
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے قومی شناختی نظام میں اہم اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے سمارٹ قومی شناختی کارڈ میں موجود مائیکرو چِپ کو ختم کرنے اور کیو آر کوڈ کو جدید اور مؤثر انداز میں فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شناختی تصدیق کے نظام کو زیادہ قابلِ رسائی، محفوظ اور ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
نادرا کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اب نئے جاری ہونے والے قومی شناختی کارڈز میں چِپ شامل نہیں ہوگی، جبکہ پہلے سے موجود کیو آر کوڈ کو قانونی حیثیت دے کر اسے آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے قابلِ تصدیق بنا دیا گیا ہے۔
چِپ کا خاتمہ کیوں؟
نادرا نے سنہ 2013 میں سمارٹ شناختی کارڈ میں مائیکرو چِپ متعارف کروائی تھی تاکہ کارڈ کے حفاظتی فیچرز کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم عملی طور پر چِپ کے استعمال کے لیے مخصوص ڈیوائس درکار تھی، جو عام اداروں اور عوام کے لیے دستیاب نہیں تھی۔ اسی وجہ سے چِپ کا استعمال محدود رہا اور بڑے پیمانے پر مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔
نادرا کے مطابق اب چِپ کی جگہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیقی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے تصدیق کا عمل آسان اور فوری ہو جائے گا۔
کیو آر کوڈ ہوگا مزید مؤثر
نئے فیصلے کے تحت شناختی کارڈ پر موجود کیو آر کوڈ کو مزید بڑا اور جدید سیکیورٹی لے آؤٹ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ اس کو نادرا کی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے اسکین کر کے کسی بھی شہری کی شناخت کی فوری تصدیق کی جا سکے گی، چاہے انٹرنیٹ دستیاب ہو یا نہ ہو۔
پہلے سے جاری شدہ کارڈز کے کیو آر کوڈ کی اسکیننگ بھی ممکن ہوگی، جس سے لاکھوں شہری بغیر کارڈ تبدیل کروائے نئی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نادرا کا کہنا ہے کہ کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیق کو قانونی درجہ بھی دے دیا گیا ہے اور اس حوالے سے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔
فراڈ کی روک تھام اور بائیومیٹرک نظام میں بہتری
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام سے جعل سازی اور جعلی شناختی کارڈ کے خطرات کم ہوں گے۔ بائیومیٹرک نظام میں فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ شناختی عمل مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
سائبر سکیورٹی ماہر محمد اسد الرحمان کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل شناختی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ اور جدید فیچرز استعمال کیے جا رہے ہیں، اور پاکستان میں اس نظام کا نفاذ خوش آئند ہے۔ ان کے بقول آن لائن اور آف لائن تصدیق کی سہولت سے جعلی کارڈز کے ذریعے ہونے والے فراڈ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے تاحیات شناختی کارڈ
نادرا نے بزرگ شہریوں کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو تاحیات مؤثر سمارٹ شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کے عمل سے نجات ملے گی۔
نئے کارڈز کے مختلف زمرے
نادرا نے سمارٹ کارڈز کے نئے ڈیزائن بھی متعارف کروائے ہیں، جن میں:
بیرونِ ملک پاکستانی
بچے
معذور افراد
اعضا عطیہ کنندگان
شامل ہیں۔ تمام نئے فارمیٹس میں جدید سیکیورٹی خصوصیات کے ساتھ مؤثر کیو آر کوڈ لازمی جزو ہوگا۔
ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک قدم
نادرا کے مطابق اس اقدام سے شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی کے استعمال میں کمی آئے گی اور ڈیجیٹل تصدیق کو فروغ ملے گا۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت کاغذ کے استعمال میں کمی اور ڈیجیٹل نظام کی ترویج کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یکساں نوعیت کا قومی شناختی کارڈ جاری کرنا بھی ممکن ہو سکے گا، کیونکہ مائیکرو چِپ کے متبادل کے طور پر دیگر جدید تکنیکی خصوصیات استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
نتیجہ
چِپ کے خاتمے اور کیو آر کوڈ کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ پاکستان کے شناختی نظام میں ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف تصدیقی عمل آسان ہوگا بلکہ فراڈ کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تو یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل شناختی نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



