یورپتازہ ترین

جرمنی اور بھارت کا مضبوط شراکت داری پر اتفاق

واڈے فیہول نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے کو دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی اہم مثال قرار دیا

میونخ سکیورٹی کانفرنس میں جرمنی اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فیہول اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹرانس-اٹلانٹک اختلافات کے باوجود امریکہ اور یورپ کی تاریخی و ثقافتی شراکت کمزور نہیں پڑی۔

جرمن چانسلر کا دورہ بھارت اہم کیوں؟

دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ روبیو کی یقین دہانی کے باوجود عالمی طاقتوں کی ازسر نو ترتیب ایک حقیقت ہے اور دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں کثیر قطبی نظام بین الاقوامی تعلقات کو نئی شکل دے رہا ہے۔
جرمن وزیرِ خارجہ واڈے  فیہول نے کہا، ’’ہمیں نئے عالمی شراکت داروں کی ضرورت ہے اور بھارت جرمنی کے لیے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے۔‘‘

 بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر
بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام بے ترتیب اور ادھورا ضرور ہے، اس میں بہتری کی گنجائش بھی ہے، مگر یہ نظام اب بھی قائم ہے اور چل رہا ہےتصویر: Florian Gaertner/AA/IMAGO

جرمن  وزیر نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر یہ کہتے ہوئے زور دیا کہ عالمی ادارے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی صورتحال نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا،’’اقوام متحدہ کو فعال ہونا ہوگا، صرف مبصر کا کردار ادا کرنا کافی نہیں۔‘‘
واڈے فیہول نے یورپی یونین اوربھارت کے درمیان ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے کو دوطرفہ تعلقات کی  مضبوطی کی اہم مثال قرار دیا۔
بھارتی  وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام بے ترتیب اور ادھورا ضرور ہے، اس میں بہتری کی گنجائش بھی ہے، مگر یہ نظام اب بھی قائم ہے اور چل رہا ہے۔
ان کے مطابق دنیا تیزی سے ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں فیصلہ سازی کے کئی خودمختار مراکز موجود ہوں گے، جو ایک حقیقی کثیر قطبی دنیا کی نشاندہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button