انٹرٹینمینٹتازہ ترین

لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر: وفاقی و صوبائی حکومت کے اشتراک سے فیسٹیول کی شان و شوکت میں اضافہ

یہ بسنت کی واپسی پاکستان کے سوشل میڈیا کے دور میں ایک نیا رنگ لے کر آئی ہے، جس میں لوگوں کی زندگیوں میں چھوٹے چھوٹے رنگوں کی بڑی اہمیت ہے

رپورٹ انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور میں بسنت کی رنگا رنگ تیاریاں شروع

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ یہ تہوار دو دہائیوں کے بعد سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے اور لاہور کے شہریوں کے لئے ایک خوشی کی خبر کے طور پر آیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے کے دوران لاہور میں پانچ فروری سے آٹھ فروری تک چھٹیاں ہوں گی، جن میں بسنت کی تعطیلات اور یوم کشمیر کی تعطیلات بھی شامل ہوں گی۔

یہ بسنت کی واپسی پاکستان کے سوشل میڈیا کے دور میں ایک نیا رنگ لے کر آئی ہے، جس میں لوگوں کی زندگیوں میں چھوٹے چھوٹے رنگوں کی بڑی اہمیت ہے۔ سرکاری سطح پر منائی جانے والی یہ پہلی بسنت اپنے رنگوں اور خوشبووں کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر نمایاں ہے۔


5 سے 8 فروری تک تعطیلات، بسنت کی چھٹیاں اور یوم کشمیر

اس سال کی بسنت کی تعطیلات خاص طور پر پانچ فروری کو یوم کشمیر کے طور پر منائی جائیں گی، جس کے ساتھ ہی لاہور کے شہریوں کو چھٹیاں انجوائے کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے لاہور کی سڑکوں، چوراہوں اور اہم مقامات کو بسنت کے رنگوں سے سجا دیا ہے۔ اسی دوران، شہر کے مختلف مقامات پر برقی قمقوں، رنگ برنگے غباروں اور بسنتی رنگوں کی سجاوٹ کی گئی ہے تاکہ شہری اس تہوار کا بھرپور مزہ لے سکیں۔

بسنت 6، 7 اور 8 فروری کو منائی جا رہی ہے، اور ان تین دنوں کے دوران لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ مفت کی جائے گی تاکہ عوام کو آسانی سے سفر کرنے کا موقع ملے اور موٹر سائیکلوں کا استعمال کم ہو سکے۔


بسنت کا سامان، پتنگیں اور گڈے: مارکیٹ میں مہنگائی

یکم فروری سے قانونی طور پر پتنگیں اور ان کے متعلق سامان بیچنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں سامان کی کمی کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ پتنگوں کی قیمت 400 روپے سے 700 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں دکانداروں نے بتایا کہ پتنگوں کی فروخت میں اضافے کے ساتھ مال کم پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محمد علی، جو کہ سرکاری لائسنس یافتہ پتنگ فروش ہیں، نے کہا:

"حکومت نے جو ‘کنٹرولڈ بسنت’ کا تصور دیا تھا، وہ اب عملی طور پر نہیں رہا۔ ہر شخص بسنت منانا چاہتا ہے لیکن مارکیٹ میں اتنا کم سامان دستیاب ہے کہ ہر علاقے میں بسنت کا سامان پھیلانا ممکن نہیں تھا۔”

پتنگ بازی کے سامان کی فروخت کے حوالے سے حکومت نے صرف لاہور کی حدود میں لائسنس جاری کیے ہیں، جس کی وجہ سے سامان کی فراہمی میں مشکلات آ رہی ہیں۔


بسنت کی سجاوٹ: شہر کی خوبصورتی میں اضافہ

ضلعی انتظامیہ نے شہر کی سڑکوں اور چوراہوں کو بسنت کے رنگوں میں رنگنا شروع کر دیا ہے۔ لاہور کی مشہور لبرٹی چوک میں ایک دیوقامت گڈے کا ماڈل نصب کیا گیا ہے جو بسنت کی شان و شوکت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کی صفائی ستھرائی کے کاموں کو بھی ترجیح دی گئی ہے تاکہ بسنت کے دوران عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

مختلف کمپنیاں اس تہوار کی سجاوٹ میں حصہ لے رہی ہیں اور بیشتر سجاوٹ نجی شعبے کی سپانسرشپ سے کی جا رہی ہے، جس سے حکومت پر اخراجات کا بوجھ کم ہو رہا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس بسنت فیسٹیول پر حکومت کم از کم 30 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، تاہم ان اخراجات کا بیشتر حصہ نجی شعبے کے تعاون سے پورا کیا جا رہا ہے۔


مفت ٹرانسپورٹ سروسز: شہریوں کی سہولت

بسنت کے تینوں دن لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا جائے گا۔ میٹرو، اورنج لائن، سپیڈو اور الیکٹرو بس سروس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں بسوں اور ہزاروں رکشوں کو شہر کے مختلف علاقوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو کسی بھی حادثے سے بچانا ہے اور ساتھ ہی موٹر سائیکلوں پر کم سے کم سفر کرنا یقینی بنانا ہے۔


چھتوں پر اجتماعات اور نئے رولز

اندرون لاہور میں بسنت منانے کے لئے گھروں کی چھتوں کے کرایہ پر دینے کا عمل بھی بڑھ گیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے نئے رولز متعارف کرائے ہیں، جن کے مطابق چھت پر 30 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے کے لیے ضلعی حکومت سے پرمٹ لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ چھتوں کے استعمال کے لیے 12 نکاتی کوڈ آف کنڈکٹ بھی لاگو کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔


ڈرون کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کا انتظام

ضلعی انتظامیہ نے اس بار بسنت کے دوران ایونٹ کی نگرانی کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈرون کیمروں کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بسنت کے دوران ہونے والے بڑے اجتماعات اور پتنگ بازی کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کی جائے گی، تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔


مجموعی طور پر بسنت کا منظر

لاہور میں بسنت کی واپسی کو شہر کے لوگ خوشی اور جوش کے ساتھ منا رہے ہیں، تاہم اس تہوار کے دوران سامان کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ شہر کی سجاوٹ اور مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں شہریوں کو خوش کر رہی ہیں، اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نئی نگرانی اور حفاظتی تدابیر بھی اس بار بسنت کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔


اختتامیہ

بسنت لاہور کے شہریوں کے لئے خوشی کا موقع ہوتا ہے اور اس بار حکومت کی جانب سے اسے سرکاری سطح پر منانے کے لئے کی جانے والی تیاریوں نے اس تہوار کو اور بھی خاص بنا دیا ہے۔ اس سال بسنت کا آغاز سوشل میڈیا کے دور میں ہو رہا ہے، جو اسے ایک نیا رنگ دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور کے شہری کس طرح اس رنگین تہوار کو مناتے ہیں اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button