
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوزوزیراعظم آفس کے ساتھ
اسلام آباد – وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
استقبالیہ تقریب اور ملاقات
جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے سرکاری دورے کا آغاز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب سے ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے ازبک ہم منصب کا دلجمعی سے استقبال کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ون آن ون ملاقات کی۔
اس ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں مشترکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی وابستگیوں کو اجاگر کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
بات چیت کا اجمالی جائزہ
بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جن میں تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی روابط، تعلیم، ثقافتی تبادلے اور عالمی سطح پر اہمیت کے حامل امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اعلیٰ سطحی رابطے اور دوطرفہ میکانزم کی مضبوط بنیاد ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔
وزیراعظم پاکستان اور ازبک صدر نے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کنسلٹیو کونسل (HLSCC) کی کامیاب تشکیل کا خیرمقدم کیا، جسے فروری 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے تاشقند دورے کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے روڈ میپ پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی۔
علاقائی روابط اور انفراسٹرکچر
علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے درمیان یو اے پی (ازبکستان-افغانستان-پاکستان) ریلوے پروجیکٹ کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ منصوبہ وسطی ایشیا اور پاکستانی بندرگاہوں کے درمیان بہترین علاقائی رابطے کا ایک کلیدی محرک ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزیوئیف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو سڑک، ریل، فضائی اور سمندری روابط میں مزید تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات میں مزید فروغ آئے۔
اقتصادی اور تجارتی تعلقات
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی تجارت کو 2 بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
کان کنی، توانائی، دفاع، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے تجارتی و اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ
دونوں رہنماؤں نے ایک بڑی تقریب کے دوران مختلف شعبوں میں 28 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے۔ ان میں شامل اہم شعبے تجارت، سرمایہ کاری، کان کنی، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، تحقیق، سمندری تعاون اور کھیل تھے۔
معاہدوں کے دستخطوں کی یہ تقریب پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرنے کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اعزازی ڈاکٹریٹ اور اعزازی پروفیسر شپ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ازبک صدر شوکت مرزیوئیف کو پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ آف فلسفہ سے نوازا۔ اس کے علاوہ، وزیرِاعظم نے انہیں اعزازی پروفیسر شپ کا اعزاز بھی دیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ اور نئی راہوں کا آغاز
سرکاری بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ اس اعلامیے میں نہ صرف دوطرفہ اقتصادی تعلقات بلکہ علاقائی اور عالمی امور پر تعاون کا عہد بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا عہد کیا۔
میڈیا سے بات چیت
دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ
"پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے، اور ہم دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کریں گے۔”
ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف نے بھی پاکستان میں اپنی مہمان نوازی کے لیے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ
"پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید گہرائی لانے کے لیے ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔”
مستقبل کی سمت
اس تاریخی ملاقات کے بعد، دونوں رہنماؤں نے اگلے سال تاشقند میں ہونے والی پاکستان-ازبکستان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل (HLSCC) کے اگلے دور کے لیے وزیرِاعظم پاکستان کو مدعو کیا۔
تاشقند سٹریٹ اور بابر پارک کی دو یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی کی
اسلام آباد کے سیکٹر F-10 کی ایک سڑک کو تاشقند سٹریٹ کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ دونوں رہنماوں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزائیوف نے F-10 کی سڑک کو تاشقند سٹریٹ کے نام سے منسوب کرنے کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔
علاوہ ازیں اسلام آباد کے سیکٹر F-7 میں بابر پارک تعمیر کیا جاۓ گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزائیوف نے F-7 میں بابر پارک تعمیرکی تختی کی بھی نقاب کشائی کی۔
اسلام آباد میں سٹرک کی تاشقند سٹریٹ کے نام سے منسوبی اور F-7 میں بابر پارک کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔
خلاصہ
وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزیوئیف کی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو ایک نیا سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔ اس ملاقات سے نہ صرف پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں گہرائی آئی ہے بلکہ یہ ایک نیا دور ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی روابط اور عالمی سطح پر تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔






