مشرق وسطیٰ

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، مشرق وسطیٰ بے یقینی کا شکار

آئندہ ہفتے کے آغاز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس آبنائے ہرمز میں براہِ راست فائرنگ کی مشقیں شروع کرے گی

جینیفر ہولائس، کیرسٹن کنیپ

خلیجی ریاستیں واضح کر چکی ہیں کہ وہ ایران کے خلاف حملے کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گی۔ تاہم امریکی اڈوں کی موجودگی میں ان ریاستوں کو ایرانی جوابی حملوں کا خطرہ بدستور لاحق ہے۔

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، جن کے ملک کے ایران کے ساتھ تعلقات میں حالیہ عرصے میں بہتری آئی ہے مگر مکمل سفارتی سطح تک نہیں پہنچے، نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی اور امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا تاکہ ”خطے کو عدم استحکام کے نئے دائرے میں پھسلنے سے بچانے کے لیے سکون کی فضا پیدا کی جا سکے۔‘‘

ایرانی حکومت نے امریکی حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے
ایرانی حکومت نے امریکی حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہےتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

اسی دوران شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹ میرین ٹریفک نے بتایا کہ جوہری توانائی سے چلنے والا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور تقریباً 10 امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خطے میں پہنچ چکے ہیں، جو سمندر سے حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا ادارے پریس ٹی وی نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے کے آغاز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس آبنائے ہرمز میں براہِ راست فائرنگ کی مشقیں شروع کرے گی۔ یہ سمندری کھاڑی سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

ایران کے اقوامِ متحدہ میں مشن نے ایکس پر لکھا، ”ایران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اگر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اپنا دفاع کرے گا اور ایسا جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔‘‘اسی تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی شمخانی نے لکھا، ”محدود حملہ محض ایک فریب ہے‘‘ اور خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی سطح پر فوجی کارروائی کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا، جس کا جواب فوری، بھرپور اور غیر معمولی ہوگا۔

لندن میں قائم تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کی ماہر صنم وکیل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ تہران کی اقتصادی ریلیف اور عالمی نظام میں دوبارہ شمولیت ممکن ہے، لیکن ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں پر مستقل اور قابلِ تصدیق پابندیاں قبول کرے اور خطے میں اپنے رویے میں تبدیلی لائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمانتصویر: Brendan Smialowski/AFP/Getty Images

امریکہ اور ایران کے درمیان  کشیدگی دسمبر 2025 ء سے ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ میں قائم غیر سرکاری تنظیم  ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران کے مطابق 30 جنوری تک 6,479 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 6,092 مظاہرین اور 118 بچے شامل ہیں، جبکہ 42,450 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان بدامنیوں کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی کا خدشہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنے دفاعی نظام کی مکمل بحالی ابھی تک نہیں کر سکا۔ خلیجی ریاستیں بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں خطے میں تشدد بے قابو ہو سکتا ہے اور وہ خود ایرانی حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں، جن میں قطر، سعودی عرب اور بحرین میں امریکی اڈے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

ان خدشات میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران پر زور دیا کہ وہ ”مذاکرات کی میز پر آئے‘‘ اور جوہری ہتھیاروں سے پاک ایک ”منصفانہ معاہدہ‘‘ کرے، کیونکہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ تاہم ایسے کسی معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں، جبکہ متعدد سرکاری رپورٹس کے مطابق ایران کی یورینیم افزودگی کی سطحیں اس کے پروگرام کے محض سویلین ہونے کے دعووں کے برعکس اشارہ کر رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button