پاکستاناہم خبریں

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچیسن کالج لاہور میں خصوصی نشست

قومی سلامتی، دہشت گردی کے چیلنجز اور ہائبرڈ وارفیئر پر جامع گفتگو

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے ایچیسن کالج لاہور کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ ایک خصوصی اور تفصیلی نشست میں شرکت کی، جس میں قومی سلامتی کی صورتحال، دہشت گردی کے موجودہ و ابھرتے ہوئے چیلنجز، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورکس، اور پاکستان کے خلاف جاری ہائبرڈ وارفیئر پر کھل کر گفتگو کی گئی۔ اس نشست کو تعلیمی و فکری سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے نوجوانوں اور اساتذہ کو براہِ راست حقائق جاننے اور سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔

قومی سلامتی اور دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خد و خال

نشست کے آغاز میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت بدل چکی ہے اور اب یہ صرف بندوق یا بم تک محدود نہیں رہی، بلکہ بیانیے، غلط معلومات، پروپیگنڈا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورکس نہ صرف ریاستی سلامتی بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت جاری ہے، جس میں جھوٹی خبریں، من گھڑت بیانیے، سوشل میڈیا مہمات اور اقتصادی و سفارتی دباؤ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز کا مقابلہ صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، آگاہی، اور سچائی پر مبنی بیانیے سے ممکن ہے۔

ایچیسن کالج اور پاک فوج: تاریخی تعلق

اس موقع پر پرنسپل ایچیسن کالج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ایچیسن کالج اور پاک فوج کے درمیان ایک مضبوط اور باوقار تعلق قائم رہا ہے، جس پر ادارہ فخر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیشنز نوجوانوں کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں ریاستی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

سوال و جواب: کھلا مکالمہ

نشست کے دوران طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے بلا جھجھک مختلف موضوعات پر سوالات کیے، جن میں دہشت گردی کے اسباب، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات، قومی بیانیہ، اور نوجوانوں کا کردار شامل تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام سوالات کے جوابات انتہائی تحمل، تدبر اور حقائق کی روشنی میں دیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر جھوٹ اور پروپیگنڈا قومی مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا فرنٹیئر کور کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کسی کی سیاسی یا مذہبی سوچ کچھ بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا اور قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم سے گریز کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے اندر ہونے والی اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے، اور حالیہ واقعات میں بعض ملزمان کی سرحد پار تربیت اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائیاں ناگزیر ہیں۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا: حقائق اور ترقی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چند سال قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی، جس کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا تھا، مگر اب یہ اسمگلنگ بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق گڈ گورننس دہشت گردی کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے، اور بلوچستان کے عوام احساسِ محرومی کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو بخوبی پہچان چکے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں بھی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ہی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اس ضمن میں حالیہ مشاورتی اجلاس خوش آئند پیش رفت ہیں۔

نوجوانوں کا کردار اور تعلیمی اداروں کی اہمیت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور کوئی بھی منفی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کے دور میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھیں اور غیر مصدقہ معلومات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

سیاسی معاملات اور آئینی حدود

نشست کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کو بات چیت اور اختلافِ رائے کا مکمل حق حاصل ہے اور پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے، اور اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

اختتامی کلمات

ایچیسن کالج کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ نے اس نشست کو نہایت اہم اور بروقت قرار دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے سیشنز کا انعقاد جاری رہنا چاہیے۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے متحد رہیں گے۔

نشست کا اختتام اس یقین کے ساتھ ہوا کہ قومی اتحاد، سچائی پر مبنی بیانیہ اور نوجوانوں کی فکری شمولیت ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر جواب ہے، اور افواجِ پاکستان دشمن کی ہر سازش کو ہر محاذ پر ناکام بنانے کے لیے پوری طرح چوکس و چوبند ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button