کالمزسید عاطف ندیم

شجاعت کی داستان — بہادری کی میراث…..سید عاطف ندیم

سیاچن کی برف ہو یا تھر کی ریت، پہاڑ ہوں یا میدان، ہر جگہ ایک ہی عزم گونجتا ہے: وطن کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

سیاچن گلیشیئر کی برفیلی چوٹیوں سے لے کر تھر کے سنہری ریگزاروں تک، ایک داستان مسلسل لکھی جا رہی ہے—ایسی داستان جو صرف بندوقوں اور بارود کی نہیں بلکہ عزم، قربانی اور وطن سے بے لوث محبت کی ہے۔ یہ داستان ہے Pakistan Army کی، جو ہر موسم، ہر سرحد اور ہر آزمائش میں قوم کے اعتماد کا استعارہ بن کر کھڑی ہے۔

یہ داستان محض جنگی محاذوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس جذبے کی کہانی ہے جو ایک سپاہی کے دل میں وطن کی مٹی کے لیے دھڑکتا ہے۔ یہ اُن ماؤں کی دعاؤں کی گونج ہے جو اپنے بیٹوں کو سرحدوں پر بھیجتے وقت آنسوؤں کو ضبط کر کے فخر سے سر بلند رکھتی ہیں۔ یہ اُن بچوں کی امید ہے جو اپنے باپ کی وردی کو عزت کا تاج سمجھتے ہیں۔

Siachen Glacier دنیا کے بلند ترین اور مشکل ترین محاذوں میں شمار ہوتا ہے۔ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند یہ خطہ انسان کی برداشت کا کڑا امتحان لیتا ہے۔ یہاں درجہ حرارت منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ آکسیجن کی کمی سانس لینا دشوار بنا دیتی ہے، اور ہر قدم احتیاط کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ برف کے نیچے چھپی دراڑیں زندگی نگل سکتی ہیں۔

مگر انہی سخت ترین حالات میں پاکستانی سپاہی چٹان کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے چہرے سرد ہواؤں سے سرخ ہو جاتے ہیں، مگر حوصلہ گرم رہتا ہے۔ برفانی طوفانوں کے درمیان بھی نگرانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہاں صرف دشمن سے نہیں بلکہ فطرت سے بھی جنگ لڑی جاتی ہے۔

سیاچن محض ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ استقامت کی علامت ہے۔ یہاں ڈیوٹی دینے والا ہر جوان جانتا ہے کہ وہ صرف ایک چوٹی کی حفاظت نہیں کر رہا بلکہ پورے ملک کے اعتماد کی پاسداری کر رہا ہے۔

دوسری طرف Thar Desert کا وسیع و عریض صحرا ہے۔ یہاں سورج آگ برساتا ہے، زمین تپتی ہے اور پانی کی ہر بوند قیمتی ہوتی ہے۔ گرمی پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتی ہے اور افق تک پھیلی ریت انسان کو تنہائی کا احساس دلاتی ہے۔

مگر یہی تنہائی سپاہیوں کے عزم کو اور مضبوط بناتی ہے۔ یہاں کے محاذوں پر تعینات جوان نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کے ساتھ بھی گہرا تعلق قائم کرتے ہیں۔ پانی کی فراہمی، طبی کیمپوں کا انعقاد اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوج صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ قومی خدمت کی علامت بھی ہے۔

صحرا کی خاموشی میں بھی عزم کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سپاہی کا صبر، برداشت اور استقامت نئی مثالیں قائم کرتے ہیں۔

کسی بھی فوج کی اصل طاقت اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ Pakistan Army کی تربیت کا نظام دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایک سپاہی کو نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط بنایا جاتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

تربیت کے دوران اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ذاتی خواہشات کو قومی مفاد پر قربان کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ صبح سویرے کی مشقوں سے لے کر رات گئے تک کی ذمہ داریوں تک، ہر لمحہ نظم و ضبط کا درس دیتا ہے۔

یہی نظم و ضبط میدانِ جنگ میں کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔ دباؤ کے لمحات میں فوری اور درست فیصلہ کرنا، ساتھیوں پر اعتماد رکھنا اور قیادت کی ہدایات پر عمل کرنا — یہ سب تربیت کا حصہ ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کو کڑی آزمائش میں ڈالا۔ قبائلی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک، امن کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں تھی بلکہ نظریات کی بھی تھی۔ شدت پسندی کے اندھیروں میں امید کی روشنی جلانا آسان نہ تھا، مگر مسلسل جدوجہد اور قربانیوں نے حالات بدل دیے۔ آج جب ملک کے مختلف حصوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہیں، تو اس کے پیچھے انہی بے نام سپاہیوں کی محنت اور قربانی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ نے نہ صرف فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کو نکھارا بلکہ قوم کے عزم کو بھی مضبوط کیا۔

زلزلہ ہو یا سیلاب، ہر آفت کے وقت فوج سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچتی ہے۔ ملبے سے زندہ افراد کو نکالنا، خیمہ بستیاں قائم کرنا، خوراک اور ادویات کی فراہمی — یہ سب ایسے کام ہیں جو فوری ردِعمل اور منظم حکمتِ عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔

ایسے مواقع پر سپاہی صرف محافظ نہیں بلکہ مسیحا بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے آرام اور حفاظت کی پروا کیے بغیر متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب فوج اور عوام کا رشتہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

شہادت اس داستان کا سب سے مقدس باب ہے۔ جب کوئی سپاہی وطن پر قربان ہوتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ ایک نظریہ بن جاتا ہے۔ اس کے لہو سے وطن کی مٹی اور زیادہ معتبر ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ ایسے بے شمار شہداء کے ناموں سے روشن ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے آنے والی نسلوں کے لیے امن کی بنیاد رکھی۔ ان کی قربانی قوم کے ضمیر کو زندہ رکھتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی دفاعی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ طبی شعبے، انجینئرنگ، فضائی خدمات اور دیگر شعبوں میں خواتین افسران اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

یہ شمولیت نہ صرف ادارے کو مضبوط بناتی ہے بلکہ معاشرے میں صنفی مساوات کا مثبت پیغام بھی دیتی ہے۔

عصرِ حاضر میں جنگ کا انداز بدل چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، ڈرونز اور انٹیلیجنس سسٹمز دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

پاک فوج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مسلسل تربیت اور تحقیق پر زور دیتی ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت، جدید آلات اور مؤثر قیادت اسے خطے کی اہم افواج میں شامل کرتے ہیں۔

ایک مضبوط فوج پائیدار امن کی ضمانت ہوتی ہے۔ جب سرحدیں محفوظ ہوں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری بڑھتی ہے، صنعتیں ترقی کرتی ہیں اور نوجوانوں کو مواقع میسر آتے ہیں۔

امن کا قیام صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مقصد ہے۔ مگر فوج اس مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

فوج اور عوام کا تعلق رسمی نہیں بلکہ جذباتی ہے۔ ایک سپاہی جب سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ پوری قوم اس کے ساتھ ہے۔ یہی اعتماد اسے ہر خطرے کا سامنا کرنے کی ہمت دیتا ہے۔

قوم بھی اپنے محافظوں کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یومِ دفاع جیسے مواقع پر یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔

شجاعت کی یہ داستان کسی ایک معرکے تک محدود نہیں۔ یہ ایک جاری سفر ہے — ایسا سفر جس میں ہر نسل اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

سیاچن کی برف ہو یا تھر کی ریت، پہاڑ ہوں یا میدان، ہر جگہ ایک ہی عزم گونجتا ہے:

وطن کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

یہی بہادری کی میراث ہے۔ یہی وہ چراغ ہے جو نسل در نسل روشن رہے گا۔
یہ داستان آج بھی لکھی جا رہی ہے — ہر اُس سپاہی کے ہاتھوں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے، اور ہر اُس شہری کے دل میں جو اپنے محافظوں پر فخر کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button