنے وزٹ کر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی زہمت ہی نہیں کی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کنٹرکشن سائیٹ پر پینا فلیکس اوربینرز لگادینا ہی کافی نہیں کہ کنسٹرکشن ہورہی ہے اگر اندھیرا ہوگاتو کون لائیٹ جلا کر پینا فلیکس پڑھے گا۔ بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ میں کنٹریکٹر،سپروائز،کنسلٹنٹ،کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور،اسسٹنٹ کمشنر،ایل ڈی اے اوروا سا بھی برابر کے قصور وار ہیں۔شہر کے پرائم ایریا میں کام ہورہا ہے اور لوگوں کو پتہ تک نہیں کہ وہاں کام ہورہا ہے۔داتا دربار جیسے علاقے میں کسی نے پارکنگ بنا لی اورلوگوں سے پیسے لے رہا ہے۔کسی ادارے کو علم ہی نہیں،ٹریفک پولیس کہاں،پولیس کو بھی علم نہیں۔یہ انتہائی افسوسناک امرہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کنسرکشن سائیٹ پر کام ہورہا ہو تو سمجھ میں آتی ہے اور کام ختم کرنے کے بعد مین ہول کو لوگوں کو مرنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ سب کو اندازہ ہوگا کہ میں اس معاملے میں اتنی سختی کیوں کرتی ہوں۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ میٹنگ میں مین ہول کے کورکے معاملے پر زوردیتی ہوں کیونکہ مین ہول میں کبھی امیر آدمی نہیں مرتا بلکہ ہمیشہ سڑک پر چلنے والے غریب ہی گر کر مرتے ہیں۔ذرا سوچئے کہ وہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی تو میں آپ سے پوچھتی تو پورا سسٹم حل کر رہ جاتا۔ جنہوں نے مین ہول کھلا چھوڑا کیا ان کے اپنے بچے نہیں ہیں۔اتنی بڑی مجرمانہ غفلت کہنا بھی چھوٹی بات لگتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ یہ امر باعث افسوس ہے کہ مین ہول واقعہ کے بعد یہ کہا گیا کہ وہاں سے کسی کا پاؤں نہیں گزر سکتا تو جسم کیسے گزر سکتا ہے اوراسی بات سے کنفیوژن پھیلی اورمتاثرہ فیملی کی مدد کرنے کی بجائے ان کو قاتل بنا کر پوچھ گچھ کیلئے تھانے لے گئے۔مرنے والی خاتون کے والد نے کہہ دیا کہ ان کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے لیکن میں پوچھتی ہوں کہ وہ آپ کے پاس باہمی تعلقات کی شکایت نہیں لے کر آئے تھے، وہ توآپ کے پاس مین ہول میں گرنے کی شکایت لے کر آئے تھے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں خود ورچوئل دورے کر کے اضلاع میں چیزوں کا جائزہ لیتی ہوں اورغفلت کے ذمہ داروں کو فارغ کیا جاتا ہے۔کھلے مین ہول جیسی غفلت پر ڈی سی کو فارغ کرتی ہو ں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مزید کہا کہ فیصل آباد کی ایک ویڈیو میں دیکھا کہ ایک مین ہول کھلا ہوا ہے اورٹریفک پولیس کا اہلکار قریب آیا تو اس نے لوگوں کو دور کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ راجن پور یا دوردراز علاقے میں وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ لاہور میں پیش آیاہے۔میں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے لئے سیف سٹی اتھارٹی ہیڈ کو کال کی توانہوں نے فوراًجا کر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی۔ ساڑھے سات بجے تک کی فوٹیج ہے اورکیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد دو منٹ میں کوئی کسی کو مار کر وہاں پھینک جائے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ ذمہ دار اداروں کی نالائقی،غفلت کی وجہ سے نہ صرف خاتون کی جان گئی بلکہ دس ماہ کی بچی بھی جان کی بازی ہار گئی۔ ان کو دیکھ کر ذمہ داروں کو خدا کا خوف نہیں آتا۔یہاں دس دس ادارے موجود ہیں لیکن ذمہ دارکوئی بھی نہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ مین ہول والے ایشو پر زیادہ زور دیتی ہوں کیونکہ یہ پنجاب ہے یہاں میرے لئے ہر ایک جان قیمتی ہے۔صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور کی جان بھی جان ہوتی ہے۔پنجاب ایسی جگہ نہیں جہاں خدانخواستہ گرکر مرجائے تو کسی کو پروا نہیں،یہاں میں بھی جواب دہ ہوں اور آپ کو بھی جواب دینا ہوگا۔واقعہ کو گھمانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے دکھایاگیا کہ جیسے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ہر سطح پر مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ پہلے ہم سے کہا گیا کہ کوئی عورت گری ہی نہیں جبکہ وہ تین کلومیٹر دور تک پہنچ گئی۔ہم یہ کہہ رہے تھے کہ وہ گری ہی نہیں اوراس کے بعد اس کے شوہر کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔بجائے اس کے کہ اس کو دلاسہ دیتے کہ ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں اورہم انہیں ڈھونڈتے ہیں۔عظمی بخاری کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ انہیں بھی وہی انفارمیشن مل رہی تھی جو ہم سب کو ملی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ مجھ سے اتنے یقین کہ ساتھ بات کی گئی کہ یہ واقعہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوا۔سیف سٹی ہیڈ نے بتایا کہ وہاں کنسٹرکشن کی وجہ سے کیمرے عارضی طورپر ہٹا ئے گئے ہیں۔میں ہدایت کرتی ہوں کہ جہاں بھی کنسٹرکشن کے کام کی وجہ سے کیمرے ہٹانے پڑے ہیں ان کی جگہ عارضی موبائل یا وائرلیس کیمرے لگائے جائیں۔لوگوں کے لئے جھوٹ بولنا بہت آسان ہوتا ہے شاید کیمرے نہ ہونے کی وجہ سے کہہ دیا کہ عورت مین ہول میں گری ہی نہیں۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ جس مین ہول میں عورت گری اس سے ا گلا مین ہول کھول کر دیکھ لیتے اوراس کے بعد اس سے بھی اگلا مین ہول کھول کردیکھ لیتے شاید اس کی جان بچ جاتی۔اس کی بجائے ہمیں کہا گیا کہ عورت مین ہول میں گری ہی نہیں۔وہ اگلا مین ہول کھول کر کہاں دیکھتے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ کنسٹرکشن کا کام بند کر کے مین ہول لوگوں کے لئے کھلے چھوڑ جاتے ہیں۔میں پوچھتی ہوں کہ آپ لوگوں کے سینے میں دل ہے کہ نہیں۔آپ نے اللہ کو جواب دینا ہے۔کمشنر،ڈی سی لاہور،ڈی جی ایل ڈی اے اوریہاں موجود ڈیپار ٹمنٹ ہیڈ مجھے اس بات کا جواب دیں۔اصولاً کمشنر،ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے کو بھی سزا ملنی چاہیے۔اسسٹنٹ کمشنرجوکہ 2023سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں،انہیں پتہ ہی نہیں کہ یہاں کنسٹرکشن ہورہی ہے۔مین ہول میں گر کر مرنے اورمرڈر میں کوئی فرق نہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ پراجیکٹ مینجراوردیگر کا کیا کام ہوتا ہے؟وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کہیں اور مصروف ہونے کا بہانہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہر چیز کا اپنا اپنا نظام ہوتا ہے۔ایک کام کے پیچھے باقی ذمہ داریوں کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔عوام کی حفاظت اورخدمت بنیادی کام ہے اوراس کے لئے ٹیکنالوجی اورسیف سٹی کے کیمرے بھی موجود ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مرنے والی خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ ایک بندے نے مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ تم مزاق کر رہے ہو، تمہاری بیوی گری بھی ہے کہ نہیں۔یہ ایک انتہائی افسوسنا ک بات ہے۔



