بین الاقوامیاہم خبریں

اقوام متحدہ کے ماہرین کی پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کو دی گئی طویل سزاؤں پر شدید تشویش

ماہرین نے خبردار کیا کہ اظہارِ رائے پر اس نوعیت کی پابندیاں نہ صرف وکلا بلکہ مجموعی طور پر سول سوسائٹی کے لیے خوف اور دباؤ کی فضا پیدا کرتی ہیں۔

سید مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان میں معروف انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری حاضر اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو فوجداری الزامات کے تحت طویل قید کی سزائیں سنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں کو آزادی اظہار کے بنیادی حق سے فائدہ اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے منافی ہے۔


آزادی اظہار کے استعمال کو جرم قرار دینے پر اعتراض

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ان کی جانب سے اظہارِ رائے کے حق کے استعمال پر سزا دی گئی۔ ماہرین نے واضح کیا کہ وکلا بھی دیگر شہریوں کی طرح آزادی اظہار کا حق رکھتے ہیں اور اس حق کے استعمال کو کسی صورت مجرمانہ فعل یا دہشت گردی کے مترادف قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اظہارِ رائے پر اس نوعیت کی پابندیاں نہ صرف وکلا بلکہ مجموعی طور پر سول سوسائٹی کے لیے خوف اور دباؤ کی فضا پیدا کرتی ہیں۔


انسداد دہشت گردی قوانین کے مبہم استعمال پر تشویش

اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانونی فریم ورک میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کی وسیع اور مبہم تعریف پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین کا غیر واضح اور وسیع اطلاق انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کے کام کو کمزور کرنے اور اسے مجرمانہ رنگ دینے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے پورے ملک میں انسانی حقوق کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔


سوشل میڈیا پوسٹس پر فوجداری کارروائی کا آغاز

ماہرین کے مطابق ایمان مزاری حاضر کے خلاف 22 اگست 2025 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کرنے پر فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف اسی پوسٹ کو شیئر اور ری پوسٹ کرنے کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے بعد 24 جنوری 2026 کو دونوں کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔


پیکا ایکٹ کے تحت سزائیں اور بھاری جرمانہ

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کی دفعات 9 (جرم کی تمجید)، 10 (سائبر دہشت گردی) اور 26-اے (جھوٹی اطلاعات پھیلانے) کے تحت سزا سنائی۔

دونوں کو دی گئی سزاؤں کی مجموعی مدت 17 سال بنتی ہے، جن میں سب سے طویل سزا 10 سال سائبر دہشت گردی کے الزام میں دی گئی۔ اس کے علاوہ عدالت نے دونوں شخصیات پر مجموعی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔


ماضی میں بھی متعدد مقدمات، مگر سزا نہیں ہوئی

اقوام متحدہ کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ پہلے مقدمات نہیں ہیں۔ 2022 سے اب تک ان دونوں کے خلاف کم از کم 10 فوجداری شکایات درج کی جا چکی ہیں، جن میں سے بعض تاحال عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس سے قبل انہیں کبھی کسی مقدمے میں سزا نہیں دی گئی تھی۔


قانونی نظام کے ناجائز استعمال کا الزام

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمات کے اس تسلسل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانونی نظام کو ناجائز طور پر ہراسانی اور دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ان وکلا کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے متاثرین کے لیے آواز اٹھانے کی سزا دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات انسانی حقوق کے تحفظ کے بجائے انہیں کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔


مقدمے کی شفافیت اور منصفانہ ٹرائل پر سوالات

اقوام متحدہ کے ماہرین نے دونوں وکلا کے خلاف عدالتی کارروائی کی رفتار اور طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عدالتی کارروائی غیر معمولی تیزی سے مکمل کی گئی، جبکہ ملزمان کو اپنے دفاع کی تیاری کے لیے مناسب وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی پسند کے وکیل تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


گواہوں کے بیانات غیر موجودگی میں قلمبند ہونے کا انکشاف

ماہرین نے مزید بتایا کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ملزمان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے، جو بین الاقوامی قانونی معیارات کے تحت منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات میں ملزمان کے حقوق سے متعلق طریقہ کار کی جو ضمانتیں عالمی قوانین فراہم کرتے ہیں، اس معاملے میں انہیں نظرانداز کیا گیا۔


سزا کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ان طریقہ کار کی خلاف ورزیوں نے نہ صرف مقدمے بلکہ دی گئی سزا کی منصفانہ اور قانونی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ تمام ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وکلا کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر فوجداری کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی انہیں ان کے مؤکلین کے ساتھ منسلک کر کے دیکھا جائے۔


پاکستان حکومت سے رابطہ، خدشات سے آگاہی

اقوام متحدہ کے ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان خدشات کے حوالے سے پاکستان کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر وضاحت اور جواب کے منتظر ہیں۔


غیر جانبدار ماہرین اور خصوصی اطلاع کار کون ہیں؟

واضح رہے کہ غیر جانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ ماہرین اقوام متحدہ کے مستقل عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنے کام کا کوئی معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

ان کا بنیادی کردار دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی، رپورٹنگ اور متعلقہ حکومتوں کے ساتھ مکالمہ کرنا ہوتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button