پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں شدت پسند حملے: جیلیں توڑ کر درجنوں قیدی فرار

سابق چیف جسٹس کے قتل میں نامزد دو خطرناک ملزمان بھی شامل

انصار ذاہدسیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

بلوچستان کے سرکاری حکام نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں شدت پسندوں کی جانب سے اہم سرکاری عمارتوں اور جیلوں پر ہونے والے حالیہ منظم حملوں کے دوران درجنوں قیدی جیلوں سے فرار ہو گئے، جن میں بلوچستان ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار دو انتہائی خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔


دس سے زائد اضلاع میں بیک وقت حملے، جیلیں بھی نشانہ

حکام کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مربوط اور بیک وقت حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے گھروں، سرکاری دفاتر، پولیس تھانوں، سکیورٹی فورسز کے کیمپوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی دوران نوشکی اور مستونگ کی جیلوں پر بھی شدید حملے کیے گئے، جہاں حملہ آوروں نے جیل توڑ کر وہاں موجود تمام قیدیوں کو فرار کرا لیا۔


نوشکی جیل پر حملے کی تفصیلات: اہلکار یرغمال، جیل نذرِ آتش

حکام کے مطابق نوشکی جیل پر حملہ آوروں نے پہلے شدید فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جیل کے سپرنٹنڈنٹ ایس پی کاشف زمان اور ایک اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد حملہ آور جیل کے اندر داخل ہوئے، عملے کو یرغمال بنایا، تالے توڑے اور قیدیوں کو رہا کر دیا۔

بعد ازاں حملہ آوروں نے جیل کو آگ لگا دی، جس کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اسی روز مستونگ جیل پر بھی حملہ کیا گیا جہاں سے قیدی فرار ہو گئے۔


62 سے زائد قیدی فرار، سنگین جرائم میں ملوث ملزمان شامل

محکمہ جیل خانہ جات کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نوشکی جیل سے 35 جبکہ مستونگ جیل سے 27 قیدی فرار ہوئے۔ ان میں دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، منشیات، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم میں گرفتار انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ قیدی شامل ہیں۔

مستونگ پولیس کے مطابق حملوں کے دوران پولیس تھانوں پر دھاوے کے نتیجے میں پولیس حوالات سے بھی تین قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔


سابق چیف جسٹس کے قتل میں نامزد دو انتہائی خطرناک قیدی بھی فرار

بلوچستان پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ نوشکی جیل سے فرار ہونے والوں میں دو انتہائی خطرناک قیدی شفقت اللہ اور حجاب الرحمان بھی شامل ہیں۔

یہ دونوں ملزمان اکتوبر 2022 میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل اور دیگر دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کیے تھے۔


جیل کے اندر ٹرائل، فیصلہ آخری مراحل میں تھا

افسر کے مطابق دونوں ملزمان کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا، جس کے باعث ان کا ٹرائل کھلی عدالت کے بجائے نوشکی جیل کے اندر ہی جاری تھا۔ متعلقہ جج جیل آ کر سماعت کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس کے قتل کا مقدمہ آخری مراحل میں تھا اور عدالت کی جانب سے جلد فیصلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔


دیگر سنگین مقدمات میں بھی نامزد

حکام کے مطابق دونوں ملزمان خاران میں پولیس تھانوں پر بم حملوں، دستی بم حملوں اور اسلحہ برآمدگی جیسے مقدمات میں بھی نامزد تھے۔

جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی سے فرار ہونے والے دیگر قیدیوں میں کم از کم تین قتل اور پانچ سے زائد منشیات کے مقدمات میں گرفتار ملزمان بھی شامل ہیں۔

ایک قیدی ایسا بھی تھا جو پہلے منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہوا، ضمانت پر رہا ہو کر فرار ہوا، بعد ازاں اغوا برائے تاوان کے کیس میں دوبارہ گرفتار ہوا اور اب دوسری مرتبہ جیل سے فرار ہو گیا۔


حالات اس قدر خراب تھے کہ قیدی بھی مجبوراً نکل آئے

محکمہ جیل خانہ جات کے افسر کے مطابق حالات اس قدر سنگین تھے کہ وہ قیدی بھی جیل سے نکلنے پر مجبور ہو گئے جو درحقیقت فرار نہیں ہونا چاہتے تھے اور اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔

ان کے مطابق حملہ آوروں نے پوری جیل خالی کروائی، آگ لگا دی جبکہ شہر میں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پولیس تھانے بھی نذرِ آتش کیے گئے۔


نوشکی تین دن تک محاصرے میں، زخمیوں کو کوئٹہ منتقل نہ کیا جا سکا

ذرائع کے مطابق ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے دفاتر بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ راستے بند ہونے کے باعث زخمی افسران اور اہلکاروں کو تاحال کوئٹہ منتقل نہیں کیا جا سکا۔

ایک سینیئر افسر کے مطابق تین دن تک نوشکی شہر عملی طور پر محاصرے میں رہا۔ سکیورٹی فورسز کی ترجیح اہم سرکاری تنصیبات کا دفاع اور شہریوں کی حفاظت تھی، اسی لیے مفرور قیدیوں کی گرفتاری فوری طور پر شروع نہ ہو سکی۔


اب شہر کا کنٹرول بحال، قیدیوں کی تلاش شروع

حکام کے مطابق اب سکیورٹی فورسز نے نوشکی شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے جاری آپریشن کے دوران فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔


جیلوں سے قیدیوں کے فرار کی تحقیقات کا فیصلہ

محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق نوشکی اور مستونگ کی جیلوں سے قیدیوں کے فرار کے معاملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سکیورٹی میں ممکنہ غفلت، حملوں کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کی سفارش کرے گی۔


صوبے بھر کی جیلوں کی سکیورٹی ہائی الرٹ

دوسری جانب صوبے بھر کی جیلوں خصوصاً ضلع کچھی (بولان) کے پہاڑی علاقے مچھ میں واقع صوبے کی سب سے بڑی جیل کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

پولیس اور فرنٹیئر کور کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام جیلوں کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی اور اضافی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔


جسٹس محمد نور مسکانزئی: قتل کا پس منظر

یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج جسٹس محمد نور مسکانزئی کو 14 اکتوبر 2022 کو ضلع خاران میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ مسجد میں نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے۔

ان کے قتل کی ذمہ داری بعد ازاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک آزاد گروپ نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان نے قتل کی وجہ توتک کمیشن کے فیصلے کو قرار دیا تھا۔


توتک اجتماعی قبر کیس اور تنازع

جسٹس محمد نور مسکانزئی دسمبر 2014 سے اگست 2018 تک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ بعد ازاں وہ مئی 2019 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور قتل سے چند ماہ قبل ریٹائر ہوئے تھے۔

وہ ضلع خضدار کے علاقے توتک میں جنوری 2014 میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبر کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کے سربراہ بھی رہے تھے۔ اس کمیشن نے اپنے فیصلے میں سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا تھا، جس پر لاپتہ افراد کے لواحقین اور بلوچ قوم پرست تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔


سی ٹی ڈی کی گرفتاری اور اعترافی بیان

جسٹس مسکانزئی کے قتل کے تقریباً دو ہفتے بعد، اکتوبر 2022 کے آخر میں سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی اعتزاز گورائیہ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران خاران کے رہائشی شفقت اللہ یلانزئی اور اس کے ایک ساتھی کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق ملزم کو سابق چیف جسٹس کے قتل کے احکامات پڑوسی ملک میں موجود کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر کی جانب سے دیے گئے تھے۔


اعترافی ویڈیو اور الزامات

پریس کانفرنس میں ایک اعترافی ویڈیو بھی دکھائی گئی تھی جس میں ملزم نے کہا تھا کہ اس نے 2020 میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی، ہمسایہ ملک جا کر اسلحہ اور بم سازی کی تربیت حاصل کی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم نے سابق چیف جسٹس کے قتل، خاران کے چیف چوک پر بم حملے، پولیس تھانے پر دستی بم حملوں، دو پنجابی مزدوروں کے قتل اور ایک حساس ادارے کے دفتر پر مارٹر گولے داغنے کا بھی اعتراف کیا تھا۔


ملزم کے اہل خانہ کا مؤقف

تاہم شفقت اللہ یلانزئی کے والد حاجی عبدالرحیم یلانزئی نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیٹے پر عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button