
مصنف: بین نائٹ
جرمنی میں امریکہ کے خصوصی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے مساوی کوئی ایجنسی موجود نہیں، تاہم اگر انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی باویریا شاخ کی چلتی تو ایسا ہو سکتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے متاثر ہو کر، امیگریشن مخالف اس جماعت نے اس ہفتے ایسی ہی ایک تجویز دی ہے۔ ایک دستاویز، جسے جرمن اخبار ‘ٹاز‘ نے دیکھا ہے، میں تجویز دی گئی ہے کہ باویریا اسٹیٹ پولیس کے اندر ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے، جسے اے ایف اے یا ’تلاش اور ملک بدری گروپ‘ کہا جائے گا۔
لیکن یہ الگ سوال ہے کہ یہ کتنا مؤثر ہو گا۔ گزشتہ دس برسوں میں جرمن حکومت نے کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنا آسان بنایا جا سکے، جن کے بارے میں سرکاری نظام کے مطابق ”قیام کے امکانات کم‘‘ ہیں۔ حالیہ عرصے میں یہ کوششیں مزید تیز ہو گئی ہیں، کیونکہ چانسلر فریڈرش میرس اور ان کے پیشرو اولاف شولز دونوں نے ملک بدری میں قانونی رکاوٹیں کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے اثرات اعداد و شمار میں واضح ہیں: وزارتِ داخلہ کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے درمیان 21,311 افراد کو ملک بدر کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ 2023 سے 2024 کے درمیان بھی ملک بدری کے معاملات میں 22 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اس کے علاوہ، 2025 میں 30,000 سے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیا، جب انہیں ایک مخصوص نوٹس دیا گیا، جس میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں مقررہ تاریخ تک ملک چھوڑنا لازم ہے۔

کن لوگوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے؟
اصولی طور پر، کوئی بھی تارکِ وطن جس کے پاس رہائشی حیثیت نہ ہو، یا کوئی بھی پناہ گزین جس کی درخواست مسترد ہو چکی ہو، اسے ایک مقررہ مدت کے اندر جرمنی چھوڑنا لازم ہوتا ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے یہ عام طور پر ایک ماہ ہوتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
تاہم کچھ استثنائی صورتیں بھی ہوتی ہیں۔ بعض افراد کو، اگر ملک بدری میں کوئی رکاوٹ ہو تو ‘قابل برداشت حیثیت‘ دی جاتی ہے۔ جیسے کہ:شناخت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال۔کسی ایسے فرد سے انحصاری خاندانی تعلق جسے قابل برداشت حیثیت حاصل ہو۔انسانی یا طبی وجوہات۔اگر وہ پہلے ہی جرمنی میں ملازمت حاصل کر چکے ہوں۔جرمنی میں تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار افراد کو ‘قابل برداشت حیثیت‘ حاصل ہے۔ملک بدری کا فیصلہ مقامی امیگریشن اتھارٹی کرتی ہے، جو یہ جانچتی ہے کہ آیا ملک بدری میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود ہے یا نہیں۔ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو ملک بدری کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے،جس کی اطلاع متعلقہ فرد کو نہیں دی جاتی۔ اگر متعلقہ شخص پہلے ملک بدری سے بچنے کی کوشش کر چکا ہو، یا حکام کو اندیشہ ہو کہ وہ فرار ہو سکتا ہے، تو ریاست اسے ملک بدری تک حراست میں رکھنے کا حکم دے سکتی ہے۔گوٹنگن یونیورسٹی کی محقق اور یورپ بھر میں واپسی اور دوبارہ قبولیت کی پالیسیوں کے اثرات پر تحقیق کرنے والے منصوبے کی رکن سوینیا شورادہ نے کہا، ”ملک بدری اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک نہایت بیوروکریٹک اور محنت طلب عمل ہے۔ یہ جزوی طور پر ایسا اس لیے بھی ہے کہ ملک بدری میں بین الاقوامی سفارت کاری شامل ہوتی ہے۔ یعنی کن شرائط کے تحت ممالک اپنے شہریوں کو واپس قبول کریں گے؟ اس کے لیے مخصوص ثبوت اور سفارتی تعلقات درکار ہوتے ہیں، اور اس کے بعد ایک نسبتاً پیچیدہ انتظامی عمل ہوتا ہے۔‘‘
اگرچہ ملک بدری کا فیصلہ ریاستی امیگریشن حکام کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ملک بدری وفاقی پولیس افسران انجام دیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں مخصوص ممالک کے لیے پورے طیارے کرائے پر لیے جاتے ہیں تاکہ ”اجتماعی ملک بدری‘‘ کی جا سکے، اور پولیس کوشش کرتی ہے کہ گرفتاریوں کا انتظام اس طرح ہو کہ پرواز مکمل طور پر بھر جائے۔ 2024 میں تقریباً 20,100 ملک بدریوں میں سے 7,300 چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے کی گئیں۔
یہ عمل ریاست کے لیے مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے۔ صرف ایک پرواز چارٹر کرنے پر ہی دسیوں ہزار یورو خرچ ہو سکتے ہیں، اور ملک بدر کیے جانے والوں کے ساتھ جانے کے لیے کئی وفاقی افسران کو بھی پرواز میں شامل کیا جاتا ہے۔
اکثر صورتوں میں، ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے والے افراد کو پہلے امیگریشن دفتر میں حاضر ہونے کے لیے بلایا جاتا ہے، جہاں ایک وفاقی پولیس افسر انہیں اطلاع دیتا ہے کہ انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انہیں کپڑے اور ذاتی سامان لینے کے لیے گھر لے جایا جاتا ہے اور پھر براہِ راست ہوائی اڈے پہنچایا جاتا ہے۔
تاہم بعض معاملات میں پولیس علی الصبح ان کے گھروں پر پہنچ کر انہیں گرفتار کر لیتی ہے۔ امریکہ کی آئی سی ای کے برعکس، یہ افسران نقاب نہیں پہنتے اور وردی میں ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی شناخت ساتھ رکھنی ہوتی ہے اور پوچھے جانے پر اپنا نام بتانا لازم ہوتا ہے۔
ایسی کئی کہانیاں سامنے آئی ہیں جو اس عمل کی ذہنی دباؤ والی نوعیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ جرمنی میں تارکین وطن کے ایک رہائشی مرکز کے سابق منتظم نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایک کیس میں پولیس صبح 5 بجے آئی اور ایک معذور شخص کو سیدھا ہوائی اڈے لے گئی، جبکہ اس کی اہلیہ، جو خود بھی معذور تھیں، بغیر کسی بنیادی دیکھ بھال کرنے والے کے رہ گئیں۔
سرکاری طور پر ملک بدر کیے جانے والوں کو روانگی سے پہلے فون کال کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں وکلا نے آخری لمحے میں مداخلت کر کے ملک بدری روک بھی دی ہے، تاہم یہ رپورٹس بھی ہیں کہ بعض افراد سے ان کے فون لے لیے جاتے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں جرمن حکومت نے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
تاہم، شورادہ کے مطابق، یہ اقدامات ضروری نہیں کہ ملک بدری کے عمل کو واقعی تیز کریں۔
انہوں نے کہا،”ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اقدامات نے لازمی طور پر ملک بدری کو زیادہ مؤثر نہیں بنایا۔ البتہ، ان کے نتیجے میں سماجی اخراج میں اضافہ ہوا اور لوگوں کو زیادہ غیر محفوظ حالات میں ڈال دیا گیا۔‘‘



