
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کاروباری برادری کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار قرار دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور نجی شعبوں کے درمیان طے پانے والے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے اور دوطرفہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ پاکستان-ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، دونوں ممالک کے وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور بزنس کمیونٹی کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔
دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاشقند بزنس فورم کے بعد کی جانے والی اصلاحات اور عملی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ سال بڑھ کر 450 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
انہوں نے پاکستان-ازبکستان بزنس فورم کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط میں اضافے کو خوش آئند قرار دیا۔
3.4 ارب ڈالر کے معاہدے، اہم پیشرفت
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد ایک بڑی اور اہم پیشرفت ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں دونوں ممالک میں سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بزنس فورم باہمی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
پاکستان کی معاشی بہتری اور اصلاحات
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مشکل فیصلوں کے ذریعے مہنگائی کی شرح کو 20 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ پر لے آیا ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں ملکی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم حکومت نے کامیابی سے ان مشکلات پر قابو پایا۔
آئی ٹی، برآمدات اور ازبک قیادت کی تعریف
وزیراعظم نے پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قابلیت، وژن اور غیر متزلزل عزم کے نتیجے میں ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ دس سال میں دوگنی ہوئی اور 85 لاکھ افراد غربت سے نکلے، جبکہ بیروزگاری میں نمایاں کمی آئی۔
مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع
وزیراعظم نے بتایا کہ دورے کے دوران قدرتی وسائل، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان میں چاول اور آلو کی طلب پوری کر سکتا ہے، جبکہ چمڑے کی مصنوعات، مائنز اینڈ منرلز اور حلال گوشت سمیت کئی اشیاء برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں ٹیکسٹائل پلانٹس لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہو گا۔
سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول کی یقین دہانی
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور ازبکستان ان وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے ازبک کمپنیوں کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کیا جائے گا، بیوروکریسی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنے گی اور کاروبار کو سرخ فیتے کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے پی آئی اے ازبکستان کے لیے پروازوں میں اضافہ کرے گی۔
ازبک صدر کا خطاب
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ذریعہ اور اقتصادی تعلقات میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سرمایہ کاروں کو کاروبار کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ مسائل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں فوری طور پر حل کیا جا سکے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی مراعات
صدر مرزائیوف نے اعلان کیا کہ ازبکستان پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے، آلاتِ جراحی، ادویات اور ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات دی جائیں گی۔
انہوں نے 2026 کو پاکستان-ازبکستان باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان پروازیں بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔
معاہدوں کا تبادلہ
بزنس فورم کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا، جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات، تاشقند لیدر زون کا قیام، معدنیات اور کان کنی، زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ اور طبی شعبے میں باہمی تعاون شامل ہے۔
دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا عزم
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ازبکستان مشترکہ کوششوں سے اپنے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں ایک مضبوط مقام حاصل کریں گے۔



