پاکستاناہم خبریں

مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ٹی ٹی اے پی کی ملک گیر ہڑتال

بڑے شہروں میں معمولاتِ زندگی جاری، چھوٹے شہروں اور حساس علاقوں میں جزوی و مکمل شٹر ڈاؤن

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد/لاہور/پشاور:2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور نتائج میں تضادات کے خلاف اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کی جانب سے 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی، تاہم اس ہڑتال کے اثرات ملک کے مختلف حصوں میں مختلف رہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں بیشتر مارکیٹیں اور تجارتی مراکز کھلے رہے، جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اندرون سندھ کے کئی علاقوں میں جزوی یا مکمل شٹر ڈاؤن دیکھا گیا۔

پی ٹی آئی، جو ٹی ٹی اے پی کا ایک اہم اور متحرک حصہ ہے، نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجاً اس ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اسی روز پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے متاثرین کے لیے یومِ سوگ منانے کا بھی اعلان کیا گیا، جس میں کم از کم 36 افراد جان سے گئے تھے۔


ہڑتال کی مجموعی صورتِ حال

ہڑتال کے دن ملک بھر سے متضاد رپورٹس سامنے آئیں۔ لاہور میں اتوار اور بسنت کے تہوار کے باعث زیادہ تر مارکیٹیں اور تجارتی مراکز کھلے رہے، جبکہ اسلام آباد میں بھی معمولاتِ زندگی بڑی حد تک متاثر نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس، پشاور میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جبکہ کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔

ٹی ٹی اے پی کی قیادت نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ چند بڑے شہروں میں ہڑتال کا اثر کم رہا، تاہم خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اندرون سندھ میں بڑی تعداد میں دکانیں بند رہیں اور عوام نے احتجاج کی حمایت کی۔


مشعل بردار ریلی ناکام، خواتین سمیت درجنوں کارکن گرفتار

اسلام آباد میں ٹی ٹی اے پی کی قیادت نے فیصل مسجد کے باہر مشعل بردار ریلی نکالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سڑکیں بند کر دیں۔ ذرائع کے مطابق، اسلام آباد کے علاقے E-7 سے آٹھ خواتین سمیت دو درجن سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

پی ٹی آئی کے اسلام آباد چیپٹر کے صدر مغل نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے احتجاج سے قبل ہی کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا تاکہ عوامی ردعمل کو دبایا جا سکے۔


سینیٹ میں حکومت پر شدید تنقید

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے امام بارگاہ خودکش حملے کے تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت اور ڈانس پارٹیوں کے انعقاد پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں تفریحی تقریبات کی تیاری حکومتی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ملک کو اس وقت امن و امان کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔


ٹی ٹی اے پی کی تحریک کا باضابطہ آغاز

ٹی ٹی اے پی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ہڑتال کو محض ایک روزہ سرگرمی قرار دینے کے بجائے اسے ایک طویل المدت تحریک کا آغاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں تحریک میں شدت آئے گی اور پورا ملک پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق شدید بے چینی کا شکار ہے۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد نے بھی اس تحریک کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اثر نمایاں، سندھ میں ملا جلا ردعمل

خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں، جن میں پشاور اور ایبٹ آباد شامل ہیں، میں کئی علاقوں میں دکانیں بند رہیں، جبکہ بعض مقامات پر جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ سندھ میں کراچی جیسے بڑے شہر میں ہڑتال کا اثر محدود رہا، تاہم حیدرآباد، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین میں دکانیں بند رہیں اور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

بلوچستان میں کوئٹہ، چمن، ژوب اور کچلاک میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جہاں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔


پشاور اور کے پی میں احتجاجی سرگرمیاں

پشاور میں پی ٹی آئی نے مختلف مقامات پر جلوس اور جلسے نکالنے کی کوشش کی۔ اندرون شہر کے بعض علاقوں، جیسے قصہ خوانی بازار، میں دکانیں کھلی رہیں، جبکہ ہشت نگری اور رام پورہ میں کاروبار بند رہا۔
پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ ہری پور میں مکمل شٹر ڈاؤن اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام رہا۔ بعد ازاں کارکنوں نے ہشت نگری سے مارچ کرتے ہوئے چوک یادگار میں جلسہ منعقد کیا۔


کراچی اور سندھ میں ہڑتال

کراچی میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ بعض مارکیٹوں کی بندش دراصل عام تعطیل کے باعث تھی، نہ کہ مکمل سیاسی ہڑتال۔ ان کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا، تاہم جوڑیا بازار میں 100، صدر میں 50 اور طارق روڈ پر 40 مارکیٹیں بند رہیں۔


پنجاب کے مختلف شہروں میں چھاپے اور حراستیں

پنجاب کے مختلف اضلاع میں پولیس نے احتجاجی مظاہروں کے دوران متعدد پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا۔ اوکاڑہ میں 30 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں مہر عبدالستار کو ایم پی او آرڈیننس کے تحت سات روز کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔ گوجرہ میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایم این اے اسامہ حمزہ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ موقع پر موجود نہیں تھے۔


آئندہ کا لائحہ عمل

ٹی ٹی اے پی اور پی ٹی آئی کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ احتجاجی سلسلہ آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گا اور عوامی سطح پر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مزید جلسوں اور مظاہروں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔


نتیجہ

8 فروری کی ہڑتال اور ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹی ٹی اے پی کے رہنماؤں کے مطابق یہ تحریک انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ایک طویل جدوجہد کا آغاز ہے، تاہم پولیس کارروائیاں اور حکومتی اقدامات اس تحریک کی رفتار اور سمت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button