پاکستانتازہ ترین

صدر زرداری کا مذاکرات پر زور، ایران کے ساتھ کشیدگی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا

ایران میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام، یا فوجی ذرائع سے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کو خطے کے لیے نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران میں عدم استحکام یا طاقت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوئی بھی کوشش خلیجی خطے، جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

صدر مملکت نے یہ بات بدھ کے روز ایران کے قومی دن کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے منعقدہ ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی اور علاقائی امن کے فروغ کی تمام سنجیدہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پائیدار حل کا واحد راستہ ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا،

“ایران میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام، یا فوجی ذرائع سے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”

یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت

صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان یکطرفہ پابندیوں اور زبردستی اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، جن میں ایران کے خلاف عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ پرامن تعلقات اور باہمی احترام پر مبنی روابط ہی علاقائی اور عالمی سلامتی کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ کو کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے متعلقہ فریقین کو تعمیری جذبے کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

متاثرین کے لیے خاموشی اور امن کی دعا

اس موقع پر صدر زرداری نے شرکاء سے اسلام آباد میں حالیہ بم دھماکے اور ایران میں پیش آنے والے المناک واقعات کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا،

“آئیے دعا کریں کہ جنگیں کبھی ہمارے سامنے نہ آئیں، اور انسانیت امن کے راستے پر گامزن رہے۔”

طاقت نہیں، مذاکرات ہی حل ہیں

خطے میں جاری تنازعات، دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور حل طلب علاقائی فلیش پوائنٹس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ ان پیچیدہ چیلنجز کا مقابلہ طاقت، جبر یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ تحمل، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان–ایران تعلقات اور مشترکہ ذمہ داریاں

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے خطے کے امن و سلامتی کے حوالے سے مشترکہ ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ انہوں نے سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور مشترکہ سرحد کو قانونی تجارت، تعاون اور ترقی کے زون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متوازن عالمی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے ایک تعمیری اور ذمہ دار کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

تہذیبی اور تاریخی رشتوں پر روشنی

صدر مملکت نے ایران کی قیادت اور عوام کو قومی دن کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران صرف پڑوسی ممالک نہیں بلکہ تہذیبی اور تاریخی شراکت دار بھی ہیں۔
انہوں نے کہا،

“ہماری مشترکہ سرحد صدیوں پر محیط تعامل، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ ہمارے تعلقات کی جڑیں عقیدے، تاریخ اور پائیدار ثقافتی رشتوں میں پیوست ہیں۔”

انہوں نے فارسی زبان اور اس کی عظیم ادبی روایت کے پاکستان کی فکری اور تہذیبی زندگی پر گہرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں تک فارسی ان خطوں کی سرکاری زبان رہی جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قومی ترانہ خود اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فارسی زبان نے ہماری اجتماعی شناخت پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

صدر زرداری نے سندھ کے عظیم صوفی شاعر سچل سرمست، مولانا رومی، حافظ، سعدی اور فردوسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعرا اور مفکرین پاکستان میں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
انہوں نے علامہ محمد اقبال کو دونوں معاشروں کے لیے وقار، تجدید اور فکری ربط کی مشترکہ علامت قرار دیا، جنہوں نے اپنی شاعری کا بڑا حصہ فارسی میں تخلیق کیا۔

ایرانی سفیر کا خطاب

اس موقع پر پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ مختلف بیرونی دباؤ اور چیلنجز کے باوجود ایران نے ٹیکنالوجی، دفاع، سائنس اور معیشت سمیت اہم شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے خود انحصاری، مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ مشکلات کو مواقع میں تبدیل کیا اور ترقی کے سفر کو جاری رکھا۔

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے حمایت کو سراہا، بالخصوص ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف کی تعریف کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button