
بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے: چین کی شدید مذمت، پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان
بیجنگ کا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ، عالمی برادری کی جانب سے بھی مذمتی بیانات
وائس آف جرمنی اردو نیوز ،بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ
چین نے بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے بڑے پیمانے پر مربوط دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے منگل کے روز بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح طور پر مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان لن جیان سے پریس بریفنگ کے دوران گزشتہ ہفتے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مربوط حملوں کے حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ چین کو ان واقعات پر گہرا دکھ اور تشویش ہے۔ انہوں نے کہا،
“ہم ان حملوں میں جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے دل زخمیوں اور ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چین ہمیشہ کی طرح دہشت گردی سے نمٹنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے، سماجی استحکام برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا بیان
اس سے قبل پیر کے روز پاکستان میں چینی سفارت خانے نے بھی بلوچستان میں “حالیہ متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں” کی شدید مذمت کی تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں چینی سفارت خانے نے کہا تھا:
“ہم جانوں کے ضیاع پر گہرے سوگ کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔”
چینی سفارت خانے کے بیان کو پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تزویراتی شراکت داری اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے مذمت
چین کے علاوہ امریکا، یورپی یونین، ایران اور کئی دیگر ممالک نے بھی بلوچستان میں ہونے والے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ عالمی رہنماؤں اور سفارتی حلقوں نے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کو خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بعض علاقوں سمیت بلوچستان کے تقریباً ایک درجن شہروں اور قصبوں میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ جوابی کارروائی کے دوران 92 دہشت گرد مارے گئے، تاہم ان حملوں کو پسپا کرتے ہوئے 15 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 18 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔
بیان کے مطابق حملے ہندوستانی سرپرستی میں سرگرم تنظیم “فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کیے، جن کا مقصد بلوچستان کے امن و استحکام کو خراب کرنا تھا۔ ریاستی مؤقف کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام میں بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کرنے کے لیے بلوچستان میں سرگرم ان دہشت گرد گروہوں کو “فتنہ الہندوستان” کا نام دیا گیا ہے۔
مختلف اضلاع میں حملوں کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ کے علاقے سریاب میں پولیس تھانوں کو نشانہ بنایا، سرکاری ریکارڈ نذرِ آتش کیا اور مزاحمت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ اسی دوران ہزار گنجی کے علاقے میں بینکوں پر چھاپے مارے گئے، جبکہ سریاب کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ کے بعد حملہ آور منتشر ہو گئے۔
ضلع خاران میں مسلح افراد نے ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین کی رہائش گاہ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے چھ سیکیورٹی گارڈز ہلاک ہو گئے۔ سینئر پولیس افسر عبدالباقی کے مطابق حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں مسلح افراد نے سابق تحصیلدار عابد کو اغوا کرنے کی کوشش کی، تاہم مزاحمت پر انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
مستونگ میں دہشت گردوں نے ایک تھانے کو نذرِ آتش کیا، ڈسٹرکٹ جیل پر دھاوا بول کر 30 قیدیوں کو رہا کر دیا اور بینکوں و سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا۔ اسی طرز کے حملے قلات میں بھی کیے گئے، جہاں بینکوں اور تھانوں پر حملوں میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
بھارت پر الزامات
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے پیچھے “بنیادی ملک” ہے۔ ہفتے کی رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نہ صرف دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی تیاری میں بھی ان کی مدد کر رہا ہے۔
مجموعی صورتحال
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حالیہ مربوط حملے ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی کا حصہ تھے، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے بڑے پیمانے پر تباہی کے خطرے کو ٹال دیا۔
چین سمیت عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔



