
بنگلہ دیشی انتخابات میں ووٹروں کی ترجیحات کیا ہوں گی؟
حالیہ سروے کے مطابق ووٹروں کی سب سے بڑی تشویش کرپشن ہے
روئٹرز
بدعنوانی سب سے بڑی تشویش
17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے اس ملک میں شیخ حسینہ کے ہنگامہ خیز زوال کے بعد سے ایک غیر منتخب عبوری حکومت برسرِ اقتدار ہے۔ رائے دہندگان کو درپیش اہم مسائل میں سرفہرست بدعنوانی ہے۔ ڈھاکا میں قائم کمیونیکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن اور بنگلہ دیش الیکشنز اینڈ پبلک اوپینین اسٹڈیز کے حالیہ سروے کے مطابق ووٹروں کی سب سے بڑی تشویش کرپشن ہے۔ بنگلہ دیش طویل عرصے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں دنیا کے بدترین ممالک میں شامل رہا ہے۔ سب سے آگے سمجھی جانے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی بڑی حریف جماعتِ اسلامی دونوں نے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی کرپشن مخالف شبیہ اس کی حالیہ واپسی میں مددگار بنی ہے۔

مہنگائی کا مسئلہ
مہنگائی بھی ووٹروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں افراطِ زر بڑھ کر 8.58 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ سروے میں شامل دو تہائی سے زیادہ افراد نے قیمتوں میں اضافے کو اپنی دوسری بڑی تشویش قرار دیا۔
سست رفتار اقتصادی ترقی
معاشی ترقی کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایک وقت میں ایشیا کی تیز ترین معیشتوں میں شمار ہونے والا بنگلہ دیش کووڈ انیس کی عالمی وبا کے بعد اپنی رفتار بحال کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی ملبوسات کی صنعت متاثر ہوئی۔ 2024 میں شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج، جو بالآخر ان کی معزولی اور جلاوطنی پر منتج ہوا، نے اس شعبے کو مزید نقصان پہنچایا اور مجموعی ترقی کو دباؤ میں رکھا۔ ووٹروں نے معاشی ترقی کو اپنی تیسری بڑی ترجیح قرار دیا ہے۔

بے روزگاری عروج پر
روزگار کا مسئلہ بھی شدید ہے۔ اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش کی تقریباً 40 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور کئی ماہ کے عدم استحکام کے بعد آئندہ حکومت پر لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنےکے لیے زبردست دباؤ ہوگا۔ ان انتخابات میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی بھی ایک بڑا معاملہ ہے۔ عوامی لیگ کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے اور شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی عدم موجودگی سے لاکھوں حامی امیدوار کے بغیر رہ جائیں گے اور بہت سے لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ اگرچہ بعض شہریوں نے واقعی پولنگ اسٹیشن نہ جانے کا اعلان کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ملک گیر سطح پر بڑے بائیکاٹ کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق عوامی لیگ ووٹرز ہی انتخابی نتائج کا رخ متعین کریں گے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نصف سابق عوامی لیگ ووٹرز اب بی این پی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ لگ بھگ 30 فیصد جماعتِ اسلامی کے حق میں ہیں۔



