کالمزناصف اعوان

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے…….ناصف اعوان

حکومتوں کی یہ عجیب منطق ہے کہ جو کام کل غیر ضروری تھا آج وہ ضروری ہے بات سمجھ سے باہر ہے کہ اب کیوں حکومت نے پتنگ بازی کی اجازت دی

کوئی افتاد آن پڑے یا کوئی مجبوری ہو اس سے ہم لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ دوبارہ ایسا موقع نہیں آئے گا لہذا جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اٹھالیا جائے ۔
آپ کو یاد ہو گا کہ جب چند برس پہلے ایک وبائی صورت حال نے پورے ملک اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو ہمارے ہاں کے دکانداروں تاجروں اور دیگر متعلقین نے اندھیر مچا دیا ۔ایک عام سے ماسک کو اڑھائی تین سو روپے میں فروخت کیا گیا۔ اسی طرح پنسار کی دکانوں پر ہوا ۔ عام دنوں میں جوجڑی بوٹی پانچ دس روپے میں دستیاب تھی کی قیمتیں یکا یک دو تین سو تک پہنچ گئی ۔یہ درست ہے کہ ان جڑی بوٹوں کی کھپت بڑھ گئی تھی مگر وہ مہنگی ہونے کے باوجود مل رہی تھیں یعنی سپلائی لائن میں کوئی تعطل نہیں آیا تھا مگر سنہری موقع کیسے گنوایا جاتا لہذا دکانداروں نے سہم زدہ لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لٗوٹا۔ سیلاب آجائے تو بھی مجبور لوگوں کو بے دردی سے لُوٹا جاتا ہے ذرا بھر ترس نہیں کھایا جاتا۔
اب جب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں بسنت منانے کی محدود و مشروط اجازت دی گئی تو پتنگ فروشوں نے لوٹنے کی اخیر کر دی ۔ پانچ سو سے لے کر دو دو ہزار تک کچھ علاقوں میں اس بھی زیادہ قیمت میں گُڈیاں فروخت کی گئیں۔ چھتیں‘ لاکھوں روپے میں بیچی گئیں ۔ ڈوریں بھی اسی طرح فروخت ہو ئیں۔ اگرچہ حکومت نے پیرا فورس کو اس پر نظر رکھنے کو کہا مگر چونکہ لوگوں نے بسنت کی آبشار سے ہر صورت لطف اٹھانا تھا لہذا وہ اندر کھاتے خریداری کر تے رہے ۔ دکانوں پر پچھلے آ ٹھ دس روز سے بسنتی افراد کا رش لگا رہا ۔
آپ یقین کیجئیے گا کہ وہ لوگ جو مہنگائی بجلی گیس کے بلوں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر چیخ اٹھتے ہیں انہوں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے دل کی مراد پوری کرنا چاہی ۔اُدھر موٹر سائکل رکھنے والوں کو کہا گیا کہ اگر انہوں نے ڈور سے بچاؤ کے لئے تار یا راڈ نہیں لگایا تو انہیں دو ہزار جرمانہ ادا کرنا پڑے گا لہذا ہر طرف سڑکوں کے کناروں پر تاروں اور راڈوں والی مخلوق نمو دار ہو گئی اور وہ ”لگا دا“ لگانے لگی کسی کو اڑھائی سو اور کسی کو دوسو کا راڈ فروخت کرنے لگی ۔
بہرحال حکومتوں کی یہ عجیب منطق ہے کہ جو کام کل غیر ضروری تھا آج وہ ضروری ہے بات سمجھ سے باہر ہے کہ اب کیوں حکومت نے پتنگ بازی کی اجازت دی اگر وہ خود کو یورپ و مغرب کی نگاہوں میں لبرل ثابت کرنا چاہتی ہے تو یہ الگ بات ہے مگر اور بہت سی بے ضرر کھیلیں ہیں ثقافتی سرگرمیاں ہیں ان پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اس سے تو (پتنگ بازی) جان کو بھی خطرہ ہے لوگوں کی گردنوں پر ڈوریں پِھر رہی ہیں ۔ چلیے حکومت نے اس کو اپنے اور گُڈی اڑانے کے شوقینوں کے لئے لازمی سمجھا تو ٹھیک ہے مگر اس نے لاہور میں ہی کیوں شغل میلے کی اجازت دی پورے پنجاب میں سب گڈیاں اڑاتے اور اپنا جی بہلاتے خیر بقیہ اضلاع سے بہت سے لوگ لاہور آگئے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے عوام نقصان کو نفع تصور کرتے ہیں۔ پھر ٹھیک ہے حکومتی اقدامات جتنے بھی ہیں درست ہیں ۔اگر وہ ٹیکس لگاتی ہے جس کا مقصد قومی خزانہ کو قسطوں کی ادائی کے قابل بنانا ہے تو انہیں رولا نہیں ڈالنا چاہیے ۔اب جو ان کے اجتماعی مزاج کے بگاڑ کو ٹھیک کرنا مقصود ہے اور قانون کی حکمرانی کے لئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں بنائے جا رہے ہیں تو واویلا کس لئے ؟ انہیں فائدہ ہو یا نقصان کوئی بات نہیں جب وہ خو د فضول خرچی کر سکتے ہیں تو قومی مفاد کی خاطر خاموشی اختیار کریں ۔عین ممکن ہے انہیں آگے چل کر بہت سے درپیش مسائل سے چھٹکارا مل جائے ۔
بہر کیف اس تناظر میں حکومت کہہ سکتی ہے کہ لوگ غریب نہیں ‘غریب ہونے کا تو یونہی شور مچاتے ہیں لہذا اس کی تمام پالیسیاں درست ہیں ٹیکسوں کا نظام بھی ٹھیک ہے وہ ٹیکس دیں گے تو ان کی فلاح ہو سکے گی اس پر وہ کہتے ہیں کہ ان پر جتنے مرضی ٹیکس لگائے جائیں مگر یہ یقین دہانی کون کروائے گا کہ ان کا استعمال اللوں تللوں کی نذر نہیں ہو گا ماضی میں یہی کچھ ہوا اگر ایسا نہ ہوتا تو معیشت بھی لڑکھڑا کر نہیں چلتی لہذا ضروری ہے کہ بااختیار اس پہلو پر غور کریں ۔ یہاں ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ جن دکانداروں نے مہنگے داموں ڈوریں اور پتنگیں بیچی ہیں اور اپنی تجوریاں ٹھونس ٹھونس کر بھری ہیں ان سے سختی سے سیل ٹیکس وصول کیا جائے ۔ انہیں کوئی خیال نہیں رہا کہ اگر لوگ دیر بعد رانجھا راضی کر رہے ہیں تو ان کی کھال نہ اتاری جائے مگر اُنہوں نے ایسا کچھ نہیں سوچا کیونکہ ہماری سوچ ہمارا مزاج اور رویہ سب ہی تبدیل ہو چکے ہیں لہذا اصول ضابطے انسانی اقدار کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب ان کے حکمران مخلص نہیں اور اپنے محل تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی دولت کے ڈھیر لگائیں گے ۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب حکمران مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو ان کے عوام بھی یہی کچھ کرتے ہیں کیونکہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے لہذا تبدیلی کا عمل اوپر سے شروع ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے اس کے بغیر عوام کی سوچ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہیں جب بھی کہیں مجبور ماحول نظر آئے گا اس سے بھر پور فائدہ اٹھا ئیں گے مگر ہمیں نہیں لگتا کہ ہماری حکومتوں کے دل میں ہلکی سی بھی جنبش پیدا ہو گی۔ ”ہمارے دوست جاوید خیالوی اور دیگر دوستوں کا کہنا ہے کہ لوگوں پر ٹیکسوں کی بوچھاڑ کر دی جانی چاہیے انہیں( عوام کو) کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ بہت کچھ برداشت کر لیتے ہیں اور کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالتے “
قصہ مختصر یہ کہ ہمیں کسی بھی بُرے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے ناجائز منافع خوری سے اجتناب کرنا چاہیے بصورت دیگر حکومت پیرا فورس کو اختیار دے کر ان پر ٹیکس لگا کر بھاری رقوم حاصل کر سکتی ہے پھر وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا جبکہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے غریب عوام کو بھی چاہیے کہ وہ بچت کو فروغ دیں تاکہ بڑھتے ہوئے شعور کے ساتھ وہ آسانی سے روٹی کا بندو بست کر سکیں !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button