
بوریندو: دریائے سندھ کی قدیم تہذیب کی بازگشت، یونیسکو کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد تحفظ کی نئی امید
تاہم ساخت اور مواد میں مماثلت اسے قدیم موسیقی روایت کا تسلسل قرار دینے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
دریائے سندھ کی ہزاروں برس پر محیط تہذیب نے جہاں دنیا کو شہری منصوبہ بندی، دستکاری اور فن تعمیر کے نادر نمونے دیے، وہیں موسیقی کے میدان میں بھی ایک منفرد ورثہ چھوڑا۔ اسی ورثے کی ایک علامت بوریندو نامی ساز ہے، جسے حال ہی میں یونیسکو نے معدومیت کے خطرے سے دوچار غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس قدیم ساز کے تحفظ اور ترویج کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
قدامت اور تہذیبی نسبت
بوریندو کو سندھ کی قدیم تہذیب سے جوڑا جاتا ہے، جس کی جڑیں وادیٔ سندھ میں پیوست ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ مٹی سے بنے بانسری نما سازوں کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے اور اس کے نمونے موئن جو دڑو جیسے مقامات سے بھی ملتے رہے ہیں۔ اگرچہ براہِ راست بوریندو کے موجودہ ڈیزائن کو قدیم نمونوں سے جوڑنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم ساخت اور مواد میں مماثلت اسے قدیم موسیقی روایت کا تسلسل قرار دینے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
بوریندو عموماً پکی مٹی سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سائز میں چھوٹا اور گولائی مائل ہوتا ہے، جس پر چند سوراخ بنائے جاتے ہیں۔ اسے بجانے والا فنکار ساز کے دہانے پر پھونک مار کر اور انگلیوں کی مدد سے سوراخوں کو کھول کر مختلف سُر پیدا کرتا ہے۔ اس کی آواز نرم، سریلی اور روحانی کیفیت لیے ہوتی ہے، جو سندھ کی صوفی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
یونیسکو کی فہرست میں شمولیت
یونیسکو کی جانب سے بوریندو کو غیر مادی ثقافتی ورثے کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار فنون اور روایات کے تحفظ کے لیے مرتب کی جاتی ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ریاست اور عالمی برادری اس فن کی بقا کے لیے عملی اقدامات کریں گے، جن میں دستاویز سازی، تربیتی پروگرام، مالی معاونت اور آگاہی مہمات شامل ہو سکتی ہیں۔
ثقافتی ماہرین کے مطابق بوریندو کی روایت زبانی اور عملی تربیت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی، مگر جدید موسیقی رجحانات، معاشی مشکلات اور سرکاری سرپرستی کے فقدان نے اسے بتدریج حاشیے پر دھکیل دیا۔
بدین کے فقیر ذوالفقار علی: ایک روایت کے آخری نگہبان
صوبہ سندھ کے ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے فقیر ذوالفقار علی کو بوریندو بجانے والے واحد پیشہ ور فنکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مقامی ثقافتی حلقوں کے مطابق وہ نہ صرف اس ساز کو مہارت سے بجاتے ہیں بلکہ خود اسے تیار بھی کرتے ہیں۔
فقیر ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ بوریندو محض ایک ساز نہیں بلکہ سندھ کی روح ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ فن اپنے بزرگوں سے سیکھا، مگر آج نئی نسل کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ شکوہ کرتے ہیں کہ مناسب سرپرستی اور مالی معاونت نہ ہونے کے باعث اس فن کو زندہ رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیہی میلوں، صوفی محفلوں اور ثقافتی تقریبات میں جب وہ بوریندو بجاتے ہیں تو سامعین اس کی آواز سے مسحور ہو جاتے ہیں، مگر مستقل روزگار نہ ہونے کے سبب نوجوان اس فن کو بطور پیشہ اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔
معدومیت کے خطرات
ثقافتی ماہرین کے مطابق بوریندو کو درپیش خطرات میں شامل ہیں:
فنکاروں کی انتہائی کم تعداد
دستکاری کے روایتی طریقوں کا ختم ہونا
تجارتی سطح پر پیداوار کا نہ ہونا
موسیقی کے جدید آلات کی مقبولیت
حکومتی سرپرستی کا فقدان
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اس ساز کو صرف کتابوں یا عجائب گھروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔
تحفظ اور احیاء کے امکانات
یونیسکو کی فہرست میں شمولیت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ صوبائی اور وفاقی ثقافتی ادارے بوریندو کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ:
موسیقی کے اداروں میں بوریندو کی باقاعدہ تعلیم متعارف کرائی جائے
نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں
بوریندو سازوں کی دستاویزی فلمیں اور ریکارڈنگز تیار کی جائیں
قومی و بین الاقوامی میلوں میں اس ساز کو نمایاں مقام دیا جائے
ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو بوریندو نہ صرف معدوم ہونے سے بچ سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر سندھ کی موسیقی شناخت کو مزید اجاگر بھی کر سکتا ہے۔
ایک تہذیب کی بازگشت
دریائے سندھ کی سرزمین نے ہزاروں برس سے فن اور ثقافت کی آبیاری کی ہے۔ بوریندو کی مدھم اور پراسرار آواز آج بھی اس قدیم تہذیب کی بازگشت سناتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جدید دور کی تیز رفتار دنیا اس نرم اور مٹی کی خوشبو لیے ساز کو سننے اور محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہے؟
یونیسکو کی حالیہ پیش رفت نے امید کی ایک نئی کرن ضرور روشن کی ہے، مگر اس ورثے کو زندہ رکھنے کی اصل ذمہ داری مقامی معاشرے، ریاستی اداروں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر اجتماعی کوشش کی گئی تو بوریندو آنے والی نسلوں کے لیے بھی دریائے سندھ کی موسیقی روایت کا امین بن سکتا ہے۔



