پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

بسنت پر لاہور میں 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمی ہوئی، کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن

لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کی وجہ سے ثقافتی رونقیں، معیشت کی بحالی اور حکومت کے اقدامات کی کامیابی

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول نے شہر کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا اور معاشی سرگرمیوں میں قابل ذکر اضافہ کیا، جس سے نہ صرف لاہور کی رونقیں بحال ہوئیں بلکہ حکومتی اقدامات نے اس تہوار کو محفوظ اور کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن (اے پی کے ایف اے) کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، بسنت کے دوران لاہور میں 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں، جو شہر کی معیشت کی بحالی کی غمازی کرتی ہیں۔

بسنت: لاہور کی ثقافت کی دوبارہ بحالی

بسنت کے دوران لاہور کی چھتوں پر 10 سے 70 سال تک کے شہری پتنگ بازی سے محظوظ ہوتے نظر آئے، جس سے شہر میں خوشی اور جوش کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس تہوار کے حوالے سے اے پی کے ایف اے کے سرپرستِ اعلیٰ عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کی کامیاب اور محفوظ تقریبات نے لاہور کے "کھوئے ہوئے تہوار” کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ تہوار صرف لاہور کی ثقافت کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے ذریعے شہریوں نے ایک نیا جذبہ اور خوشی کا ماحول محسوس کیا۔”

عقیل ملک نے اس فیسٹیول کی بحالی کا سارا کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی تعاون کے بغیر اس تہوار کی واپسی ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بسنت نہ صرف ایک ثقافتی تقریب ہے بلکہ ایک طاقتور معاشی محرک بھی ثابت ہو رہا ہے، جس کے ذریعے دکانداروں، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے کاروباری افراد کو فائدہ پہنچا۔

معاشی اثرات: لاہور کی معیشت میں 20 ارب روپے کی سرگرمیاں

بسنت کے دوران لاہور کی معیشت میں ایک نمایاں اضافہ ہوا۔ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق، فیسٹیول کے دوران 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ مختلف کاروباری شعبوں جیسے ہوٹل، خوردہ فروش، پتنگ سازی، بانس و کاغذ فروش اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں بڑھوتری دیکھنے کو ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کے معاشی اثرات پر اعدادوشمار ابھی مکمل طور پر اکھٹے نہیں ہوئے ہیں، لیکن ان کے مطابق یہ اعدادوشمار 20 ارب روپے سے کم نہیں ہوں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ اور شہریوں کی شرکت

بسنت کے دوران لاہور میں مختلف شہروں سے تقریباً 10 لاکھ گاڑیاں شہر میں داخل ہوئیں، جو اس فیسٹیول میں غیر معمولی شرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔ پنجاب کی سینئیر وزیر مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے بتایا کہ تقریباً 2 لاکھ شہریوں نے روزانہ اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے مفت سفر کیا، جس سے شہر میں مؤثر ٹرانسپورٹ انتظامات اور عوامی جوش و خروش کی جھلک نظر آئی۔

حفاظتی تدابیر اور سیکیورٹی

بسنت کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اے پی کے ایف اے نے سخت ایس او پیز مرتب کیے تھے، جن کی بدولت لاہور میں پتنگ کی ڈور سے گلے میں پھنسنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ عقیل ملک کے مطابق، موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز کی تنصیب بھی حادثات کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بسنت کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ صحیح طریقے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔”

قیمتوں میں اضافے اور غیرقانونی منافع خوری

اگرچہ بسنت کے فیسٹیول کی کامیابی میں حکومتی اقدامات اور عوامی جوش و خروش کا بڑا ہاتھ تھا، مگر اے پی کے ایف اے نے غیرقانونی منافع خوری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عقیل ملک نے کہا کہ پتنگ اور ڈور کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا گیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بانس، کاغذ اور پتنگ سازوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر غیر قانونی منافع کمایا، جس پر ایسوسی ایشن نے ان افراد کی فہرستیں مرتب کر لی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال حکومت پنجاب پورے صوبے میں بسنت منانے کا ارادہ رکھتی ہے اور استحصال کو روکنے کے لیے پتنگوں اور ڈور کی سرکاری قیمتیں مقرر کی جائیں گی۔

آئندہ بسنت: بہتر ضابطہ بندی اور مزید محفوظ فیسٹیول

عقیل ملک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ سال بسنت کو مزید محفوظ اور قابلِ استطاعت بنانے کے لیے بہتر ضابطہ بندی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "آئندہ سال ہم حکومت کے ساتھ مل کر اس تہوار کو مزید کامیاب اور محفوظ بنائیں گے، تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور شہریوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔”

ہوٹلز کی بکنگ اور ائیر بی این بی

بسنت کے فیسٹیول کے دوران لاہور میں ہوٹلوں کی بکنگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ فیسٹیول سے پہلے ہی لوگوں نے ہوٹلز میں کمرے بک کروا لیے تھے، اور بسنت کے قریب ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنا ایک مشکل کام بن چکا تھا۔ اس کے بعد، لوگوں نے اپنی رہائش کا بندوبست ائیر بی این بی کے ذریعے بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بسنت نے نہ صرف لاہور کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا بلکہ اس کی معیشت میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔

حکومت کا عزم اور مستقبل کی حکمت عملی

وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت نے بسنت کے اثرات کا جائزہ لے لیا ہے اور وہ تمام محکموں سے رپورٹس اکھٹی کر رہی ہے، تاکہ حتمی رپورٹ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو پیش کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، "اصل بات یہ ہے کہ اس تہوار نے عوام کو ایک نئی توانائی بخشی ہے۔ ہم آئندہ سال بھی بسنت کو بہتر ضابطہ بندی کے ساتھ منائیں گے تاکہ اس کے معاشی اور ثقافتی فوائد کو مزید بڑھایا جا سکے۔”

نتیجہ

لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول نے نہ صرف شہر کی ثقافتی رونقیں بحال کیں بلکہ اس نے معیشت میں بھی زبردست اضافہ کیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات، ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولتیں اور عوامی جوش و خروش نے اس تہوار کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگلے برسوں میں بسنت کو مزید محفوظ، منظم اور قابلِ استطاعت بنانے کے لیے حکومتی حکمت عملی میں مزید بہتری لانے کی توقع کی جا رہی ہے، تاکہ یہ تہوار ہر لحاظ سے شہریوں کے لیے خوشی کا باعث بن سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button