کالمزناصف اعوان

مہنگائی نے لی انگڑائی !…….ناصف اعوان

ان دنوں مزید قیمتیں بڑھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جب رمضان المبارک کا آغاز ہو گا تو یہ تاجر اور دکاندار دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لُوٹیں گے مگر انہیں کوئی نہیں روکے گا

ناجائز منافع خوروں نے لنگر لنگوٹ کس لیے ہیں ۔ ان کے چہرے دمک چمک رہے ہیں ان کے ہاسے ”وکھیوں“ (پسلیوں )سے بھی پھوٹ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ پیچھے سے ہی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں اور پیچھے والے بڑے بڑے تاجر ہیں جو ہمیشہ قیمتوں کا تعین عوام کی حالت زار کو نظر انداز کرتے ہوئے طے کرتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ جن لوگوں کی کم آمدنی ہے اور اس میں اصافہ نہیں ہوتا وہ کیسے گرانی کا مقابلہ کریں گے مگر ہمارا نظام ہی ایسا ہی کہ اس میں منافع کو ہی دیکھا جاتا ہے عوام کی حیاتِ رواں کو نہیں کہ وہ کیسے گزر رہی ہے اگر اس کو مدنظر رکھا جاتا تو کبھی بھی مہنگائی کا رونا نہ رویا جاتا مگر نہیں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ عوامی اُمنگوں عوامی بھلائی اور عوامی مزاج کا خیال رکھا گیا ہو لہذا اندھیر نگری وجود میں آگئی جس میں لوٹ کھسوٹ سر عام ہو گئی مافیاز نے طاقت پکڑی اور وہ اتنے سرکش ہو گئے کہ لوگوں کو یہ جرآت نہیں ہوئی کہ وہ ان سے سوال کر سکیں ۔رہی بات ریاستی اداروں کی وہ بھی آنکھیں بند کرکے وقت کو دھکیلتے رہے اور عوام کو بیوقوف بناتے رہے لہذا یہ جو صورت حال ہے اس کے زمہ دار یہی سب لوگ ہیں مگر وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ان کا گھڑا گھڑایا جواب یہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ یہ بات درست ہے مگر کیا اس تناسب سے حکومتیں چیزیں مہنگی کرتی ہیں جواب نفی میں ہوگا۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہتھ ہولا رکھا کریں کہ ان کی دیکھا دیکھی نیچے دکاندار بھی اندھا دھند قیمتیں بڑھا دیتے ہیں انہیں اس اقدام سے روکنے کے لئے ادارے تو موجود ہیں مگر وہ کبھی کبھار ہی حرکت میں آتے ہیں صرف کارروائی ڈالنے کے لئے وگرنہ تو وہ منتھلیاں لیتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں قلیل ہیں ان سے گزارا مشکل ہوتا ہے ان کا موقف بڑی حد تک درست ہے مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ رشوت لے کر عوام کی اکثریت جو غریب ہے اس کو چمڑی ادھیڑ نے والوں کے سپرد کر دیں۔ حکومتیں نجانے کن مصلحتوں کے تحت خاموش رہتی ہیں مگر کب تک؟ آخر کار انہیں اپنی خاموشی کو توڑنا ہو گا۔
ان دنوں مزید قیمتیں بڑھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جب رمضان المبارک کا آغاز ہو گا تو یہ تاجر اور دکاندار دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لُوٹیں گے مگر انہیں کوئی نہیں روکے گا ۔ عوام دہائی دیں گے تو انہیں طرح طرح کی دلیلیں دی جائیں گی وزیر مشیر ٹی وی چینلوں پر آکر دفاع کریں گے اور وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ لوگ ان پر یقین کرلیں گے جبکہ ایسا نہیں‘ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ چور کُتی مل کر ان کی جیبوں سے پیسا نکالتے ہیں وگرنہ کسی کی کیا مجال کہ وہ اپنی مرضی کرے ۔قانون کے آگے کوئی بندہ بھی نہیں اکڑ سکتا مگر اسکو طویل عرصے سے چپ لگی ہوئی ہے۔
در اصل ہماری کرتا دھرتا دانستہ لوگوں کو اذیت میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں انہیں مسائل کی دلدل میں دھنسا کر اور پھر باہر نکال کر ان کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ ان سے مخلص ہیں انہیں ان کا بڑا خیال ہے جبکہ یہ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہوتا ہے یا دوسری لفظوں میں آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے ۔
ان کا کردار ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں ۔ عام آدمی کی پریشانی مہنگائی و ناجائز منافع خوری پر اس لئے بڑھتی ہے کہ اس کے پاس گِنے چُنےپیسے ہوتے ہیں لہذا اہل اختیار و اقتدار اپنی پرانی روش کو بدلیں وقت کبھی نہیں رّکتا آگے بڑھتا ہے ۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ جو عوام ہیں پہلے کی طرح نہیں سوچتے سوشل میڈیا نے ان کو بہت کچھ دکھا اور بتلا دیا ہے اسی لئے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ووٹرز سپورٹرز اور ہمدرد بہت سی مشکلات کے باوجود بھی اس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ موجودہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے بڑی کوشش کر لی کہ کسی طرح پی ٹی آئی بکھر جائے مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی شاید اسی لیے ہی تھوڑی برف پگھلی ہے یعنی سیاسی حالات بہتری کی طرف آنے لگے ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیر نہ بنے ۔آئی ایم ایف اور اس کے پچھلگوں کے آگے سر نہ جھکائے ۔جب تک عوام اس کے ساتھ نہیں ہوتے وہ سر خرو نہیں ہو سکتی کیونکہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی آسانی سے نہیں مل رہی ان کو زندگی کے لازمی لوازمات میسر نہیں لہذا وہ بےچین اور غیر مطمئن رہیں گے ہم حیران ہیں کہ ہمارے دانشور اور مفکرین نظام معیشت سے متعلق بہت کم بتاتے ہیں۔ وہ بس یہ بتاتے ہیں کہ چین کا انڈیا سے پھڈا ہو گیا امریکا کے بحری بیڑے ایران کی حدود میں داخل ہو گئے۔ چین نے سوشلزم سے روگردانی کر لی ہے مگر اس نے ساری دنیا میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ ترقی کی منازل طے کرکے ایک ارب سے زائد غریبوں کو غربت سے نجات دلا دی ہے اس کی جنگی ٹیکنالوجی نے حیرت زدہ کر دیا ہے ۔ روس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس نے ایران کی بھر پور مدد کی ہے اپنے جدید ہتھیار اس کے حوالے کر دئیے ہیں یہ کہ شمالی کوریا نے بھی اندر کھاتے اس کو اسلحہ دے دیا ہے وغیرہ وغیرہ
اس سے غریب آدمی کا کیا تعلق اسے تو پیٹ بھرنا ہے ۔خلیل جبران کہتا ہے کہ ”بھوکے کے آگے گاؤ گے تو وہ اپنے پیٹ سے سنے گا“ لہذا بتایا یہ جائے کہ انہیں (عوام) کیوں سسک سسک کر جینا پڑ رہا ہے جبکہ چند لوگوں کے ہاتھوں میں جو دولت ہے اس سے ملک میں ایک معاشی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے مگر ایسا نہیں کیا جا رہا ان پر ملکی خزانہ صرف نہیں ہو رہا کیونکہ اس کے مستحق اقتدار والے ہیں وہ تو ٹیکس دینے کے لئے ہیں ۔ اس لئے ان کی سانسیں بحال رکھی جاتی ہیں مگرہمارے دانشور ومفکرین اپنے ہونٹوں کو جنبش نہیں دیتے اِدھر اُدھر کی ہانکتے ہیں مگر ان کی سنتا بھی کون ہے کیونکہ بھوک روٹی مانگتی ہے ۔
حرف آخر یہ کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے کرانے والوں کو آہنی ہاتھوں سے روکا جائے تاکہ لوگوں کی سوچ تبدیل ہوسکے!

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button