
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے، جماعت یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں پاکستان کے عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر جواب دینا ہوگا۔ یہ بات بدھ کے روز لاہور میں ایک اعلیٰ سطح کے فورم پر سینیئر صحافیوں کو دی گئی اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران کہی گئی، جس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی ماحول اور قومی اتحاد کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سکیورٹی حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ریاست کے لیے سب برابر ہیں اور اس جنگ میں جو بھی قومی مفاد کے تحت ساتھ بیٹھے گا، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز یا ریاستی اقدامات پر بلاجواز شکوک و شبہات نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دشمن کے بیانیے کو بھی تقویت دیتے ہیں۔
سیاست کا حق، مگر فوج کو سیاسی بیانیے سے دور رکھا جائے
بریفنگ کے دوران سکیورٹی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے بیانیے پیش کرنے اور اپنی مرضی کی سیاست کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ فوج کو سیاسی بیانیوں کا حصہ نہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق جو لوگ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ یہ ان کے ذاتی یا گروہی مقاصد ہو سکتے ہیں، لہٰذا ایسے افراد کو کسی ایک سیاسی جماعت سے منسوب کرنا درست نہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ فوج کسی ایک جماعت، نسل یا طبقے کی نہیں بلکہ پاکستان کی فوج ہے اور اس کا کردار آئین کے تحت ریاستی سلامتی کا تحفظ ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر دہشت گردی جیسے قومی خطرے پر کسی قسم کی تقسیم ناقابلِ برداشت ہے۔
بدلتا سیاسی منظرنامہ اور مفاہمت کے اشارے
بریفنگ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر کچھ اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ایک جانب سپریم کورٹ کے حکم پر بانی تحریک انصاف عمران خان سے ’فرینڈ آف کورٹ‘ کے تحت ان کے وکیل سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں طویل ملاقات ہوئی، جس کی مفصل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی، تو دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کابینہ کے ہمراہ پشاور میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں فوجی حکام بھی موجود تھے۔
اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں کے بیانات سے یہ تاثر بھی ملا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور معاملات کو افہام و تفہیم سے آگے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ قومی سطح پر مکالمے اور ہم آہنگی کی گنجائش موجود ہے، جسے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گڈ گورننس دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار
لاہور بریفنگ میں سکیورٹی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سب سے اہم عنصر گڈ گورننس ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں گورننس کو سیاست کا محور بنائیں، عوامی مسائل حل کریں اور ریاستی رٹ کو مضبوط کریں تو پوری قوم یکجا ہو کر دہشت گردی کی اس لہر کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ہر صورت میں پاکستان نے ہی جیتنی ہے کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن موجود نہیں۔ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح قوم نے تمام سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا، اسی طرح دہشت گردی کے خلاف بھی اسی نوعیت کا اتحاد درکار ہے۔
فوج تقسیم نہیں، ہیلنگ پر یقین رکھتی ہے
سکیورٹی حکام نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ فوج کسی طرح کی تقسیم چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج زخموں کو مندمل کرنے، اعتماد بحال کرنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ لوگوں کو تقسیم کرنے پر۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کا مقصد صرف اور صرف ملک کو درپیش خطرات کا سدباب اور عوام کا تحفظ ہے۔
بھارت کی مداخلت اور نیشنل ایکشن پلان
بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بھارتی حکام خود بھی ماضی میں یہ باتیں کر چکے ہیں کہ وہ بلوچستان میں تخریب کاری کو بطور حربہ استعمال کریں گے۔ تاہم اس بیرونی چیلنج کا مؤثر جواب صرف اور صرف داخلی طور پر متحد ہو کر دیا جا سکتا ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ یہ پلان 2014 میں تشکیل دیا گیا تھا، جس کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، اور 2018 میں آنے والی حکومت نے بھی اس کی توثیق کی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق اس پلان کے پہلے نکتے پر سکیورٹی اداروں نے بھرپور عمل کیا ہے، جس کی مثال ایک سال کے دوران 75 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہیں، جبکہ باقی 13 نکات پر عمل درآمد سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
ان نکات میں سب سے اہم ذمہ داری دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہونا، نفرت انگیز بیانیوں کا خاتمہ، انتہاپسندی کے اسباب کا تدارک اور مؤثر گورننس کا قیام ہے۔
وفاق، صوبے اور فوج کا آئینی کردار
سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ریاست کی نمائندہ ہے اور وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ فوج ریاست کا ایک آئینی ادارہ ہے، اس لیے جہاں وفاقی حکومت ضروری سمجھے، وہاں فوج اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم سیاسی معاملات سیاستدانوں نے ہی حل کرنے ہیں اور فوج خود کو سیاست سے دور رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گورننس ایک سیاسی مسئلہ ہے اور بار بار یہی کہا جا رہا ہے کہ اس پر توجہ دی جائے، کیونکہ مضبوط گورننس ہی دہشت گردی، انتہاپسندی اور عدم استحکام کا دیرپا حل ہے۔
نتیجہ: واحد راستہ قومی اتحاد
لاہور میں ہونے والی اس اِن کیمرہ بریفنگ کا خلاصہ یہی تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا واحد راستہ قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اور گڈ گورننس ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق اگر قوم اور سیاسی قیادت اس نکتے پر متفق ہو جائیں تو نہ صرف دہشت گردی بلکہ ہر قسم کے ہائبرڈ اور بیرونی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے، اور پاکستان ایک بار پھر مضبوط، پرامن اور مستحکم ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔



