کھیلاہم خبریں

15 فروری کو ٹی 20 میچ نہ کھیلنے کی صورت میں انڈیا کو 45 سو کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ

ٹی 20 کرکٹ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اور منافع بخش کرکٹ فارمیٹ بن چکی ہے

نئی دہلی: کرکٹ کی دنیا میں ایک اہم بحث نے جنم لے لیا ہے کہ اگر 15 فروری کو شیڈول انڈیا کا ٹی 20 میچ نہیں کھیلا گیا تو بھارتی کرکٹ اور اس سے وابستہ اسپورٹس انڈسٹری کو تقریباً 45 سو کروڑ روپے کے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کھیلوں کے ماہرین اور معاشی تجزیہ کار اس فیصلے کو بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

ٹی 20 کرکٹ: آمدنی کی ریڑھ کی ہڈی

ٹی 20 کرکٹ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اور منافع بخش کرکٹ فارمیٹ بن چکی ہے۔ بھارت میں اس کی مقبولیت کسی بھی دوسرے کھیل یا فارمیٹ سے کہیں زیادہ ہے۔
براڈکاسٹنگ رائٹس، ڈیجیٹل اسٹریمنگ، اسپانسرشپ، اشتہارات اور ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے مالی نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق 15 فروری کے ٹی 20 میچ کی منسوخی یا عدم شرکت سے:

  • ٹی وی اور ڈیجیٹل براڈکاسٹرز کو فوری نقصان

  • اسپانسرز کے اعتماد میں کمی

  • اشتہاری معاہدوں کی مالیت میں گراوٹ
    دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

45 سو کروڑ روپے کا ممکنہ نقصان کیسے؟

کرکٹ اکنامکس سے وابستہ رپورٹس کے مطابق اگر بھارت مستقل یا جزوی طور پر ٹی 20 میچز سے پیچھے ہٹتا ہے تو آئندہ چند برسوں میں مجموعی نقصان 45 سو کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس میں شامل ہیں:

  • براڈکاسٹنگ رائٹس کی قدر میں کمی

  • آئی پی ایل اور دیگر ٹی 20 لیگز کی عالمی مارکیٹ ویلیو پر اثر

  • اسپورٹس مارکیٹنگ اور برانڈ ڈیلز کا نقصان

بی سی سی آئی اور آئی پی ایل پر اثرات

بی سی سی آئی اس وقت دنیا کا سب سے امیر کرکٹ بورڈ ہے، اور اس کی زیادہ تر آمدنی ٹی 20 کرکٹ، خاص طور پر آئی پی ایل، سے آتی ہے۔
اگر 15 فروری جیسے اہم شیڈول میچز نہ کھیلے گئے تو:

  • آئی پی ایل کی عالمی مقبولیت متاثر ہو سکتی ہے

  • غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو سکتے ہیں

  • مستقبل کے میڈیا رائٹس معاہدے کم قیمت پر طے پانے کا خدشہ ہے

کھلاڑیوں اور نوجوان ٹیلنٹ کے لیے نقصان

ٹی 20 کرکٹ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے شہرت اور روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
میچ نہ ہونے کی صورت میں:

  • نوجوان کھلاڑیوں کو خود کو منوانے کے مواقع کم ہوں گے

  • ڈومیسٹک کرکٹ کا اسٹرکچر متاثر ہوگا

  • کئی کھلاڑیوں کی مالی آمدنی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے

شائقینِ کرکٹ میں مایوسی

بھارتی شائقین، خاص طور پر نوجوان نسل، ٹی 20 کرکٹ کو سب سے زیادہ پسند کرتی ہے۔ 15 فروری کے میچ نہ ہونے کی خبر نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں مداحوں نے اس فیصلے کو کرکٹ کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔

ماہرین کی رائے

کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور فٹنس جیسے مسائل اہم ضرور ہیں، لیکن ٹی 20 کرکٹ سے مکمل کنارہ کشی بھارت کے لیے معاشی اور اسٹریٹجک طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

15 فروری کو انڈیا کا ٹی 20 میچ نہ کھیلنا محض ایک میچ کی منسوخی نہیں بلکہ یہ بھارتی کرکٹ معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ 45 سو کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بی سی سی آئی کو محتاط اور متوازن فیصلہ کرنا ہوگا، تاکہ نہ صرف کرکٹ بلکہ اس سے جڑی پوری اسپورٹس انڈسٹری محفوظ رہ سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button