
روئٹرز کے ساتھ
دوسری عالمی جنگ کے دور کا روسی جاپانی علاقائی تنازعہ
دوسری عالمی جنگ کے دوران دو بڑے لیکن حریف جنگی دھڑوں کے رکن ممالک کے طور پر جاپان اور روس (اس دور کی سوویت ریاست) ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کئی سالہ جنگ کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین کوئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں پایا تھا، بلکہ صرف جنگ بندی ہوئی تھی۔
اس عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے بعد اس دور کی ریاست سوویت یونین نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے اپنے فوجی دستے جزائر کوریل پر قبضے کے لیے بھیج دیے تھے۔

پھر کئی سال بعد 1956ء میں ٹوکیو اور ماسکو نے جس اعلامیے پر دستخط کر بھی دیے تھے، وہ بھی باقاعدہ حالت جنگ کے خاتمے کا اعلامیہ تھا، نہ کہ کوئی باہمی امن معاہدہ۔
کوئی امن معاہدہ طے نہ پانے کی اہم ترین وجہ ماسکو اور ٹوکیو کے مابین ایک بڑے علاقائی تنازعے کا ختم نہ ہونا تھی۔ یہ تنازعہ انہی جزائر کوریل سے متعلق تھا اور ہے، جنہیں جاپان اپنے ”شمالی علاقے‘‘ قرار دیتا ہے۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق جاپان کی خاتون وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے جمعے کے روز ٹوکیو میں ملکی پارلیمان سے اپنے اولین خطاب میں کہا، ”اگرچہ جاپان روس تعلقات مشکل دور میں ہیں، تاہم ٹوکیو حکومت کا موقف آج بھی پہلے جیسا ہی ہے: مقصد اس علاقائی تنازعے کو حل کرنا اور ایک امن معاہدہ طے کرنا ہے۔‘‘

کریملن کا موقف
جاپانی وزیر اعظم کے اس موقف کے بعد ماسکو میں کریملن، جہاں روسی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں، کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا، ”روس کے جاپان کے ساتھ تعلقات کم کر کے صفر کیے جا چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا، ”اس تنزلی کا باعث ٹوکیو حکومت کا ماسکو کے بارے میں غیر دوستانہ موقف بنا۔‘‘
پیسکوف نے معمول کی ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا، ”کوئی مکالمت نہیں ہو رہی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی مکالمت کے بغیر کسی امن معاہدے کا تو تصور بھی ناممکن ہے۔‘‘
کریملن کے ترجمان نے جاپان پر الزام لگاتے ہوئے کہا، ”روس کبھی بھی اب بات کے حق میں نہیں تھا کہ یہ مکالمت ختم کر دی جائے۔‘‘

دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، ”ان حالات میں ایسا ہونا تو اب محال ہے کہ تعلقات کی نوعیت تبدیل کیے بغیر کسی بھی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘‘



