
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرداروں، بیوروکریسی اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ ہے جو وہاں چلنے والی تحریک کے پیچھے ہیں جن کو سمگلنگ کی روک تھام سے کاروباری نقصان پہنچا ہے۔
پیر کی شام قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی میں مخلتف ادوار میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پہلے 50 کی دہائی میں، پھر 60 کی دہائی میں اور بعد ازاں 70 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وہاں بہت بڑا آپریشن کیا گیا۔
’اور یہ سلسلہ باوجود اس کے کہ وہاں لمبے عرصے امن رہا، ترقیاتی کام بھی ہوئے، وہاں پاکستان کی آزادی کے بعد ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بنیں۔‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں بلوچستان میں قبائلی سرداروں کے مفادات اور کچھ دوسرے عناصر جن کو انڈیا سپورٹ کرتا ہے وہ بھی وہاں موجود ہیں، اسی طرح افغانستان کی سرزمین سے بھی اس بے امنی کو ہوا دی گئی اور اب بھی دی جا رہی ہے۔
’ان دہشت گردوں کی جتنی بھی لیڈرشپ ہے وہ افغانستان میں مقیم ہے اور وہاں سے اُن کو مدد ملتی ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ اس ساری تحریک میں جو بھی سیاسی عنصر تھا اُس کو وہاں کی سمگلنگ نے ہائیک جیک کر لیا۔ اربوں کھربوں روپے کے اس سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کے قومی خزانے کو نقصان ہو رہے تھے
’اس میں سب سے بڑی تیل کی سمگلنگ تھی۔ جرائم پیشہ مافیا نے اس تحریک کی پشت پناہی شروع کر دی۔‘
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ’اُن عناصر کی لیڈرشپ اب ان کے پاس ہے،جو 40 روپے کا لیٹر تیل ایران سے منگوایا جاتا تھا کوٹے پر وہ کراچی میں 200 روپے کا فروخت ہوتا تھا، اس سے آپ منافع کی شرح کا اندازہ لگائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ کے نام پر منگوایا جانے والا سامان واپس لا کر پاکستانی مارکیٹس میں بیچا جاتا رہا۔ ’ہماری حکومت نے اس کو سختی سے روکا، اس کے خلاف چمن بارڈر اور دیگر علاقوں میں احتجاج بھی ہوا۔‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’جس کو قومی تحریک کہا جاتا تھا وہ جرائم پیشہ عناصر اور تیل کے سمگلرز کی، اور دیگر سامان کی سمگلنگ کی تحریک بن گئی اور وہ عناصر ان کو فنڈنگ کرنے لگے۔‘
انہوں نے کہا کہ سیاسی تحریکوں کے ساتھ مذاکرات دوسرے ملکوں میں بھی ہوتے رہے، مگر جن کے 177 لوگ بلوچستان میں مارے گئے ان کی کوئی سیاسی شناخت نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ان کے کاروبار کے نقصان سے معاملہ شروع ہوا ہے۔



