پاکستاناہم خبریں

پاکستان : اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کے دوران حملہ، 30 سے زائد افراد شہید، 169 زخمی

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں خودکش دھماکہ صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی شدید مذمت، تحقیقات شروع

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں اب تک 30 سے زائد افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد امام بارگاہ اور قریبی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ شہری اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے اسپتالوں اور جائے وقوعہ کے باہر بے چینی سے انتظار کرتے دکھائی دیے۔

امام بارگاہ کے باہر قیامت خیز مناظر

دھماکے کے بعد امام بارگاہ کے باہر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ شہری اپنے عزیزوں کی شناخت کے لیے بے قرار تھے کیونکہ متعدد افراد کو تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے پیارے زخمیوں میں شامل ہیں یا شہید ہو چکے ہیں۔ کئی خاندان اسپتالوں کے چکر لگاتے رہے جبکہ بعض افراد امام بارگاہ کے باہر بیٹھ کر اپنے پیاروں کے نام پکارتے رہے۔

اموات اور زخمیوں کی تصدیق

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں 169 افراد زخمی ہوئے، جنہیں پمز، پولی کلینک اور دیگر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ اب تک مختلف اسپتالوں میں 31 افراد کو مردہ حالت میں لایا جا چکا ہے، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حملہ کیسے ہوا؟ عینی شاہدین کا بیان

وائس آف جرمنی اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور نے امام بارگاہ کے داخلی راستے پر موجود مقامی سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ پہلا اور دوسرا سکیورٹی پوائنٹ عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور جمعہ کی نماز کے دوران پچھلی صفوں کے قریب تیسرے پوائنٹ پر پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا۔

پولیس کی عدم موجودگی پر سوالات

مقامی افراد اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت امام بارگاہ کے باہر اسلام آباد پولیس کا کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا اور سکیورٹی کی ذمہ داری صرف امام بارگاہ کی مقامی انتظامیہ کے پاس تھی۔ تاہم اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا۔

علاقے میں سخت سکیورٹی، ریسکیو میں مشکلات

دھماکے کے بعد امام بارگاہ اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے۔ قریبی عمارتوں اور چھتوں پر اسلام آباد پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوان تعینات کر دیے گئے ہیں۔
تاہم بڑی تعداد میں مقامی افراد کے جمع ہو جانے کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قریبی مارکیٹ بھی لرز اٹھی

امام بارگاہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع لترار روڈ کی مرکزی مارکیٹ میں موجود تاجروں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے دھماکہ ان کی دکانوں کے سامنے ہوا ہو۔ تاجروں کے مطابق دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف کی فضا قائم ہو گئی۔

وزیر مملکت داخلہ: دہشت گرد کے افغانستان روابط سامنے آ گئے

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعہ کی شام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور کے بارے میں اہم معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا، تاہم اس کے افغانستان میں آنے جانے سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔


طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سافٹ اہداف کو نشانہ بنا کر بزدلی کی انتہا کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے ہیں، تاہم آئی جی نے ذاتی صدمے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہے داڑھی رکھ کر دہشت گردی کی جائے یا بی ایل اے کی طرز پر داڑھی کے بغیر، ان عناصر کے پیچھے بھارت کی سرپرستی موجود ہے، جس کے شواہد عالمی برادری کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے متعلق تمام تفصیلات 72 گھنٹوں کے اندر وزارت داخلہ جاری کرے گی۔

صدر اور وزیراعظم کی شدید مذمت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کا فوری تعین کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر دفاع کا بیان

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہو چکا ہے اور اس واقعے کے تانے بانے ہندوستان اور طالبان کے گٹھ جوڑ سے مل رہے ہیں۔


خواجہ آصف نے کہا کہ سکیورٹی گارڈز کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر حملہ آور نے فائرنگ کی اور پھر نمازیوں کی آخری صف میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی اور بھارت اپنی شکست کے بعد پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔

افغانستان کی وزارت خارجہ کی مذمت

ادھر افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری بیان میں اسلام آباد میں مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی۔


انہوں نے کہا کہ مساجد اور مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے اور ایسے حملے بے گناہ نمازیوں کی جانیں لیتے ہیں، جو اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button