
ینز تھوراؤ
موجودہ صورتحال میں یورپ اور خاص طور پر جرمنی یہ نہیں جانتے کہ وہ امریکا پر کس حد تک انحصار کر سکتے ہیں۔ جرمنی اور خلیجی ممالک کے مابین تعلقات میں ’توانائی‘ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی ہفتے جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے سعودی عرب، قطر اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات کے دورے کیے اور یہ تمام دورے 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مکمل ہوئے۔ مقصد اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا اور ایسے وقت میں قابلِ اعتماد معاہدے حاصل کرنا تھا، جب یورپ، اور خاص طور پر جرمنی، اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ وہ امریکا پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے۔
اسی لیے جرمن چانسلر دفتر میں ”نئی اسٹریٹجک شراکت داریوں‘‘ کی بات ہو رہی ہے، بھارت کے ساتھ، جس کا میرس سال کے آغاز میں دورہ کر چکے ہیں۔ چین کے ساتھ بھی ، جہاں وہ رواں ماہ کے آخر میں جانے والے ہی اور ان دونوں کے درمیان خلیجی خطے کے ساتھ بھی۔
توانائی کا حصول اور اسلحے کی برآمد میں نرمی
خلیجی ممالک کے ساتھ جرمن تعلقات میں بار بار سامنے آنے والا کلیدی لفظ توانائی ہے۔ دہائیوں تک خلیجی ریاستوں نے توانائی کے وسائل سے محروم جرمنی کو تیل فراہم کیا، اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بعد گیس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یورپی یونین نے روسی گیس پر انحصار نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ اس وقت جرمنی کی مجموعی توانائی سپلائی میں تقریباً 10 فیصد حصہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ہے، جس میں سے 2024 میں 30 فیصد امریکا سے آیا۔ جرمن حکومت کے نزدیک اس حصے کو کم کیا جا سکتا ہے، اگر مثال کے طور پر سعودی عرب اور قطر زیادہ سپلائی فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا: ”اس وقت واشنگٹن یورپ کا سب سے بڑا ایل این جی سپلائر ہے۔ اگر یورپ روس پر انحصار سے نکل کر براہِ راست امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہتا تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی برآمد کرنے والے ممالک کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب غالباً یہ بھی ہوگا کہ مستقبل میں اسلحے کی برآمدات کے معاملے میں زیادہ نرمی دکھانا پڑے۔‘‘
سعودی عرب اور قطر نے ایئر بس کے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اے 400 ایم خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسی دوران کئی توانائی منصوبے اس لیے تعطل کا شکار رہے کہ قطر طویل المدتی معاہدے چاہتا تھا جبکہ جرمنی قلیل مدتی معاہدوں کو ترجیح دیتا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اب جرمنی اس معاملے میں خلیجی ممالک کے ساتھ زیادہ لچک دکھانے پر آمادہ ہے۔
بورڈ آف پیس پر موقف
ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں سے متعلق جاری کشیدگی بھی پس منظر میں موجود ہے۔ کیا امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کی کھل کر حمایت کرے گا؟ غزہ کی پٹی میں جنگ اور اس پر امریکی پالیسی کا کردار کیا ہے؟ حال ہی میں اسرائیل کی ناراضی اس بات پر سامنے آئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ”بورڈ آف پیس‘‘ میں قطر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد غزہ تنازعہ کے حل میں مدد دینا ہے۔
جرمنی اس کونسل کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، خاص طور پر اس لیے کہ اسے کھلے عام نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اس موقع پر جرمن حکومت کے ترجمان نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا، ”اس ادارے کی تشکیل ایسے معیار کے تحت ہوئی ہے، جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں اور جن کا ہم گہرائی سے جائزہ بھی نہیں لے سکتے۔ ہم اسرائیل کے موقف سے آگاہ ہیں، لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ اسرائیل کی قطر کے ساتھ مفاہمت میں دلچسپی ہے۔ یہ ریاستوں کے درمیان تعلقات اور حالات ہیں، جن پر جرمنی کو اس وقت تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ یہ مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ خطہ جرمنی کے لیے کس قدر حساس ہے اور چانسلر کا ہر لفظ کس باریکی سے جانچا جائے گا، چاہے توجہ کا مرکز بظاہر معاشی تعاون ہی کیوں نہ ہو۔



