اہم خبریںپاکستان

لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار، تشویشناک حقائق بے نقاب

تینوں ہسپتالوں میں مریضوں کو سرکاری ادویات میسر نہیں ہین، مریض یہ ادویات نجی میڈیکل سٹورز سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال نہایت تشویشناک حد تک ابتر ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں میو ہسپتال، چلڈرن اسپتال اور لاہور جنرل اسپتال میں بدانتظامی، ناقص سہولیات اور سنگین غفلت کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، جس نے صوبے کے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


سرکاری ادویات ناپید، مریض نجی میڈیکل اسٹورز کے رحم و کرم پر

رپورٹ کے مطابق تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بنیادی سرکاری ادویات تک دستیاب نہیں۔ درجنوں ضروری ادویات اسٹاک سے غائب ہیں، جس کے باعث مریضوں کو مہنگی ادویات نجی میڈیکل اسٹورز سے خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کے لیے شدید مالی بوجھ کا باعث بن رہی ہے۔


زائدالمعیاد ادویات اور انجکشنز، مریضوں کی جانوں کو براہ راست خطرہ

مانیٹرنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چلڈرن اسپتال اور جنرل اسپتال میں زائدالمعیاد ادویات اور انجکشنز موجود پائے گئے، جو بچوں اور دیگر مریضوں کی جان کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ایسی ادویات کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، جس پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔


مہنگے ٹیسٹ نجی لیبارٹریوں سے، تشخیصی نظام مفلوج

رپورٹ کے مطابق میو، چلڈرن اور جنرل اسپتال میں تشخیصی سہولیات بری طرح متاثر ہیں۔ مریضوں کو مہنگے ٹیسٹ نجی لیبارٹریوں سے کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ چلڈرن اسپتال میں ایم آر آئی مشین کے لیے ہفتوں اور مہینوں بعد کا وقت دیا جا رہا ہے، جبکہ ایکسرے فلمیں ناپید ہیں، جس کے باعث مریض موبائل فون سے تصاویر لے کر گزارا کر رہے ہیں۔


ڈاکٹرز اور عملے کی غیرحاضری، آپریشنز میں غیر معمولی تاخیر

مانیٹرنگ ٹیم نے تینوں ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کی ڈیوٹی سے غیرحاضری نوٹ کی۔ چلڈرن اور جنرل اسپتال میں ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے باعث آپریشنز میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ متعدد مریض ہفتوں سے وارڈز میں داخل ہیں لیکن تاحال ان کی سرجری شیڈول نہیں ہو سکی۔


او پی ڈی میں طویل قطاریں، مریض گھنٹوں انتظار پر مجبور

میو اور جنرل اسپتال کی او پی ڈی میں پرچیوں کے حصول کے لیے طویل قطاریں دیکھی گئیں، جہاں مریض گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ بزرگ، خواتین اور شدید بیمار مریضوں کے لیے یہ صورتحال نہایت تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے۔


صفائی کی ناقص صورتحال، گندے بستر اور واش رومز

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چلڈرن اور جنرل اسپتال میں گندے بستر، ناقص صفائی اور گندے واش رومز پائے گئے۔ کھلے کوڑے دان انفیکشن کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بچوں کے وارڈز میں ایک ہی بستر پر متعدد مریضوں کا لیٹے ہونا بھی رپورٹ کیا گیا، جو بنیادی طبی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


میو ہسپتال میں پینے کے پانی کا بحران، خون گٹر میں پھینکنے کا انکشاف

میو ہسپتال میں صاف پینے کے پانی کی عدم فراہمی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، مانیٹرنگ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مریضوں کا خون گٹر میں پھینکا جا رہا ہے، جو ماحولیاتی اور صحت کے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔


رشوت، بدتمیزی اور سیکیورٹی مسائل بھی بے نقاب

جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے رشوت طلب کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ چلڈرن اسپتال میں عملے کے مریضوں اور مانیٹرنگ ٹیم کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جو ادارہ جاتی زوال کی واضح علامت ہیں۔


فائر فائٹنگ آلات اور طبی مشینری بھی ناکارہ

چلڈرن اسپتال میں زائدالمعیاد فائر فائٹنگ آلات پائے گئے، جبکہ ڈینٹل یونٹس، تشخیصی مشینری اور مختلف وارڈز کی حالت بھی انتہائی خراب بتائی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ لاپرواہی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔


ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش

وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں ان تمام سنگین غفلتوں اور بدانتظامی کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو عوام کا صحت کے نظام پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button