کاروباراہم خبریں

نیپرا کا بڑا فیصلہ: نیٹ میٹرنگ ختم، نیٹ بلنگ نظام متعارف ، سولر صارفین کے لیے نئے ریگولیشنز نافذ

نئے نظام کے تحت گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کو ایک کے بدلے ایک بنیاد پر استعمال شدہ بجلی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاکستان میں سولر توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم اور نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ پیر کے روز نیپرا کی جانب سے سولر صارفین ریگولیشنز 2026 جاری کر دیے گئے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

نئے ریگولیشنز کے تحت سولر صارفین سے گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی تقریباً 11 روپے 50 پیسے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جبکہ نیٹ بلنگ کے تحت معاہدے کی مدت کو بھی سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے۔ معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید پانچ سال کے لیے اس کی تجدید کی جا سکے گی۔

نیٹ بلنگ کے تحت کیا تبدیلیاں آئیں؟

نیپرا سولر صارفین ریگولیشن 2026 کے مطابق نئے سولر صارفین کو اپنی پیدا کردہ بجلی قومی گرڈ کو موجودہ مالی نرخ (ٹیرف) پر فروخت کرنا ہوگی۔ اب صارفین کو یونٹ کے بدلے یونٹ کریڈٹ کی سہولت حاصل نہیں ہوگی، بلکہ ہر یونٹ کی بجلی کے بدلے مالی ادائیگی کی جائے گی۔

نئے نظام کے تحت گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کو ایک کے بدلے ایک بنیاد پر استعمال شدہ بجلی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا، جبکہ اضافی شمسی بجلی نسبتاً کم مقررہ نرخ پر ڈسکوز کو فروخت کی جائے گی۔ نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان ریگولیشنز کا اطلاق بایو گیس صارفین پر بھی ہوگا۔

ریگولیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کی ادائیگی صارفین کو ماہانہ بنیادوں پر کی جائے گی۔ نئے ریگولیشنز کے نفاذ کے بعد نیٹ میٹرنگ ریگولیشن 2015 کو باضابطہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ میں بنیادی فرق

نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ دو مختلف نظام ہیں جن کے ذریعے سولر صارفین اپنی پیدا کی گئی بجلی کو قومی گرڈ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہیں۔

نیٹ میٹرنگ کے نظام میں صارف کی جانب سے گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی اور گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی کو یونٹ کے حساب سے برابر تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر صارف ایک یونٹ بجلی گرڈ کو دے تو اسے ایک یونٹ کا کریڈٹ ملتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے بل نمایاں طور پر کم یا بعض صورتوں میں صفر ہو جاتے ہیں۔

اس کے برعکس نیٹ بلنگ کے نظام میں صارف کو گرڈ میں دی گئی بجلی کے بدلے یونٹ کا کریڈٹ نہیں بلکہ ایک مقررہ مالی معاوضہ دیا جاتا ہے، جو عموماً عام بجلی کے نرخ سے کم ہوتا ہے، جبکہ گرڈ سے لی گئی بجلی مکمل ٹیرف پر بل کی جاتی ہے۔

ماہرین کی رائے: فائدہ یا نقصان؟

توانائی کے ماہرین نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کا یونٹ کے بدلے یونٹ کریڈٹ نظام قومی گرڈ اور خزانے پر مالی دباؤ ڈال رہا تھا، کیونکہ سولر صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بجلی کے اخراجات کا بوجھ دیگر صارفین پر منتقل ہو رہا تھا۔

لاہور میں مقیم توانائی ماہر علی خضر نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب نیٹ میٹرنگ 2016 میں متعارف کروائی گئی تھی تو اس وقت سولر سسٹمز کی قیمتیں خاصی زیادہ تھیں اور اسی پس منظر میں یہ پالیسی تشکیل دی گئی تھی۔ تاہم اب سولر ٹیکنالوجی نسبتاً سستی ہو چکی ہے، جس کے باعث پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں حکومت اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے سبسڈیز بھی فراہم کرتی رہی، لیکن بعد ازاں وہ سبسڈیز ختم کر دی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سولر صارفین کی تعداد میں اضافے اور گرڈ سے بجلی کے استعمال میں کمی کے باعث اس کا مالی بوجھ بتدریج دیگر صارفین پر منتقل ہونے لگا، جس پر حکومت کو توجہ دینا ناگزیر ہو گیا تھا۔

سولر سرمایہ کاری پر ممکنہ اثرات

دوسری جانب بعض ماہرین اور سولر انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کے تحت کم معاوضہ سولر توانائی میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے سولر سسٹمز کی لاگت کی واپسی کا دورانیہ (پے بیک پیریڈ) بڑھ جائے گا، جس سے عام صارفین کی دلچسپی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پرانے صارفین کے لیے ریلیف برقرار

واضح رہے کہ نئے ریگولیشنز کا اطلاق صرف نئے سولر صارفین پر ہوگا۔ وہ صارفین جو پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ ہیں، اپنے موجودہ معاہدوں اور شرائط کے مطابق ہی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ صارفین اپنے معاہدے کی مدت پوری ہونے تک پرانے طے شدہ نرخ پر بجلی گرڈ کو فراہم کرتے رہیں گے، جو عموماً 26 سے 27 روپے فی یونٹ کے قریب ہے۔ نیٹ بلنگ کے تحت نئے کم نرخ صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔

توانائی پالیسی میں اہم موڑ

ماہرین کے مطابق نیپرا کا یہ فیصلہ پاکستان کی توانائی پالیسی میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں میں سولر انڈسٹری، صارفین اور قومی گرڈ پر واضح طور پر سامنے آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ آیا نیٹ بلنگ نظام توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم کرے گا یا یہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بنے گا — اس کا حتمی جواب وقت ہی دے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button