انٹرٹینمینٹتازہ ترین

ہیرا منڈی کی تاریک گلیوں میں نیکی کا چراغ، پیر کاکی تاڑؒ کی اصلاحِ معاشرہ پر مبنی حیران کن زندگی کی کہانی

وہ دن رات انہی گلیوں میں گھومتے، لوگوں کو اللہ کا پیغام دیتے اور گناہ کے انجام سے آگاہ کرتے رہے، بغیر کسی خوف اور لالچ کے۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور کی تاریخی اور متنازعہ شناخت رکھنے والی ہیرا منڈی، جسے صدیوں سے گناہوں، استحصال اور اندھیروں کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی علاقے میں ایک ایسی باکردار اور روحانی شخصیت نے زندگی گزاری جس نے ان تاریک گلیوں کو نیکی، اصلاح اور انسانیت کے پیغام سے روشن کیا۔ یہ شخصیت سید بابا صفدر حسین شاہ المعروف پیر کاکی تاڑؒ کی تھی، جنہوں نے اپنی پوری زندگی برائی کے مرکز میں رہ کر بھلائی پھیلانے کے لیے وقف کر دی۔


مرشد کے حکم پر لاہور آمد اور بھاٹی گیٹ میں قیام

پیر کاکی تاڑؒ ایک پڑھے لکھے، صاحبِ علم اور دین سے گہری وابستگی رکھنے والے انسان تھے۔ اپنے مرشد کے حکم پر دین کی تعلیم و تبلیغ کے لیے وہ لاہور آئے اور بھاٹی گیٹ کے علاقے میں قیام پذیر ہوئے۔ ان کی زندگی سادگی، عبادت اور تقویٰ کا عملی نمونہ تھی۔ وہ پابندی سے پانچ وقت کے نمازی، پرہیزگار اور اللہ و رسول ﷺ کے پیغام کے سچے امین تھے۔


گندی گلیوں میں نیکی کا پیغام — مقصدِ حیات

پیر کاکی تاڑؒ نے عام مبلغین کے برعکس مساجد یا خانقاہوں تک محدود رہنے کے بجائے اصلاحِ معاشرہ کے لیے سب سے مشکل راستہ چنا۔ انہوں نے ہیرا منڈی اور بازارِ حسن کی گلیوں کو اپنا میدانِ عمل بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ جہاں گناہ ہے، وہیں نیکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

وہ دن رات انہی گلیوں میں گھومتے، لوگوں کو اللہ کا پیغام دیتے اور گناہ کے انجام سے آگاہ کرتے رہے، بغیر کسی خوف اور لالچ کے۔


بازارِ حسن کی لڑکیوں سے شفقت اور اصلاح کا انداز

پیر کاکی تاڑؒ کی ایک منفرد پہچان یہ تھی کہ جب بھی بازارِ حسن میں کوئی نئی لڑکی لائی جاتی، وہ اس کے پاس جاتے، شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اور کہتے:

“کاکی! کدھر آ گئی ہو؟ کیوں اس گندگی میں خود کو گندا کر رہی ہو؟”

اس کے بعد وہ نرمی اور محبت سے اسے اللہ کا پیغام، گناہوں کے اثرات اور پاکیزہ زندگی کی اہمیت سمجھاتے اور خاموشی سے واپس لوٹ آتے۔ ان کا یہ انداز نہ تحقیر پر مبنی تھا، نہ زبردستی پر، بلکہ خلوص اور دردِ دل سے لبریز ہوتا تھا۔


مخالفت، تشدد اور استقامت کی لازوال مثال

وقت کے ساتھ ساتھ پیر کاکی تاڑؒ کی اصلاحی سرگرمیوں نے اثر دکھانا شروع کیا۔ نہ صرف ہیرا منڈی بلکہ اردگرد کے علاقوں کے لوگ بھی ان کے مرید ہونے لگے۔ یہ بات بازارِ حسن کے بعض رہائشیوں اور لڑکیوں کے ڈیلروں کو ناگوار گزری۔

انہیں دھمکیاں دی گئیں، روڑے مارے گئے اور کہا گیا:
“بابا یہاں سے نکل جاؤ، یہاں تمہارا کوئی کام نہیں!”

مگر پیر کاکی تاڑؒ ثابت قدم رہے۔ نہ تشدد نے انہیں روکا، نہ طعنوں نے، اور نہ ہی خوف نے۔ وہ اسی استقامت سے انہی گلیوں میں گھومتے رہے۔


“کاکی تاڑ” نام کی وجہ شہرت

پیر کاکی تاڑؒ کے اس نام کی دو اہم وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

  1. وہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے عقیدت مند تھے۔

  2. وہ بازارِ حسن کی لڑکیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے، انہیں گناہ و ثواب سے آگاہ کرتے اور اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔

یوں “کاکی” اور “تاڑ” (نظر رکھنے والا) کے امتزاج سے یہ نام مشہور ہوا۔


سینکڑوں عورتوں کی امانت اور باعزت شادیاں

پیر کاکی تاڑؒ کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ بازارِ حسن کی تقریباً تین سو عورتوں نے اپنی جمع پونجی بطور امانت ان کے پاس رکھوائی۔ جب کوئی لڑکی دل سے یہ چاہتی کہ وہ اس زندگی سے نکل کر باعزت گھر بسانا چاہتی ہے، تو پیر کاکی تاڑؒ خود اس کی شادی کا بندوبست کرتے، یوں وہ باپ، سرپرست اور خیر خواہ کا کردار ادا کرتے رہے۔


بادشاہی مسجد کے نواح سے تاریخی چکلوں کا خاتمہ

پیر کاکی تاڑؒ کی جدوجہد کا ایک تاریخی باب وہ ہے جب انہوں نے بادشاہی مسجد کے نواح میں موجود پرانے اور تاریخی چکلوں کو ختم کروایا۔ یہ وہ کوٹھے تھے جنہیں جنرل ضیاء الحق سمیت کئی حکمران بھی خالی نہ کروا سکے تھے۔

پیر کاکی تاڑؒ نے مسلسل محنت، اصلاح اور دینی اثر کے ذریعے کئی سالوں بعد ان کوٹھوں کو خالی کروایا۔ یہاں رہنے والی خواتین کی یا تو شادیاں کروائیں یا انہیں علاقہ چھوڑ کر باعزت زندگی گزارنے پر آمادہ کیا۔


ایک خاموش مجاہدِ اصلاح

پیر کاکی تاڑؒ نہ میڈیا کے طالب تھے، نہ شہرت کے۔ وہ ایک خاموش مجاہد تھے جنہوں نے گناہ کے گڑھ میں رہ کر تقویٰ، ہمدردی اور اصلاح کا پرچم بلند رکھا۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو ایک فرد بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔


اختتامیہ دعا

پیر کاکی تاڑؒ کی زندگی ہم سب کے لیے ایک مثال ہے کہ برائی کو گالی دینے کے بجائے اسے محبت، صبر اور اصلاح سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button