پاکستاناہم خبریں

وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ: پاکستان میں دہشتگرد حملے بھارت کی پراکسی جنگ کا حصہ، غزہ مشن پر شرائط کی وضاحت ضروری

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اس نوعیت کے بیانات دونوں ممالک کے سفارتی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگرد حملے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ مل کر بھارت کی مبینہ پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے یہ بات عالمی نشریاتی ادارے France 24 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس میں پاکستان کی داخلی سلامتی، علاقائی صورتحال اور غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی مشن سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔

سکیورٹی صورتحال پر اظہارِ خیال

انٹرویو کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز محض داخلی نوعیت کے نہیں بلکہ ان کے تانے بانے خطے کی جغرافیائی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض شدت پسند عناصر کو سرحد پار سے معاونت حاصل ہے اور یہ سرگرمیاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے، تاہم ملک کے خلاف “پراکسی وار” کی حکمتِ عملی اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی واضح اور عملی یقین دہانی کرانی چاہیے۔

بھارت سے متعلق الزامات

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والی بعض پرتشدد کارروائیاں بھارت کی پراکسی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اس نوعیت کے بیانات دونوں ممالک کے سفارتی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

غزہ میں ممکنہ امن مشن پر مؤقف

غزہ میں بین الاقوامی استحکام کے ممکنہ مشن میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ کسی بھی امن فورس میں شمولیت کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کے مینڈیٹ اور شرائط کیا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرے گا جو منصفانہ، غیر جانبدار اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امن مشن کی کامیابی کے لیے واضح مینڈیٹ، غیر جانبداری اور مقامی آبادی کا اعتماد بنیادی عناصر ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا کردار

خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ United Nations کے امن مشنز میں پاکستان طویل عرصے سے ایک فعال اور نمایاں شراکت دار رہا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں قیامِ امن کے لیے اپنی افواج اور اہلکار تعینات کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن فوجی خدمات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور مستقبل میں بھی ملک عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مشن کے خدوخال واضح اور قابلِ قبول ہوں۔

علاقائی استحکام کی ضرورت

وزیر دفاع نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ دونوں خطے اس وقت حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں سفارتی بصیرت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر دفاع کا بیان خطے میں جاری سفارتی و سکیورٹی مباحث کا حصہ ہے، جبکہ غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی مشن کے حوالے سے پاکستان کا محتاط مؤقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button